گوادر کو پاکستان کا حصہ بنانے والے سابق وزیراعظم ملک فیروز خان نون کی آپ بیتی۔ ۔۔قسط نمبر 16

گوادر کو پاکستان کا حصہ بنانے والے سابق وزیراعظم ملک فیروز خان نون کی آپ ...
گوادر کو پاکستان کا حصہ بنانے والے سابق وزیراعظم ملک فیروز خان نون کی آپ بیتی۔ ۔۔قسط نمبر 16

  

اس طرح برطانوی انتظامیہ نے وفاداریوں کا ایک جال سا بچھا رکھا تھا جس کے تحت نہ صرف ملازموں کی وفاداری یقینی تھی بلکہ عوام کی حمایت بھی حاصل کی جاسکتی تھی۔ سرکاری ملازمت انتہائی اہم متصور ہوتی تھی کیونکہ یہ پیشہ گزراوقات کا ایک اچھا ذریعہ ہونے کے علاوہ دوسرے پیشوں کے مقابلہ میں سب سے زیادہ باعزت تھا۔ سرکاری ملازم حکومت کرتے تھے اور اس حیثیت میں تھے کہ اپنی صوابدید کے مطابق کچھ لوگوں کے ساتھ مراعات کریں اور کچھ لوگوں کو نقصان پہنچائیں۔ انگریز سول افسروں کے بارے میں ایک بات بہرحال ماننی پڑے گی۔ وہ بڈے ایماندار تھے اور کسی شخص سے کسی طرح کا تحفہ قبول نہ کرتے تھے۔ ایک بار میں مرحوم نواب مبارزخاں ٹوانہ کے ہاں قیام کی غرض سے شملہ گیا۔ شاہ پور کا ڈپٹی کمشنر مسٹور اٹیکنس بھی چند ہفتوں کے لئے شملہ آیا ہوا تھا۔ ایک دن نواب صاحب اس سے ملنے گئے اور چاندی کا ایک ٹی سیٹ بطور نذر ساتھ لیتے گئے۔ مسٹر اٹیکنس نے ٹی سیٹ کی بہت تعریف کی۔ یہاں تک کہ اپنی بیوی کو بھی بلایا کہ وہ بھی دیکھے اور داد دے۔ اس کے بعد انہوں نے ہمیں چائے پیش کی اور جب ہم لوگ رخصت ہونے کے لئے اٹھے تو انہوں نے وہ ٹی سیٹ معذرت کے ساتھ نواب صاحب کے ساتھ میں دے دیا اور بولے کہ سرکاری ضوابط کے تحت ہمیں اسے قبول کرنے کی اجازت نہیں۔ یہی مسٹر اٹیکنس ریٹائر ہونے کے بعد امرتسر میں جذام کے مریضوں کے ایک شفاخانہ میں سپرنٹنڈنٹ مقرر ہوئے اور ان کی دو بیٹیاں وہیں ایک ہسپتال میں نرس بن گئیں، جو میری رائے میں ہندوستانی عوام کی بہترین خدمت تھی۔

گوادر کو پاکستان کا حصہ بنانے والے سابق وزیراعظم ملک فیروز خان نون کی آپ بیتی۔ ۔۔قسط نمبر 15  پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

اس وقت میری عمر 14پندرہ سال کی ہوگی اور پہاڑ پر آنے کا یہ میرا پہلا موقع تھا۔ ایک روز شملہ میں مَیں نواب مبارزخان کے ساتھ مال پر سے گزررہا تھا کہ میں نے اُن سے کہا ’’چاچاجی! ذرا ان عورتوں کو دیکھیے۔ مردوں کی طرح پگڑی باندھے پھررہی ہیں۔‘‘ اس سے پہلے میں نے پہاڑی عورتوں کو نہیں دیکھا تھا جو اپنے دوپٹے پگڑی کی طرح سر پرلپیٹے رکھتی تھیں۔ نواب مبارزخان نے مجھے جھڑکتے ہوئے کہا ’’تم نامحرم عورتوں کی طرف دیکھتے ہی کیوں ہے؟ آنکھیں نیچی رکھو۔‘‘

