ناجائز قابضین پر مضبوط ہاتھ ڈالنا ہو گا

03 ستمبر 2018

وزیراعظم عمران خان نے پنجاب کے وزیراعلیٰ عثمان بزدار کو ہدایت کی ہے کہ قبضہ مافیا اور تجاوزات کے خلاف سخت ایکشن لیا جائے،وزیراعظم نے پنجاب پولیس کو سیاسی اثرو رسوخ سے بھی آزاد کرنے کا اعلان کیا ہے۔اُن کاکہنا تھا کہ پنجاب کو باقی صوبوں کے لئے مثال بننا ہو گا،انہوں نے وزراء کو بھی ہدایت کی کہ وہ اپنے اپنے محکموں میں سادگی اور کفایت شعاری کو شعار بنائیں، انہوں نے یہ ہدایات پنجاب کابینہ کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے دیں۔

سرکاری اور نجی زمینوں پر قبضوں کا کاروبار اِس قدر وسیع اور اتنے منظم پیمانے پر ہو رہا ہے کہ حیرت ہوئی ہے، ہر شہر میں بااثر لوگوں نے ایسے منظم گروہ بنا رکھے ہیں، جو اُن زمینوں کی ’’نشاندہی‘‘ کرتے ہیں،جن کے مالکان یا تو بیرونِ مُلک گئے ہوئے ہیں اور مُلک کے اندر اُن کے لواحقین اِس قابل نہیں کہ کسی بااثر گروہ کے مدمقابل کھڑے ہو سکیں، ہوتا یوں ہے کہ اچانک کسی پلاٹ کے مالک کو پتہ چلتا ہے کہ اس پر چند لوگ اسلحہ لے کر بیٹھے ہوئے ہیں، مالک جاکر پوچھتا ہے کہ یہ پلاٹ تو اُس کا ہے، تم کون ہو، وہ آگے سے جواب دیتے ہیں کہ ہمیں تو ’’مالک پلاٹ‘‘ نے یہاں متعین کیا ہے، تمہارے پاس اپنی جائیداد کی ملکیت کا کوئی ثبوت ہے تو اُن سے بات کرو۔ یوں اصل مالک دربدر اور ناجائز قابضین جائیدادوں کے مالک بن جاتے ہیں۔یہ لامتناعی سلسلہ جاری ہے،ناجائز قابضین ہر بڑے چھوٹے شہر میں موجود ہیں اور دھونس کے ذریعے ناجائز قبضہ کر کے بیٹھے ہوئے ہیں، یہاں تک کہ باقاعدہ سرکاری سکیموں میں بھی ناجائز قابضین نے عملے کے ساتھ مل کر یہ دھندا شروع کیا ہوا ہے،اس کی ایک بڑی مثال لاہور کی سکیم مصطفےٰ ٹاؤن ہے،جہاں لوگوں نے پلاٹ خرید کر مکان بنائے ہوئے ہیں،لیکن اندر خانے ایل ڈی اے کے ملازمین کے ساتھ مل کر جعلی کاغذات بنا کر فائلوں سے اصل مالک کے دستاویزات غائب کر دی جاتی ہیں اور اس کی جگہ قابضین کی جعلی دستاویزات رکھ دی جاتی ہیں۔ جس کے بعد جعلی مالکان قبضے کے لئے پہنچ جاتے ہیں، یہ سارا کاروبار بہت سے اداروں کی ملی بھگت سے ہوتا ہے۔

