سی پیک کی ضروریات کے مطابق مصنوعات تیار کر رہے ہیں

سی پیک کی ضروریات کے مطابق مصنوعات تیار کر رہے ہیں

انٹرویو : نعیم الدین ، غلام مرتضیٰ

تصاویر : عمران گیلانی

تعارف : سید فرخ رضا عالم ایل جی الیکٹرونکس کے ہیڈ آف B2B اینڈ RAC مارکیٹنگ ہیں اور مارکیٹنگ کے شعبے میں ان کی شخصیت کسی تعارف کی محتاج نہیں ۔وہ ایل جی الیکٹرونکس کو پاکستان میں ایک نئی جہد اور توانائی کے ساتھ متعارف کروانے کیلئے شبانہ روز سرگرم عمل ہیں اور بہت کم وقت میں انہوں نے مارکیٹنگ کے حوالے سے اپنی بے پناہ صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے ۔ روزنامہ پاکستان نے ان سے خصوصی نشست کا اہتمام کیا ہے جس کا احوال قارئین کی نذر ہے۔

بزنس پاکستان : ایل جی پاکستان میں آپ کی کیا ذمہ داریاں ہیں ؟

سید فرخ رضا عالم: میں پاکستان میں ایل جی B2B کے کاروبار کو دیکھ رہا ہوں، ہماری پوری ٹیم لاہور میں ہے اور اس کام کو سرانجام دے رہی ہے۔ ایل جی پاکستان کا ہیڈآفس بھی لاہور میں ہے، ہماری ٹیم کمرشل ایئرکنڈنشنگ، چلر، VRFسسٹم اور دیگر اپلائنسز کی فروخت کیلئے کام کرتی ہے۔ عموماً شاپنگ سینٹرز اور مختلف صنعتوں میں ہماری پروڈکٹس استعمال کی جاتی ہیں۔ ٹیکسٹائل ، آئل اینڈ گیس،مینوفیکچرنگ انڈسٹریز اور دیگر صنعتوں میں ہماری پروڈکٹس کی کافی طلب ہے۔ ایل جی کے چلرز اس وقت مارکیٹ میں نمبر ون تصور کیے جاتے ہیں۔ لیکن بدقسمتی ہمارے ملک میں گیس کی فراہمی کی جو صورتحال ہے اس کی وجہ سے مارکیٹ گیس چلر کے بجائے الیکٹرونک چلر کو ترجیح دے رہی ہے۔ ایل جی کے چلر عموماً انڈسٹریل یونٹس میں استعمال کیے جاتے ہیں ، اب کیونکہ ٹیکسٹائل سمیت دیگر صنعتی شعبوں کے اپنے پاور یونٹس ہیں، اس لیے وہ بجلی سے چلنے والے چلرز کو فوقیت دے رہے ہیں۔