1900ء اور 1914ء کے زمانے میں افسر شاہی انتہائی مضبوط اور عملاً اس ملک کی حکمران تھی۔ یہ وہ دن تھے جب ایک روپیہ واقعی ایک روپیہ تھا۔ فارم کے ایک خواندہ منیجر کی تنخواہ تین روپے ماہوار ہوا کرتی تھی۔ کھانا، ہر چھ ماہ بعد گاؤں کے بنے ہوئے جوتے کا ایک جوڑا اور سفید سوتی کپڑے کا ایک جوڑا۔ جس میں ایک لاچا، ایک قمیض اور ایک پگڑی شامل تھی۔ نقد تنخواہ کے علاوہ تھا۔ گاؤں میں گھریلو ملازم کی تنخواہ کھانے کے علاوہ تھا۔ گاؤں میں گھریلو ملازم کی تنخواہ کھانے کے علاوہ ایک روپیہ مہینہ تھی۔ تین روپے میں ایک ایکڑ قابل کاشت زمین خریدی جاسکتی تھی۔ میرے والد نے حکومت کے سوا کسی اور سے کوئی قطعہ اراضی نہیں خریدا۔ صوبائی ملازمت میں ان کی تنخواہ ابتداً صرف ڈھائی سو روپیہ ماہوار تھی اور یہ وہ اعلیٰ ملازمت تھی جس کے دروازے ہندوستانیوں پر کھلے تھے۔

مجھے یاد ہے کہ گاؤں کے بنیے منگورام کی بیوی ایک بار میری والدہ سے بات چیت کے دوران کہہ رہی تھی ’’ملکنی! تمہارے شوہر مہینہ کے ڈھائی سو روپے کس طرح خرچ کردیتے ہیں؟ چاندی کے اتنے روپے اگر میں اپنی دکان میں بچھاؤں تو سارا فرش بھرجائے!‘‘ مجھے یہ بھی یاد ہے کہ ایک بوڑھا ملازم والد صاحب سے باتیں کرتے ہوئے کہہ رہا تھا ’’لیلہ لیا اون نوں، الٹی چری کپاہ‘‘ یعنی ایک آدمی نے دنبہ خریدا کہ اس سے اون ملے گا، لیکن دنبہ اون تو کیا دیتا الٹی کپاس چرگیا۔ اس کے کہنے کا مقصد یہ تھا کہ میرے والد روپیہ بچانے کے لئے تو ملازم ہوئے تھے اور وہ کھیتوں کی آمدنی بھی اپنی ذات پر صرف کررہے ہیں۔ ہمارا چار ہزار ایکڑ کا فارم تھا جس میں آبپاشی کے لئے ہماری ا پنی سیلابیں تھیں۔ گندم کی قیمت ان دنوں ڈیڑھ روپیہ من تھی۔ اب کھلی منڈی میں 30روپیہ من ہے حالانکہ سرکاری قیمت پونے سترہ روپیہ من ہے۔ اس وقت کپاس کی قیمت پانچ روپے من تھی۔ اس کے مقابلہ میں آج کی قیمت 35روپے من ہے۔ ان دنوں نوٹ نہیں چلتے تھے۔ ایک روپیہ کے سکے میں آٹھواں حصہ دوسری دھاتوں کی ملاوٹ ہوتی تھی باقی کھری چاندی ہواکرتی۔ دیہاتی ان سکوں کو زیورات کے لئے پگھلالیتے تھے۔ کھری چاندی کے زیور کے لئے سنار پر اعتبار کرنے سے زیادہ سستا کام یہی تھا۔ دولتمند لوگ یا تو زمیندار ہوتے تھے یا لنکاشائر (انگلینڈ) کے لٹھے کے بیوپاری ۔ہمارا روپیہ لوہے کی تجوریوں میں بندزنان خانہ میں محفوظ رہتا تھا۔ اسے ہزار ہزار کے حساب سے کپڑے کی الگ الگ تھیلیوں میں رکھتے تھے اور چابی فارم کے دفتر میں ہوتی تھی۔

ہمارے ضلع میں 1900ء کے لگ بھگ ریل گاڑی چلائی گئی، اس سے پہلے لوگ لاہور جانے کیلئے گھوڑے استعمال کرتے تھے اور یہ ایک سو میل کا سفر تقریباً ایک ہفتہ میں طے ہوتا تھا۔ لوگ اپنے کنبہ والوں کو اس طرح خدا حافظ کہتے تھے جیسے ممکن ہے کہ انہیں پھر دیکھنا نصیب نہ ہو کیونکہ ڈاکو اور قاتل سارے علاقے میں پھیل ہوئے تھے۔

