امریکہ کا اصل ٹارگٹ

امریکہ کا اصل ٹارگٹ
امریکہ کا اصل ٹارگٹ

  

امریکہ کی طرف سے بیانات کا نہ رکنے والا سلسہ شروع ہو چکا ہے ۔ ٹرمپ کاپاکستان کی امداد روکنے اور امریکی جنرل نکسن کے پشاور اور کوئٹہ میں دہشت گردوں کی پناہ گاہوں کے الزامات نے ہرپاکستانی کو سوچنے پر مجبور کردیا ہے کہ آخر ہم کب تک امریکہ کو برداشت کرتے رہیں گے؟ کوئی حد ہوتی ہے۔

ٹرمپ کے پاکستان کو امداد روکنے کی بات پر امرکہ کو دوٹوک جواب دیا گیا ہے، آرمی چیف قمر جاویدباجوہ نے واضح الفاظ میں کہاتھا پاکستان کو امداد نہیں اعتماد چاہئے۔اس کے بعد وزیر دفاع خواجہ آصف اور سابق وزیر داخلہ چودہری نثار نے بھی تمام امریکی الزمات کی مذمت کی ہے۔اس کے سا تھ ہی چند دن پہلے پاکستان کی قومی اسمبلی میں امریکی الزامات پر متفقہ مذمتی قراردا د کا پاس ہونا امریکہ بہادر کیلئے پاکستانی عوام کی طرف سے ایک کھلا جواب ہے۔ امریکہ بہادر اور اس کے اتحادی جمہوریت کا راگ الاپتے رہتے ہیں لیکن جس طرح وہ پاکستان کے داخلی معاملات میں مداخلت کرتا ہے اسکو جمہوری اقتدار کے تقدس کا خیال رکھتے ہوئے پاکستانی عوام سے معافی مانگنی چاہیے؟ وگرنہ دوسری جنگ عظیم کے مغربی ولن ہٹلر کو گزرے ہوے زیادہ عرصہ نہیں ہوا۔

جنرل نکسن کا کہنا ہے کہ امریکہ جانتا ہے کہ طالبان پشاور اور کوئٹہ میں موجود ہیں جو افغانستان میں امریکی افواج کے خلاف کارروائی کرتے ہیں ۔چلیں مان لیا کہ ان کی بات سچ ہے اور افغانستان میں امریکی اور اتحادی فوجوں کی شکست کی واحد وجہ پاکستان سے آنے والے طالبان ہیں تو جناب اس کا سیدھا سا حل ہے کہ پاک افغان سرحد پر باڑ لگا کر پاکستان سے افغانستان جانے والے جنگجووں کو ہمیشہ کیلئے روک دیا جائے۔

اگر امریکہ بہادر کو یاد ہو تو 2006 میں پاکستان کے سابق صدر مشرف نے پاک افغان بارڈر پر باڑ لگانے کی پیشکش کی تھی جس کو امریکی اور افغان حکومت نے یکسر مسترد کر دیا تھا ۔اس کے بعد سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے زبردستی باڑ لگانے کا سلسہ شروع کیا جس پر پاک اور افغان آرمی کی دو جھڑپیں بھی ہوئیں ۔بڑی مشکل سے پاک افواج نے خندق کھود کر ایک ہزار کلومیٹر سرحد کو افغان سے آنے والے پاکستان دشمنوں سے محفوظ بنا لیا۔ابھی بھی چودہ سو کلومیٹر پاک افغان سرحدی علاقہ بغیر باڑ کے موجود ہے ۔ویسے بھی امریکہ افغانستان میں وارآن ٹیرر پر ۱یک سو ارب ڈالر جھونک چکا ہے ! اگر تھوڑی دیر کے لئے امریکہ کے پاکستان پر موجودہ الزامات مان بھی لیے جائیں تو وہ سو ارب ڈالرز میں سے معمولی رقم پاک افغان سرحد پر لگا دیتا تو اس کا مسئلہ کب کا حل ہو چکا ہوتا ،مگر شائداس سرحد کے ذریعے امریکہ کا اصل ٹارگٹ پاکستان ہے۔

.

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