بزنس پاکستان : ایل جی کا کس ملک کی کمپنیوں سے زیادہ مقابلہ ہے ؟

سید فرخ رضا عالم: ہمارا زیادہ مقابلہ چین اور جاپان کے ساتھ ہے لیکن کیونکہ جاپان کی زیادہ پروڈکٹس مارکیٹ میں متعارف نہیں کروائی جاتیں یا وہ بھی زیادہ تر اشیاء چین میں تیار کرواتے ہیں، اس لیے کہا جاسکتا ہے کہ ہمارا مقابلہ اس وقت چینی مصنوعات سے ہے وہ جاپان پرودکٹس جو چین میں تیار ہوتی ہیں اور وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ یہ ہماری پروڈکٹس ہیں لیکن اصل حقیقت یہ ہے کہ وہ مصنوعات جاپان سے نہیں بلکہ چین سے بن کر آرہی ہیں اس کے برعکس اگر ایل جی یہ دعویٰ کرتا ہے کہ ہمارے پروڈکٹس کو ریا سے بن کر آرہی ہیں تو اس دعوے میں صداقت ہے کیونکہ ہماری تمام مصنوعات کوریا میں ہی تیار کی جاتی ہیں۔ ایل جی کی پوری دنیا کے کئی ممالک میں اپنی فیکٹریاں ہیں اور وہاں ایل جی کی اپنی نگرانی میں کام جاری ہے۔ مذکورہ فیکٹریوں میں ایل جی کے اپنے انجینئرز کام کررہے ہیں ، جن میں کورین اور چینی انجینئرز شامل ہیں۔ چلر کے علاوہ ایل جی کی سب سے زیادہ فروخت ہونے والی پرودکٹ ’’وی آر ایف‘‘ ہے۔ ملٹی وی فائیو ہماری کرنٹ پروڈکٹ ہے۔ ملٹی ویری ایبل فلو (Multi Veriable Flow) اس پروڈکٹ کا تعلق کمرشل ایئرکنڈیشننگ سے ہے۔ اس کا آغاز 10 ٹن سے ہوتا ہے اور عموماً یہ پروڈکٹ ملٹی اسٹوری بلڈنگز یا چھوٹی عمارتوں میں نصب کی جاتی ہے جبکہ اس کی استعداد کار 10 سے 20 ہارس پاور تک ہوتی ہے۔ اور ملٹی وی فائیو کو ہم 25 ہارس پاور تک لے کر گئے ہیں۔

بزنس پاکستان : آپ ایل جی کے B2Bبزنس کے بارے میں کچھ بتائیں ؟

سید فرخ رضا عالم: ایل جی نے اپنے کاروبار کو دو حصوں میں تقسیم کیا ہوا ہے۔ ایک ’’B2B ‘‘ اور دوسرا ’’B2C‘‘ بزنس ، ایل جی کے ’’B2C ‘‘ بزنس کنزیومر پروڈکٹس سے ہے، جیسے ٹی وی، فرج، واشنگ مشین اور دیگر ہوم اپلائنسز شامل ہیں۔ جبکہ B2B بزنس کا تعلق ایل جی کی کمرشل پروڈکٹ سے ہے، جس کے تحت ہم کارپوریٹس کو ہدف بناتے ہیں، اس شعبے میں ہم پورے پاکستان کی صنعتوں پر فوکس کرتے ہیں۔ جس میں ٹیکسٹائل ، سیمنٹ اور دیگر صنعتی شعبے شامل ہیں۔ ایل جی کا اصل ہدف ٹیکسٹائل سیکٹر ہے، جس پر ہم بھرپور توجہ دے رہے ہیں۔ B2B بزنس کو بھی ہم نے مزید تقسیم کیا ہے ، جس میں سے ایک ہے ’’B2B ‘‘ اے ای جس کا تعلق ایئرکنڈیشنز یا چلرز سے ہے، دوسرا شعبہ ہے ’’ہوم انٹرٹینمنٹ‘‘ جس کو ہم ’’ B2B‘‘ ایچ ای کہتے ہیں۔ جس میں کمرشل استعمال کیلئے بنائے جانے والے ٹی وی سیٹ ہیں، ایک عام ٹی وی 7 تا 8 گھنٹے تک چل سکتا ہے، جبکہ کمرشل ٹی وی 18 گھنٹے سے زائد تک چل سکتا ہے۔ جو زیادہ تر ہوٹلز، لابیزاور دیگر کمرشل جگہوں پر استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ فریج اور دیگر مصنوعات ہیں جن کو ہم درآمد کررہے ہیں۔ اس کے علاوہ سولر پاور میں ایل جی اس وقت لیڈ (Lead) کررہا ہے۔ اس شعبے میں ہمیں متعدد ایوارڈز مل چکے ہیں۔ جرمنی میں منعقدہ نمائش میں ایل جی کے سولر سسٹم کو اسکے ڈیزائن پر نمبرون ایوارڈ سے نوازا گیا ہے۔

بزنس پاکستان : سی پیک کی وجہ سے کیا آپ سمجھتے ہیں کہ ایل جی کو ایک زبردست مقابلہ کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے؟

