داڑھی والی سکھنی نے مردوں کو بھی داڑھیاں گھنی اور چمکدار بنانے کا طریقہ بتانا شروع کردیا

داڑھی والی سکھنی نے مردوں کو بھی داڑھیاں گھنی اور چمکدار بنانے کا طریقہ ...
داڑھی والی سکھنی نے مردوں کو بھی داڑھیاں گھنی اور چمکدار بنانے کا طریقہ بتانا شروع کردیا

  

لندن(ڈیلی پاکستان آن لائن)ناک میں سونے کی نتھ ،بھنویں ترشی ہوئیں،آنکھوں میں کجرا،لبوں پر سرخی ،سر پر کڑھائی دارسرخ دوپٹہ اور گلے میں سولہ سنگھار۔۔۔ مگر چہرے پر مردوں جیسی داڑھی دیکھ کر پہلے تو لوگ اسکو کوئی ڈرامہ ایکٹر ہی سمجھتے ہیں لیکن یہ کوئی نقلی کردار نہیں بلکہ برطانیہ کی ایک سکھنی ہرنام کور ہے جسے عورتوں کے ایک مخصوص مرض پی او ایس کی وجہ سے چہرے اور پورے بدن پر بالوں کے ساتھ زندگی گزارنا پڑ رہی ہے۔

ہرنام کور حقیقت میں اندر سے نازک اندام سی سکھ لڑکی ہے لیکن کوئی بھی جب اسکے چہرے اور سینے پر گھنے بالوں کو دیکھتا ہے تواسکو سخت گیر خاتون سمجھتاہے۔ چھبیس سالہ ہرنام کور نے اس مرض کے سامنے ہار ماننے کی بجائے اسکو اپنی طاقت بنا لیا ہے اور اب وہ ہر ایسی لڑکی کوجو چہرے پر مردوں کی طرح بال اگ آنے پر دلبرداشتہ ہوجاتی ہے اسکی نفسیاتی تھیراپی کرتی ہے۔

برطانیہ میں جنم لینے والی ہرنام پہلے ایک سکول میں اسسٹنٹ پروفیسر تھی اور شروع میں شیو بھی کرتی تھی لیکن روز روز کی اس تکلیف دہ مشقت سے تنگ آکر اس نے مرد سکھوں کی طرح روپ دھار لیا تو اس کی توقع کے برعکس اسکی زندگی ہی بدل گئی۔وہ سکول ٹیچر کی بجائے ماڈل اور فوڈ سپیشلسٹ بن گئی ۔

ہرنام کور کو اب اپنی داڑھی سے بڑا پیار ہے اور اسکو چمکانے ،گھنا بنانے اور دراز کرنے کے لئے وہ بڑی محنت کرتی ہے۔جو وقت اسکو چہرے کا بناؤ سنگھار کرنے میں لگتا تھا ،اب یہ وقت وہ اپنی داڑھی کو دیتی ہے۔ہرنام کور کاکہنا ہے ’’ میرے دوستوں کو میری داڑھی سے اتنا ہی پیار ہے جتنا مجھ کو ۔۔میں اپنی داڑھی کو کئی طرح کے ہربل آئلز سے پروان چڑھاتی ہوں ۔جن لڑکیوں کے چہروں پر داڑھی اُگ آتی ہے وہ مجھ سے مشورہ لیتی ہیں حتٰی کہ مرد بھی ،تو میں ان کو مفید مشورے دیتی ہوں۔اس کے لئے میں نے اپنا ایک خاص برانڈ آئل بھی بنا رکھا ہے جس کی کافی سیل ہے‘‘

مزید : ڈیلی بائیٹس