بلی کب ماریں گے

بلی کب ماریں گے
بلی کب ماریں گے

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

نئی حکومت تشکیل پا چکی۔ زیادہ تر وہی پرانے لوگ نئے وزرا کے روپ میں سامنے آئے ہیں۔ تبدیلی یہی ہے کہ بہت سے لوگوں کو پیپلز پارٹی، مسلم لیگ (ق) اور مسلم لیگ (ن) کے کوڑا دانوں سے نکال کر انہیں تحریک انصاف کے حمام میں نہلا دھلا کر اجلا کردیا گیا ہے۔ مگر ان کی ہوس، ان کا لالچ، ان کی لوٹ مار کی عادتیں اورمصنوعی کروفر کا شوق کیسے ختم ہو گا۔اس لئے کہ فطرت بدل نہیں سکتی۔لیکن امید تو ہے اور اسی پر دنیا قائم ہے۔پہلے دس دن تو مایوسی میں ہی گذرے ہیں۔ ویسے بھی امیدیں زیادہ ہیں اور دس دن معمولی وقت۔میرے خیال میں نئی حکومت کو آتے پہلے دن ہی بلی مارنی ہوتی ہے تاکہ لوگوں میں تاثر پھیلے کہ آنے والے پورے زور شور سے آ رہے ہیں۔ مہا تیر کی بات کرنے والوں کو پتہ ہونا چاہیے کہ مہاتیر محمد نے اقتدار میں آتے ہی چوبیس گھنٹوں کے اندر کارروائی شروع کر دی تھی۔ وہ تمام کرپٹ عناصر جو ملک میں موجود تھے بشمول سابق وزیراعظم فوراً حراست میں لے لئے گئے تھے۔

وہاں لوگوں نے محسوس کیا تھا کہ کچھ تبدیل ہو رہا ہے۔ یہاں لوگ گن رہے ہیں۔ کہ نئے آنے والوں کے وعدے کے مطابق بہت کچھ ہونے میں پچانوے دن باقی ہیں، نوے دن باقی ہیں، یہ باقی کا کھیل چل رہا ہے۔ صرف پرائم منسٹر ہاؤس بدلا ہے۔ہیلی کاپٹر کے سوار بدلے ہیں۔ان پندرہ دنوں میں کوئی ٹھوس کام نہیں ہوا۔ مخالفین کے بقول چند رسوائیاں ضرور سمیٹی ہیں۔ مگر مخالفین کے پراپیگنڈے کا معقول جواب کوئی نظر نہیں آ رہا۔ جواب دیا بھی جاتا ہے تو احمقانہ۔ بہت سارے سوالوں کا جواب خاموشی ہوتا ہے ۔ فضول سوالوں کے فضول جواب دینے سے خاموشی بہتر ہے۔ حکومت کو اگر واقعی پانچ سال حکمرانی کرنا ہے تو پہلا کام تمام کرپٹ عناصر کو اپنے اور بیگانے کی تفریق کے بغیر ا ٹھا کر جیل میں ڈالنا ہے۔ یہی جرات حکومت کو دوام دے سکتی ہے اور یہی بات عوام کی امنگوں پر پوری اترتی ہے۔ آج عوام کی امنگوں کو اس قدر جگا دیا گیا ہے کہ تاخیر کی صورت میں عوام حکومتی بلی مار دیں گے۔

میرا آبائی گھر ماڈل ٹاؤن میں ہے۔ میرا ووٹ بھی وہیں ہے ۔ اس حلقے سے قومی اسمبلی میں شفقت محمود اور صوبائی میں مراد راس امید وار تھے۔ یہ دونوں غیر سیاسی قسم کے لوگ ہیں عوام میں ان کا رابطہ نہ ہونے کے برابر ہے ۔ کوئی غلطی سے ملنے چلا جائے تو اس قدر روکھے پھیکے انداز میں بات کرتے ہیں کہ دوبارہ ملنے کی خواہش نہیں رہتی ،اس لئے کوئی بھی کوشش نہیں کرتا۔وہاں سارا ووٹ تحریک انصاف کا تھا جس کے بل بوتے پر یہ جیتے ہیں۔ ان کا ذاتی ووٹ کوئی نہیں اس لئے یہ اچھے امیدوار نہیں تھے لیکن بہر حال وہ جیت گئے۔ ماشا اﷲ جناب شفقت محمود کو تعلیم کا قلمدان سونپا گیا ہے۔ میں دعویٰ سے کہتا ہوں کہ تعلیم میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔ روایتی قسم کے بیوروکریٹ ہیں۔ دفتری نظام تو بخوبی چلائیں گے مگر تبدیلی کے لئے جس ویژن اور جس سوچ کی ضرورت ہے وہ ان میں نظر نہیں آتی۔ یہ وہ صاحب ہیں جو پارٹی میں بہترین تصور کئے جاتے ہیں ۔ تو سوچئے باقی کا تو بس اﷲحافظ ہے۔ان سارے وزرا میں یہ خوبی ضرور ہے کہ وزیر اعظم عمران خان کے ساتھ راگ سے راگ ملا کر بہت شاندار انداز میں چلیں گے۔ اپنے طور پر کچھ کریں یہ ممکن ہی نہیں۔