سید فرخ رضا عالم: آپ نے دیکھا ہوگا کہ سی پیک کی وجہ سے تعمیرات کا کام بہت تیزی سے جاری ہے۔ ایل جی کےB2B بزنس میں انہی چیزوں پر توجہ دی جارہی ہے جن کا تعلق بڑے پروجیکٹس سے ہے۔ ہماری کمپنی کا اصل ویژن ’’B2B‘‘ بزنس ہے۔ اور اس شعبے میں ایل جی اپنی ترقی کا مستقبل دیکھ رہی ہے۔ سی پیک کے تحت جتنی تعمیرات ہورہی ہیں، ایل جی بھی اسی رفتار سے سے اپنی مصنوعات کو وسعت دے رہا ہے۔ مثال کے طور پر ہم نے بلٹ ان ٹی وی اور ریفریجریٹرز تیار کیے ہیں جو پہلے ہی پوری دنیا میں کامیابی کے جھنڈے گاڑھ چکے ہیں۔ مذکورہ مصنوعات جگہ کی کمی کو پیش نظر رکھتے ہوئے بنائی گئی ہیں جو باآسانی نصب کی جاسکتی ہیں۔ بلٹ ان (Built in) کا مطلب یہ ہے کہ وہ مصنوعات نظر نہیں آرہی ہیں، لیکن جیسے ہی آپ کو ان کی ضرورت ہوگی وہ دستیاب ہوجائیں گی۔ ’ایمار‘‘ کا رہائشی اور کمرشل پروجیکٹ جو سی ویو پر تعمیر ہورہا ہے، اس پروجیکٹ کے پانچ کمرشل ٹاورز ہیں جن میں ایل جی ایئرکنڈیشننگ یونٹس ’’وی آر ایف‘‘ اے ای نصب کیے جائیں گے۔ بحریہ کے ساتھ ہم نے ابھی حال ہی میں ایک پروجیکٹ کیا ’’اوشین ٹاور‘‘ کے نام سے ہمارے یونٹس وہاں انسٹال ہورہے ہیں۔ بحریہ ٹاؤن کراچی میں ہمارا 30 کلو واٹ کا سولر سسٹم لگایا جارہا ہے جبکہ لاہور کے مختلف پروجیکٹس پر بھی ہم کام کررہے ہیں ۔ ایل جی کے پاس ون ونڈ سلوشن ہے، اگر کسی صارف کو موبائل فون ، ٹی وی ، فرج یا دیگر الیکٹرونکس پروڈکٹس چاہیے ہیں تو وہ انہیں ایل جی پر دستیاب ہوں گی۔ صارف کو ادھر ادھر بھاگنا نہیں پڑے گا