باقی شہروں کا تو ذکر ہی کیا لاہور جیسے شہر میں قبضہ گروپوں نے پولیس اور دوسرے متعلقہ اداروں کے ساتھ مل کر لوگوں کے پلاٹوں پر قبضہ کیا ہوا ہے، خاص طور پر ایسے لوگ اس زیادتی کا نشانہ بنتے ہیں، جو ناجائز قابضین کے مقابل طویل مقدمے بازی کی سکت نہیں رکھتے، پنجاب حکومت کو چاہئے کہ زمینوں کے ناجائز قبضے ختم کرانے کے لئے ایک مربوط پروگرام بنائے اور عدالتوں میں اس طرح کے مقدمات کی تفصیلات حاصل کر لے،ایسے ہزاروں کیس تو صرف لاہور شہر میں نکل آئیں گے جن کے مقدمات لوئر کورٹوں سے لے کر سپریم کورٹ تک زیر سماعت ہیں،ستم ظریفی یہ ہے کہ ناجائز قابضین تو پلاٹ یا زمین کے ذریعے حاصل ہونے والی آمدنی سے مقدمات لڑتے ہیں،جبکہ اصل مالک بیچارے اپنی ہی زمین کا قبضہ حاصل کرنے کے لئے عدالتوں میں مقدمات لڑنے پر مجبور ہوتے ہیں پھر بھی شنوائی کم کم ہی ہوتی ہے۔ایک عدالت میں اُن کے حق میں فیصلہ ہوتا ہے تو مقدمے کا دوسرا فریق اس کے خلاف اگلی عدالت سے رجوع کر لیتا ہے۔یوں اپیل در اپیل کا یہ چکر عشروں تک چلتا رہتا ہے،اپنی ہی جائیدادوں سے محروم بے نوا لوگ ساری زندگی اذیت میں گزار کر اگلے جہان کو سدھار جاتے ہیں،لیکن جائیداد کے حصول کا خواب شرمندۂ تعبیر نہیں ہوتا۔

ہاؤسنگ سیکٹر میں جو ڈویلپر بظاہر صاف ستھرا کاروبار کرتے نظر آتے ہیں اُنہیں بھی کوئی زمین پسند آ جائے یا اپنی کسی کالونی سے ملحقہ اراضی اُن کے کاروبار میں مفید ثابت ہوتی ہو تو وہ پہلے اسے خریدنے کی کوشش کرتے ہیں اگر مالک اراضی فروخت کرنے پر راضی ہو جائے تو من پسند قیمت دینے پر اصرار کرتے ہیں۔اگر وہ زمین فروخت نہ کرے تو دباؤ ڈال کر خریدنے کی کوشش کی جاتی ہے۔اگر پھر بھی کامیابی نہ ہو تو سیدھا سیدھا قبضہ کر لیا جاتا ہے اور مالک اراضی کو کہا جاتا ہے کہ اب تم اپنی زمین ڈھونڈتے رہو، ایسے مقدمات بھی سینکڑوں نہیں ،بڑی تعداد میں ہر شہر اور ہر صوبے کی عدالتوں میں زیر سماعت ہیں۔ کراچی میں بھی ایسے مقدمات چل رہے ہیں۔