1902ء میں میرے و الد نے مجھے اور میرے بھائی علی کو سکول میں داخل کرنے کا فیصلہ کرلیا اور ہمیں 10میل دور قصبہ بھیرہ میں بھیج دیا گیا۔ انگلینڈ کے گریمر سکولوں کی طرح وہاں ایک پبلک سکول تھا جو حکومت کی امداد سے چلتا تھا اور اس میں 10دسویں تک تعلیم دی جاتی تھی۔ سکول میں کوئی بورڈنگ ہاؤس نہ تھا۔ اس لئے ہم نے ایک قریبی مکان میں رہائش اختیار کی۔ جو ہمارے خاندان کے سربراہ ملک حاکم خان نون کی ملکیت تھا۔ ان کے بیٹے ملک سلطان علی نون اور پوتے ملک محمد شیر اور گل شیر بھی ہمارے ساتھ پڑھنے کیلئے گئے۔ یہ دونوں موضع کوٹ حاکم خان میں رہتے تھے، ہفتہ کے روز ہم لوگ اپنے اپنے ٹٹوؤں پر سوار ہوکر گھر آجاتے اور پھر پیر کو علی الصبح بھیرہ روانہ ہوجاتے۔

گرمیوں کی ایک صبح کا ذکر ہے، میں سردار پور نون سے اپنے چچا سلطان علی نون کو لے کر آرہا تھا کہ ایک ملازم نے جو میرے پیچھے تھا، شور مچادیا ’’سانپ! سانپ! سانپ!‘‘ میرا ٹٹو پیشاب کرنے کے لئے رُک گیا تھا۔ فراغت کے بعد وہ جونہی آگے بڑھا کھیت میں چھپے ہوئے سانپ نے اسے کاٹ لیا۔ سانپ کو لاٹھی سے ہلاک کردیا گیا۔ گرمیوں میں اکثر بیل، گائیں اور بھینسیں کھیتوں میں چرتے وقت سانپ کے کاٹے سے ہلاک ہوجاتی تھیں ۔ بہرحال سانپ اب اس کثرت سے نظر نہیں آتے۔

مجھے اپنے ایک استاد یاد ہیں جو بڑے ٹھسے سے رہتے تھے۔ وہ سفید براق کرتا اور خوب ڈھیلا ڈھالا پاجامہ پہنتے تھے۔ سرپر بڑی سی پگڑی ہوتی تھی۔ وہ پاؤں اوپر اٹھالیتے ۔ گھٹنے میز کے ساتھ ٹکادیتے اور کرسی کے پچھلے یا پایوں کے سہارے آگے پیچھے جھولتے رہتے تھے۔ ایک دن موصوف کچھ زیادہ ہی جھول گئے اور پیچھے کی طرف لڑھک کر دیوا سے لگ گئے۔ اب کوشش کے باوجود ان کی کرسی سیدھی نہیں ہورہی تھی۔ ہم سب لڑکے چند ثانیوں کے لئے بالکل بھونچکاسے رہ گئے۔ ہمیں ا ن کی اس عجیب و غریب حالت پر خوشی بھی ہورہی تھی۔ ماسٹر صاحب کی پگڑی ان کے سر سے پھسل کر زمین پر جاپڑی تھی اور اس وقت ہم پر یہ حقیقت منکشف ہوئی کہ حضرت پورے گنجے ہیں۔ ان کی داڑھی کا رُخ چھت کی طرف تھا اور دونوں بازو مجبوری کے عالم میں لہرارہے تھے۔ کلاس نے کچھ دیر تو انہیں اسی حال میں مبتلا رہنے دیا لیکن بالآخر دو بڑے لڑکے ان کی مدد کو پہنچے۔ اس کے بعد سے ان کا کرسی پر جھولنا بند ہوگیا۔ ان کے بارے میں ایک حکایت مشہور تھی کہ کسی زمانہ میں انہوں نے ایک طالبعلم کو دودھ لانے کے لئے بھیجا۔ لڑکے نے راستے میں آدھا دودھ پی لیا اور کنویں کی منڈیر پر رکھی ہوئی بالٹی میں سے پانی نکال کر گلاس بھرلیا۔ اس نے جلدی میں یہ نہ دیکھا کہ گلاس میں ایک ننھا سا مینڈک بھی آگیا ہے۔ دودھ پینے کے بعد استاد صاحب کو گلاس کی تہہ میں مینڈک نظر آیا تو انہوں نے بپھر کر لڑکے سے کہا ’’دیکھو، دودھ میں سے یہ مینڈک نکلا ہے‘‘ لڑکے نے معصومیت سے جواب دیا:

’’جناب عالی! آپ نے جو مجھے دونی دی تھی، اس میں اونٹ تو آنے سے رہا۔‘‘

بھیرہ ان دنوں ایک چھوٹا سا قصبہ تھا اور اس کی آبادی پانچ یا چھ ہزار ہوگی۔یہ قصبہ دریائے جہلم کے کنارے واقع تھا کیونکہ انگریزوں کی آمد سے پہلے سر کا واحد محفوظ ذریعہ دریا کا راستہ ہی تھا اس لئے دریا کے کنارے جو قصبات ہوتے وہ خاص اہمیت رکھتے تھے، خاص طور پر تاجرون کے لئے لیکن انگریزوں نے جب سڑکیں بنائیں اور ریل کی پٹڑیاں بچھائیں تو یہ قصبے اپنی پہلی سی اہمیت کھوبیٹھے اور اجڑنے لگے۔ 1900ء اور 1912ء کے درمیان شاہ پور کے پورے ضلع میں بھیرہ سب سے بڑا قصبہ تھا۔ ایک دن میں گاؤں سے واپسی پر ٹٹو پر سوار قصبہ کے بازار سے گزرا تو میری نظر ایک شخص پر پڑی جو اپنے گندے پاؤں سے ریوڑیوں کے لئے لوئی گوندھ رہا تھا۔ اس نے دونون ہاتھوں سے دیوار کا سہارا لے رکھاتھا۔ ریوڑی ایک مٹھائی ہے جسے بچے شوق سے کھاتے ہیں۔ اس کا ذائقہ ٹافی کی طرح ہوتا ہے۔ خوب کراری ہوتی ہے اور اس کے اوپر تل چپکائے جاتے ہیں۔ اس آدمی کے ایک ساتھی نے گندھی ہوئی لوئی کو ایک موٹی رسی کی شکل میں بٹ لیا تھا اور اس کے دونوں سروں کو ہاتھ میں پکڑ کر کچی دیوار میں ٹھنکی ہوئی موٹی سی کیل پر پوری طرقت سے مارتا تھا۔ جب رسی نما لوئی کیل میں پھنس جاتی تو وہ اسے زور سے کھینچ کر لمبا کرتا۔ اس کے بعد وہ لوئی کو کیل سے نکال کر وہی عمل پھر دہراتا۔ دیوار نہایت گندی تھی اور اس پر لاکھوں مکھیاں چپکی ہوئی تھیں۔ یہ دیکھ کر مجھے اس مٹھائی سے اتنی نفرت ہوئی کہ پھر کبھی نہیں کھائی۔

قصبے میں ہمارے گھر کا راستہ ایک تنگ گلی میں سے ہوکرگزرتا تھا، لیکن ادھر سے جاتے ہوئے ہمیں ہمیشہ ڈر لگتا کیونکہ گلی کی ایک عمارت کی بالائی منزل میں ایک پاگل رہتا تھا۔ جس کے بال الجھے ہوئے تھے اور داڑھی ہمیشہ لہراتی رہتی تھی۔ ہمارا نوکر ہمیں ڈھارس دلاتا کہ ڈرنے کی ضرورت نہیں کیونکہ وہ زنجیروں میں جکڑا ہوا ہے لیکن ہمارا ڈر دور نہ ہوا۔ وہ بالکل مادر زاد ننگا رہتا تھا۔ اس کی کوٹھڑی بہت تنگ تھی اور اس میں باہر سے کھانا پھینک دیا جاتا تھا۔ بھنگی اس کی کوٹھڑی کی صفائی اس طرح کرتا جیسے کتے کی جگہ صاف کی جاتی ہے۔ پاگل خانے اس زمانہ میں نہیں تھے۔ ہر کنبہ کو اپنے دفاعی مریض کی ذمہ داری خود اٹھانی پڑتی تھی۔

شہر میں سب سے زیادہ بااختیار لوگ پولیس سب انسپکٹر اور تحصیلدار ہوتے تھے لیکن سب سے بااثر شخصیت ڈاکٹر کی تھی اور اس کے بعد ہیڈماسٹر کی۔ میرے زمانے میں ریاضی کے ایک ماسٹر صاحب سزا کے معاملے میں بہت مشہور تھے۔ جو لڑکے سوال نہیں کرتے تھے وہ ان کی انگلیوں کے درمیان پنسل رکھ کر سختی سے دباتے یا کان کی لو کو انگوٹھے اور ایک انگلی کے درمیان لے کر زور سے مسل دیتے۔ لڑکے مارے تکلیف کے بلبلا اٹھتے لیکن کسی کی ہمت نہ تھی کہ شکایت کرتا۔(جاری ہے )

گوادر کو پاکستان کا حصہ بنانے والے سابق وزیراعظم ملک فیروز خان نون کی آپ بیتی۔ ۔۔قسط نمبر 17 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : فادرآف گوادر