بزنس پاکستان : ایل جی کا ’’ B2C ‘‘ اورB2B بزنس میں کتنا مارکیٹ شیئر ہے ؟

سید فرخ رضا عالم: ایل جی کا ’’بی ٹو سی ‘‘ بزنس کا مارکیٹ شیئر زیادہ نہیں ہے یا یوں کہہ لیں کہ کم ہوگیا ہے۔ جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ ایل جی کی بنیاد ہی الیکٹرونکس ہے، کچھ حالات و واقعات ایسے پیش آئے کہ پاکستان میں ایل جی کا جی ٹو سی کا شیئر کم ہوتا گیا۔ لیکن خوشی کی بات یہ ہے کہ ہم B2B بزنس کو توسیع دہے رہے ہیں۔ بی ٹو سی کاروبار کو بڑھانے کیلئے ہم پاکستان میں فیکٹری سیٹ اپ کی بھرپور کوشش کررہے ہیں۔ ایل جی ’’ایس کے ڈی ‘‘ فیکٹری کا سیٹ اپ پاکستان میں لگایا جارہا ہے تاکہ ہم پاکستان میں ہی اپنی بی ٹو سی پروڈکٹس کی مینوفیکچرنگ یا اسمبلنگ کرسکیں جبکہ ا یل جی کے ایئر کنڈیشنز اور واشنگ مشین کی اسمبلنگ کیلئے چند دیگر فیکٹریوں سے بات کررہے ہیں۔ ہمارا ارادہ ہے کہ ہم اپنا ایس کے ڈی پلانٹ پاکستان میں نصب کریں اور اپنی پروڈکٹس تیار کرکے کم قیمت پر فروخت کرسکیں ، پروڈکٹس درامد کرنے سے ان کی قیمت زیادہ ہوجاتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ درآمدی آئٹمز پر ڈیوٹی کا تناسب بہت زیادہ ہے اور کسی قسم کی سبسڈی نہیں دی جارہی ہے۔ ان تمام کو حل کرنے کیلئے ہماری انتظامیہ نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ ہم بہت جلد مقامی سطح پر اپنی مینوفیکچرنگ پلانٹ لگائیں گے اور کسی مقامی کمپنی کے ساتھ مل کر ان معاملات کو آگے بڑھائیں گے۔ ایل جی کی جانب سے پاکستان میں پلانٹ لگانے سے بیرونی سرمایہ کاری آئیگی اور مقامی لوگوں کو روزگار میسر آئے گا۔ یہ تمام چیزیں ہماری منصوبہ بندی کا حصہ ہیں۔ ہماری یہ منصوبہ بندی ہے کہ ایل جی کا پاکستان کی مارکیٹ میں 30 فیصد مارکیٹ شیئر ہے جس کیلئے ہم ہمہ وقت کوشاں ہیں۔ اسی حوالے سے ایک معاہدہ کیا ہے جس کے تحت ہاشو گروپ کے تمام ہوٹلز میں ایل جی کے ٹی وی اور چلرز لگائے جارہے ہیں اس کے علاوہ بھی ان کو کسی قسم کی پروڈکٹس کی ضرورت ہوگی تو وہ بھی ایل جی ہی انہیں فراہم کرسکے گی، اسکے علاوہ آواری ٹاورز، سرینا، موو این پک ا ور دیگر بڑے ہوٹلز سے ہمارے مذاکرات جاری ہیں جبکہ ہمیں توقع ہے کہ موو این پک سے بہت جلد معاہدہ طے پاجائے گا۔

بزنس پاکستان : ایل جی کا مقابلہ کن کمپنیوں سے ہے ؟

سید فرخ رضا عالم: ایل جی کا اصل مقابلہ سام سنگ سے ہے کیونکہ اس کمپنی اور ایل جی کا تعلق کوریا سے ہے جبکہ اس کے علاوہ لاتعداد چینی کمپنیاں ہیں جن کے ساتھ ہمارا مقابلہ ہے ، چینی کمپنیوں کا عموماً ایک خو ف ہوتا ہے، مارکیٹ میں کیونکہ وہ کم قیمت پر مصنوعات فروخت کرتے ہیں لیکن چینی کمپنیاں کوالٹی پر بہت زیادہ مصلحت کا مظاہرہ کرتے ہیں، صارف عموماً یہ چاہتا ہے کہ جو مصنوعات وہ خریدے، اس کی کوالٹی اچھی ہے اور وہ دیرپا ہو، اس لیے وہ اچھے برائٹ کو ترجیح دے گا، اگر وہ کم پیسہ لگا کر کوئی سستی چیز خرید رہا ہے تو وہ اس کو بارہا تبدیل کرے گا، زیادہ بہتر یہ ہے کہ کچھ زیادہ رقم دے کر ایک اچھا برانڈ خریدا جائے جو دیرپا ہو اور جس کا معیار بہتر ہو، یہاں پر ایک مثال دینا چاہوں گا۔ ایل ای ڈی سے قبل ایل جی کا CRTباکس ٹی وی ہوتا تھا، ایل جی نے وہ ٹیکنالوجی ختم کردی ہے، لیکن اتنا وقت گذر جانے کے باوجود وہ باکس ٹی وی لوگوں کے گھروں میں چل رہے ہیں کیونکہ اس ٹی وی کی پکچر ٹیوب ساؤنڈ اور میٹریل بہترین ہیں۔ دوسری جانب آپ چینی مصنوعات کو دیکھ لیں آپ چینی مصنوعات خرید کر لاتے ہیں ذرا سی بجلی اوپر نیچے ہوئی یعنی وولٹیج کم زیادہ ہوا وہ خراب ہوجائے گی۔ اگر آپ ان مصنوعات کا کوئی پرزہ لینے جاتے ہیں تو وہ اتنا مہنگا ہوتا ہے کہ آپ اس قیمت میں اس طرح کی دو پروڈکٹس خرید سکتے ہیں۔ مڈل ایسٹ میں ہمارا ٹی وی اور ایئرکنڈیشنز بلکہ موبائل فون نمبر ون ہے۔