وزیراعظم عمران خان نے اگرچہ قبضہ گروپوں کے خاتمے کی ہدایت فی الحال پنجاب کی حکومت کو کی ہے،لیکن کون سا صوبہ ہے جہاں قبضہ گروپ نہیں ہیں،سندھ اور کراچی کی سیاست میں تو عشروں تک تشدد کی جو سیاست ہوتی رہی اس کی بنیادی وجہ ہی زمینوں پر قبضے تھے۔’’چائنہ کٹنگ‘‘ کی اصطلاح نے بھی کراچی میں ہی جنم لیا،اِس کاروبار میں جو لوگ ملوث تھے وہ ناجائز زمینوں کی کمائی باہر بھیجتے رہے اور اس سے حاصل ہونے والی آمدنی سے کراچی کی سیاست کو یرغمال بنایا گیا، سپریم کورٹ میں اُن زمینوں پر قبضے کی صدائے باز گشت طویل عرصے تک سنائی دیتی رہی ہے،ناجائز قابضین نے تو جگہ جگہ ملٹی سٹوری بلڈنگیں بنا لی ہوئی ہیں اور وہ اتنے طاقتور ہیں کہ کوئی اُن کا بال بیکا نہیں کر سکتا،ریلوے کی اربوں روپے کی زمینوں پر قبضہ ہو چکا ہے، کراچی کی سرکلر ریلوے اسی لئے بحال نہیں ہو سکی کہ اس کے پورے ٹریک پر لوگوں نے مکان بنا لئے ہیں۔ سپریم کورٹ نے ایک عمارت گرانے کا حکم دیا تھا، جو ریلوے کی اراضی پر ناجائز طور پر تعمیر کی گئی تھی اور جس میں وہ لوگ رہ رہے تھے، جنہوں نے باقاعدہ قیمت ادا کر کے اِس عمارت میں فلیٹ خریدے تھے۔ یہ کسی ایک شہر یا کسی ایک بلڈنگ کی مثال نہیں ہے ناجائز قبضوں کا یہ سلسلہ اتنا بڑا طلسم ہوشربا ہے کہ اگر وزیراعلیٰ عثمان بزدار اپنے قائد کی ہدایت پر اِس سلسلے کو ختم کرنے میں کامیاب ہو گئے تو اُن کا یہ کارنامہ ہر دوسرے کارنامے پر حاوی ہو جائے گا،لیکن خدشہ یہ ہے کہ اگر وہ اِس کام میں پڑ گئے تو پھر اُنہیں کسی دوسرے کام پر توجہ دینے کی فرصت نہیں ہو گی،اس کے لئے پہلے پولیس فورس کی اصلاح کی بھی ضرورت ہو گی،کیونکہ پولیس کی مدد کے بغیر کسی جگہ نہ تو ناجائز قبضہ ہو سکتا ہے اور نہ اسے قائم رکھا جا سکتا ہے۔یہاں تک کہ پولیس عدالتی فیصلوں پر بھی عملدرآمد نہیں ہونے دیتی اور کمزور فریق پر دباؤ ڈال کر ’’راضی نامہ‘‘ کروا دیتی ہے، یہ ’’راضی نامے‘‘ کا کاروبار بھی بڑا نفع بخش کاروبار ہے،جس کا فائدہ ہمیشہ بااثر فریق کو ہوتا ہے اور نقصان کا سزاوار کمزور فریق ٹھہرتا ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے پولیس کو سیاسی دباؤ سے آزاد کرنے کی جو بات کی ہے اس کے لئے وہ مثال ہمیشہ صوبہ خیبرپختونخوا کی دیتے ہیں، صوبے میں ان کے اس نقطہ نظر سے اختلاف کرنے والے بھی موجود ہیں، تاہم پنجاب پولیس کو اگر سیاسی اثرو رسوخ سے آزاد کرنا ہے تو پولیس کے پورے کلچر کو بدلنے کے ساتھ ساتھ وی آئی پی کلچر کا خاتمہ کرنا ہو گا،جس کے لئے ممکن ہے کچھ دوستوں کو بھی ناراض کرنا پڑے جو خاصا مشکل کام لگتا ہے، پنجاب میں ایسے طبقات بڑی تعداد میں موجود ہیں، جو قانون کی خلاف ورزی اپنا حق سمجھتے ہیں، پولیس انہیں ناکوں پر روکے تو اوّل تو وہ رُکتے نہیں، رُک جائیں تو پولیس اہلکاروں کے ساتھ بدتمیزی سے پیش آتے ہیں،ممکن ہے ایسے معاملات میں پولیس بھی کہیں کہیں غلط ہو،لیکن ناکے پر روکنا تو کوئی ایسا گناہ نہیں ہے، جس کے جواب میں بے چارے پولیس والوں کو کوئی نام نہاد وی آئی پی تبادلے کی دھمکیاں دے اور اگر کوئی زیادہ بااثر ہو تو بالفعل راتوں رات تبادلے کرانے میں کامیاب بھی ہو جائے،ہم نے اکثر دیکھا ہے کہ اگر کوئی پولیس اہلکار کالے شیشے والی کسی گاڑی کو روکے اور اس گاڑی میں سے کوئی وی آئی پی برآمد ہو تو وہ اس جرم میں اس اہلکار کے تبادلے سے کم پر راضی نہیں ہوتا،حالانکہ اگر کوئی اہلکار قانون کے مطابق کارروائی کرتا ہے تو اس کی یہ کاوش لائقِ تحسین ہونی چاہئے،اتنی سی بات پر تبادلہ کر دینا یا کسی اہلکار کو طعن و تشنیع کا نشانہ بنانا درست نہیں،یہ دو کام جو وزیراعظم عمران خان نے پنجاب کے وزیراعلیٰ کے ذمے لگائے ہیں اگر اِن کا ایک چوتھائی حصہ بھی وہ کامیابی سے مکمل کر لیتے ہیں تو وہ پورے صوبے کے عوام کی تعریف و تحسین کے حق دار ہوں گے۔ اللہ کرے اُن سے وابستہ توقعات پوری ہوں۔

مزیدخبریں