تحریک انصاف اور اسٹیبلشمنٹ

تحریک انصاف اور اسٹیبلشمنٹ
تحریک انصاف اور اسٹیبلشمنٹ

  

پاکستان تحریک انصاف کی حکومت سے وابستہ توقعات میں متواتر اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے۔ عوام کو امید ہے نئی حکومت کا بنیادی ایجنڈہ وسیع پیمانے پر ادارہ جاتی اصلاحات متعارف کروانا ہوگا، جبکہ دوسری طرف زمینی حقائق یہ ہیں اسی فیصد غریب لوگوں کے ذہنوں میں نفرت کا جو لاوا پک رہا ہے اسے بہنے کو صرف ایک بہانہ چاہئے ۔ریاست اور فرد میں دوری اتنی بڑھ چکی ہے عام لوگ عزت نفس کے سونے، تحفظ کی چاندی اور آسودگی کے کنگنوں سے کب کے محروم ہوچکے ہیں۔ آج بھی کسی کے تقدس کو پامال کرنا ہو ، ریٹ فقط دس سے بیس ہزار روپیہ، تھانے جائیے ، رقم رکھئے ، جھوٹا مقدمہ درج کروائیے اور پورے محلے کے سامنے گھسیٹتے ہوئے وین میں ڈالئے۔ کوئی پوچھنے والا نہیں۔ہسپتال ، انسانی جان کے تحفظ کے مراکز، لیکن سرکاری علاج گاہوں کا عالم یہ ہوچکا ایک ایک بیڈ پر دو دو مریض۔

عام فرد کو توقع ہے اب پولیس تبدیل ہوگی ۔ جھوٹی ایف آئی آرز پر بین لگے گا۔ بالخصوص سنگین مقدمات میں سارے کے سارے خاندان کے ’’نام ‘‘ ڈالنے جیسے قبیح عمل کا خاتمہ ہوگا۔ فی الحال پولیس اصلاحات کے حوالے سے کوئی واضح لائحہ عمل سامنے نہیں آرہا۔ اس سلسلے میں سابقہ آئی جی کے پی کے ناصر درانی کا نام ضرور سنا جا رہا ہے، لیکن پولیس میں، جس وسیع پیمانے پر اصلاحات کی ضرورت ہے اس کے لئے کے پی کے سے ہٹ کر بھی کسی دوسرے کامیاب ماڈل کو اپنانا ہوگا، جیسا کہ طرزحکومت کے لئے سویڈش ماڈل کی بات سنی جا رہی ہے۔ سبھی جانتے ہیں کہ پولیس کے اعلی افسران کی اکثریت نے زرعی رقبوں، فیکٹریوں، ہاؤسنگ سکیموں ، پٹرول پمپوں اور ریسٹورنٹس کی صورت سرمایہ کاری کر رکھی ہے۔ رشتے داروں سے لے کر سینئر و جونئیر کولیگ تک، علاقے کے بدمعاشوں سے لے کر حجام تک، ہر کوئی اس انوسٹمنٹ سے آگاہ ہوتا ہے۔ اگر خبر نہیں ہوتی تو صرف حکومت کو۔ شرم سے ڈوب مرنے کا مقام ہے کہ ایٹمی ملک کے دیہاتوں میں پولیس کے خوف کا یہ عالم ٹاؤٹ کو گلی میں منڈلاتے دیکھ کر لوگ گھروں میں دبک جاتے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے پولیس کے روپ میں خوف کے اس کلچر کو کس طرح بدلا جائے گا؟ کونسی ایسی ٹیم ہوگی جو پولیس کے لئے نئے بزنس رولز آف گورننس متعارف کروائے گی؟کیا اپ گریڈیشن کے لئے پولیس کے اعلی افسران کی مزاحمت سہی جا سکے گی؟ کیا ناراضگی کے ڈر سے ٹاپ سول بیوروکریسی کے اختیارات محدود کرنے سے اجتناب برتا جائے گا؟ یاد رہے اگر موجودہ حکومت نے اپنے اس بنیادی ایجنڈے میں ذرا سی بھی کوتاہی دکھائی تو انہیں مقبولیت کے گراف سے ہاتھ دھونا پڑیں گے۔ پاکستان تحریک انصاف کے منشور کا لب لباب اکنامک لبرلائزیشن،سٹرکچرل تنظیم نو، فارن سٹینڈرڈ پولیس، یوروپین طرز کا طبی نظام اور تعلیمی نظام میں انقلابی تبدیلیاں ہے۔

موجودہ حکومت کو خوش قسمتی سے ایک بہت ہی متوازن اپروچ کی حامل اسٹیبلشمنٹ سے واسطہ پڑا ہے۔ آج کی اسٹیبلشمنٹ نے خود کو محض امریکہ ، افغانستان، سعودی عرب اور بھارت کے ساتھ تعلقات کی حد تک ہی تبدیل نہیں کیا، بلکہ پراکسی وارز میں غیروں کے مفاد کی خاطر استعمال ہونے سے اجتناب کی پالیسیاں بھی اپنائی جا رہی ہیں۔ کیا اسٹیبلشمنٹ کی سوچ محض جنگی محاذوں اور علاقائی دہشت گرد وں کے قلع قمع تک اٹکی ہوئی ہے؟ نہیں حقیقتاً ایسا نہیں ۔ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ پوری مضبوطی کے ساتھ اس باوقار پاکستان کو بھانپ چکی ہے جہاں گڈ گورننس اور رول آف لاء کے بغیر کسی صورت نہیں پہنچا جا سکتا۔’’ فرد کی ریاست سے محبت ‘‘اسٹیبلشمنٹ کا بنیادی نقطہ نظر ہے۔ کیا پرانے سیاستدان کچھ سمجھ بھی رہے ہیں کہ نہیں؟ اسٹیبلشمنٹ کے تمام قابل ذکر ونگز ایک ایک کرکے ہر اس چیز کی اپ گریڈیشن کا منصوبہ بنا چکے ہیں، جس نے عام پاکستانی کے دل میں وطن مخالف جذبات پیدا کئے۔ زیادتی تھانیدار کرتا ہے گالی ملک کو پڑتی ہے۔ کھاتوں ، رجسٹروں میں ہیر اپھیری کے ذمہ دار پٹواری، کلرک ہوتے ہیں، فرد کے مخالفانہ جذبات کا نشانہ وطن بنتا ہے۔ اسٹیبلشمنٹ درحقیقت ہر اس فیکٹر کے گرد سرخ دائرہ کھینچ چکی جو عام پاکستانیوں کو وطن کی محبت سے عاری کرنے کا باعث بن رہا ہے۔