بزنس پاکستان : آپ حکومت کو الیکٹرونکس مصنوعات کے حوالے سے کیا تجاویز دینا چاہتے ہیں ؟

سید فرخ رضا عالم: حکومت کو چاہیے کہ وہ مینوفیکچررز اور درآمد کنندگان کو سپورٹ کرے اور ایک ایسی پالیسی مرتب کی جائے۔ جس کے تحت ڈیوٹیز کی شرح ایسی رکھی جائے کہ اس کا سارا بوجھ عوام پر نہ پڑے بلکہ حکومت بھی اس میں حصہ دار بنے۔ ہوتا کچھ ایسا ہے کہ حکومت ریگولیٹری ڈیوٹی میں 40فیصد اضافہ کردیتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ڈیوٹی میں سیدھا سیدھا 60 فیصد کا اضافہ ہوگیا۔ یعنی درآمدات پر ڈیوٹی کا تناسب 100 فیصد سے تجاوز کرگیا اگر ڈیوٹی کی شرح 106 فیصد پر پہنچ جائے تو مصنوعات کی قیمت 100 فیصد بڑھ جائے گی ، حکومت کو چاہیے کہ وہ زرتلافی کے عمل کو بھی جاری رکھے۔

بزنس پاکستان : کیا آپ ملک کی صنعتی پالیسی سے اتفاق کرتے ہیں ؟

سید فرخ رضا عالم: پاکستان میں مزدوروں کو بنیادی سہولیات میسر نہیں ہیں، ان کا تنخواہوں کا نظام بہتر نہیں ہے، عموماً کمپنیوں نے اپنے ہی قوانین بنارکھے ہوئے ہیں جن کے تحت وہ صنعتوں کو چلارہے ہوتے ہیں، قصہ مختصر یہ کہ ایک ورکر کو کسی قسم کے فوائد حاصل نہیں ہیں۔ اسی کو دیکھتے ہوئے ایل جی نے کارپوریٹ سوشل رسپانسبیلٹی کا سلسلہ شروع کیا جس کے تحت گذشتہ 4 سال سے ہر سال اک ایسا پروجیکٹ کرتے ہیں، جس کی مالی اعانت ایل جی کو ریا کرتا ہے۔ ہر سال ایل جی کوریا کی انتظامیہ اپنی تنخواہوں کا کچھ فیصد donate کرتی ہے، جس کی پوری دنیا میں سماجی بھلائی کے کاموں پر خرچ کیا جاتا ہے۔ اسی حوالے سے تین سال کے دوران ہم نے تین پروجیکٹس کیے ، مانگا منڈی میں ایک ہسپتال کو سولرائز (Solarize) کیا اور وہاں 10 سے 15 کلو واٹ کا سولر سسٹم لگایا ، اسی طرح دو دیگر پروجیکٹس پر بھی کام کیا۔

بزنس پاکستان : سوات سمیت دیگر دور دراز علاقوں میں ٹیکس فری زونز قائم کیے جارہے ہیں، کیا ایل جی اس سے استفادہ حاصل کرنا چاہے گی ؟