حکومت کرپشن کے خلاف اقدامات کا نعرہ لگاتی ہے۔ حکومتی اہلکار خصوصاً پٹواری، انسپکٹر اور عدالتوں کے چھوٹے اہلکار۔ یہ لوگ ارب پتی ہیں۔ حکومت فقظ ایک قانون پاس کر دے کہ کسی شخص کی آمدن سے زیادہ بنائی گئی جائداد کا جو شخص پتہ بتائے گا ، اسے تحفظ بھی دیا جائے گا اور اس سے حاصل شدہ رقم کا دس یا پندرہ فیصد بھی ، البتہ جھوٹی اطلاع دینے والے کو چھ ماہ قید کی سزا ہو گی۔ چھوٹی چھوٹی تفتیشی کمیٹیاں جو اس مسئلے کو ایک ماہ میں نپٹا دیں ۔ حکومت کو ایک بہت بڑی رقم حاصل ہو گی۔یہی ایک طریقہ ہے کہ ناجائز دولت کا پتہ لگانے ہم گراس روٹ تک جا سکیں گے۔

مشرف دور سے لے کر آج تک جس چیز نے کچھ لوگوں کی بے پناہ کایا پلٹی ہے وہ زمینوں کا کاروبار ہے۔ لینڈ مافیہ سے وابستہ لوگوں نے اس کاروبار میں پیسہ توبہت کمایا مگر زمینوں پر قبضے کے لئے غریب لوگوں پر وہ ستم ڈھائے کہ الاماں۔ لوگوں کو ان کے گھروں سے اٹھایا گیا۔ انہیں دو چار دن قید رکھا گیا اور ان کی زمین قبضے میں کرنے کے بعد چار دیواری بنا کر گارڈ کھڑے کر دئیے گئے۔ بہت سے لوگوں کو قتل بھی کیا گیا۔ حکومت ، پولیس ، عدالتیں سب اس لینڈ مافیہ کے ساتھ رہیں۔ جن کے ساتھ زیادتی ہوئی ان کی داد اور فریاد کسی نے نہیں سنی ۔ اگر کبھی دیانتداری سے تفتیش کی جائے تو رونگٹے کھڑے کر دینے والے حقائق سامنے آئیں گے۔ اس سارے معاملے میں حکومت اور اپوزیشن کے تمام اکابرین برابر کے شریک رہے ہیں۔اس لئے یقینی بات ہے کہ حکومت میں موجود لینڈ مافیہ کے لوگ دیانتدار تفتیش کی مزاحمت کریں گے ۔ بہر حال ماضی کا حساب کس نے لینا ہے شاید کسی میں اتنی اخلاقی جرات نہ ہو۔ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام اگر ہو جائے تو یہی غنیمت ہے۔

وزیراعظم عمران کی نیت ، خلوص اور دیانتداری کے بارے کسی کو کوئی شک و شبہ نہیں۔ لیکن وہ جن لوگوں کے نرغے میں ہیں ، وہ یا تو تربیت یا فتہ نہیں یا پھر انہی ڈاکوؤں اور لٹیروں کے تربیت یافتہ ہیں جن کے خلاف عمران خان مصروف جہد ہیں۔ عمران خان کڑے احتساب کی بات کرتے ہیں اور مسلسل کر رہے ہیں۔ ماضی میں بھی یہ بات ہر آنے والے حکمران نے ہمیشہ کی ہے مگر عملی قدم اٹھانے سے اجتناب کیا ہے۔ اگلے چند ماہ میں عمران خان کے اقدامات اور فیصلہ اس بات کو پوری طرح عیاں کر دیں گے کہ ہم کس سمت جا رہے ہیں۔ لوگ آس اور امید لئے اس شجر سے پیوستہ ہیں اور بہار کی امید رکھتے ہیں۔

مزید : رائے /کالم