مستقبل قریب میں جن بلندیوں کی جانب پاکستان جانے والا ہے اور اسے روکنے کے لئے عالمی اسٹیبلشمنٹ جن عزائم کے ساتھ میدان میں اترچکی ہے، وہاں یہ اور ضروری ہو جاتا ہے، جس قدر جلد ممکن ہو سکے عام پاکستانیوں میں نیشنل ازم کو ابھارہ جائے۔ بھلا بھارت کس طرح برداشت کر پائے گا۔ وہ آدھی دنیا کی کھربوں ڈالرز پر مشتمل مارکیٹ سے کٹ کر بیٹھ جائے۔ پاکستانی سڑکوں پر چائنہ کے ٹرک دوڑیں، سنکیانگ سے گوادر تک مال بردار گاڑیاں نان سٹا پ چلیں، گیس و تیل کی لائنوں کی مد میں پاکستان کو اربوں ڈالرز کی راہداریاں ملیں، اگر یہ سب کچھ اسی طرح آرام سے ہوگیا تو مہا بھارت کا سپنا تو ایک طرف خود بھارت کی اقتصادی ترقی پاکستان کے اقدامات سے نتھی ہوجائے گی۔ پاکستان جب چاہے انڈین اکانومی کو لاک کر سکے گا۔مستقبل کی انڈین اکانومی ہے کیا ؟ امریکن و یورپین بلاک کے بچے کھچے پر نظر۔ اقتصادی روٹ کی تکمیل کے بعد وہ بچا کھچا بھی ہاتھوں سے نکلتا نظر آرہا ہے۔

اسرائیل، امریکہ اور انڈیا ہر صورت اس منصوبے کو پایہ تکمیل تک پہنچنے سے روکنے کی کوشش کریں گے۔ انڈین معاشرہ اپ گریڈیشن کی سپرٹ کھو چکا ہے۔ بالخصوص اکیسویں صدی کے پہلے چودہ سالوں میں انڈین سماج کو جس عالمی انسانی بیداری کے شانہ بشانہ چلنا چاہیے تھا۔ وہاں بُری طرح ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ انڈین اسٹیبلشمنٹ میں کبھی یہ صلاحیت نہیں رہی وہ معاشرتی اکائیوں کو بیک وقت زمانے کی ترقی سے ہم آہنگ کروا سکے۔ دوسری جانب پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کو اس معاملے میں مہارت حاصل رہی۔ انڈین اسٹیبلشمنٹ نئے معاشرتی تجربات سے ہمیشہ خوفزدہ رہی، نتیجے کے طور پر وہاں کے سیاستدانوں نے طرز زندگی کو جہاں ہے جیسے ہے کی بنیاد پر کھلا چھوڑ دیا۔آج چند شہروں کے سوا انڈیا بھر میں ریس ازم، مونک ازم، طبقاتی بالادستی کی آگ بھڑکی ہوئی ہے۔ سیاستدان اکھنڈ بھارت کی پالیسیوں میں غرق، ادارے اختیارات کی راجدھانیوں میں مگن اور عوام دس روپے کی زہر یلی پڑی پھانکنے پر مجبور۔

انڈیا گلوبلائزیشن کے چیلنجز سے نمٹنے میں ناکام رہا۔ایک معصوم صورت انڈین لڑکی نے پاکستان کے متعلق تبصرہ کرتے ہوئے کہا ’’پاکستان حیران کن حد تک امیر ملک ہے، لیکن بھارتیوں کو غربت نے مار ڈالا اور پاکستانیوں کو وسوسوں نے‘‘۔ جناب ان وسوسوں کا علاج کس نے کرنا ہے؟ سیاستدانوں نے۔ بے چینیاں کس طرح کم ہوں گی۔ بہتر نظام حکومت سے، نظام کس طرح بہتر ہوگا، اداروں کی یورپین سٹینڈرڈ تک اپ گریڈیشن سے، اور اپ گریڈیشن کب ہوگی جب سیاستدان اداروں بالخصوص پولیس کو آزاد کرنے پر آمادہ ہوں گے۔ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ نئے بلاک کی خاطر امریکہ، اسرائیل سے پوری طرح ٹکر لے چکی اور شہیدوں کے غمزدہ یتیم بچوں کی آنکھوں سے ٹپکتے آنسوؤں کو گننے کے مراحل سے آگے نکل چکی ہے۔ اب وہ بیرون ملک بھی حساب برابر کرے گی اور اندرون ملک بھی۔ آئندہ دو سے تین ماہ میں قوم کو بہت بڑی خوشخبریاں ملنے والی ہیں۔

مزید :

رائے -کالم -