سید فرخ رضا عالم: ان علاقوں میں سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ وہاں نقل و حمل پرلاگت زیادہ آئے گی جبکہ ہمیں وہاں skill labour نہیں مل پائے گا ، ہمیں ایسی جگہ اپنا سیٹ اپ لگانا ہے جہاں سے ہم باآسانی اپنے ڈیلرز تک رسائی حاصل کرسکیں

بزنس پاکستان : جیسا کہ آپ نے بتایا کہ آپ نے بلٹ اِن (Built-in)پروڈکٹس متعارف کروائی ہیں، اس کے علاوہ شعبہ صحت کیلئے بھی آپ نے پیوریفائر (Purifier)متعارف کروایا ہے، اس کے علاوہ ایل جی مزید کونسی پروڈکٹس متعارف کروانے کا ارادہ رکھتی ہے ؟

سید فرخ رضا عالم: ہم اپنے کنورٹر(Convertor) میں جو کمپریسر استعمال کررہے ہیں وہ بھی ایل جی کا ہی ہے، جبکہ دیگر برانڈز میں عموماچ کسی اور کمپنی کے کمپریسر لگائے جاتے ہیں۔ لیکن ہم اپنا کمپریسر بنارہے ہیں ایل جی الیکٹرونکس ایک کمپنی ہے اس کے علاوہ اس کی کئی ذیلی کمپنیاں ہیں۔ ہمارے تیار کردہ انورٹر (Ivnertor) میں بجلی کی 60 فیصد بچت ہے اور اس کو ہم اپنے اے سی، واشنگ مشینز اور دیگر پروڈکٹس میں استعمال کررہے ہیں، جبکہ ہم جلد ہی کچھ نئی پروڈکٹس بھی متعارف کروائیں گے جو مارکیٹ میں دستیاب دیگر پروڈکٹس کے مقابلہ میں زیادہ پائیدار ہونگی۔

بزنس پاکستان : ایل جی اور دیگر کمپنیاں پاکستان میں اپنی پروڈکٹس متعارف کروارہی ہیں کیا آپ سمجھتے ہیں کہ لوگوں کی قوت خرید میں اضافہ ہوا ہے، اسکے علاوہ کیا آپ آن لائن فروخت کیلئے بھی کوئی اقدام کررہے ہیں۔

سید فرخ رضا عالم: یقیناًلوگوں کی قوت خرید میں اضافہ ہوا ہے، ہم یہ نہیں کہہ رہے ہیں کہ ہم پوری مارکیٹ کو ٹارگٹ کررہے ہیں، کیونکہ ہمارا ایک برانڈ ہے اور اسکی اپنی ایک پریمئم قیمت ہے لیکن ہم کوشش کررہے ہیں کہ کسی حد تک اپنی پروڈکٹس کی قیمت کم کرسکیں، اسی لیے ہم اپنی پرودکٹس کو مقامی سطح پر تیار کرنے کی منصوبہ بندی کررہے ہیں تاکہ ایک عام صارف بھی ہماری مصنوعات خرید سکے، اور ایک اچھے برانڈ کو انجوائے کرسکے۔ آن لائن خریدوفروخت کے حوالے سے ایل جی دیگر کمپنیوں سے مذاکرات کررہی ہے۔ بی ٹو بی بزنس میں تو ہم نئی پروڈکٹس متعارف کروارہے ہیں جبکہ بی ٹو سی بزنس میں ہم مقامی سطح پر نئی پروڈکٹس متعارف کروانے کیلئے سرگرداں ہیں، اسکے علاوہ ہم چاہتے ہیں کہ ہمارا سروس نیٹ ورک بھی بہتر ہو۔ اسی لیے ہم بعد از فروخت خدمات کے شعبے کو بہتر کرنا چاہتے ہیں اور اسکے لئے کام کا آغاز کردیا گیا ہے۔

مزید : ایڈیشن 2