مریض پاکستان کو دوا اور دعا دونوں کی ضرورت ہے

03 ستمبر 2018

لیفٹیننٹ کرنل(ر)غلام جیلانی خان

پاکستان کئی دہائیوں میں ایک ایسے دور سے گزر کر یہاں تک پہنچا ہے جسے ہمارے اکابرین نے دورِ غلامی کا نام دیا تھا۔۔۔ ایک ایسا دور جس میں نہ شمشیریں کام آتی ہیں نہ تدبیریں۔ صرف ذوقِ یقیں ایک ایسی خصوصیت بتائی گئی کہ اگر وہ کسی قوم میں پیدا ہو جائے تو تمام زنجیریں کٹ جاتی ہیں اور آزادی نصیب ہو جاتی ہے لیکن خدا جانے یہ ذوقِ یقیں کی کرامت تھی یا دوسری جنگ عظیم میں برطانوی استعمار کی شکستِ فاش تھی جس نے ہندوستانی اقوام کو آزادی سے ہمکنار کیا۔ میرے خیال کے مطابق ہندی مسلمانوں میں ذوقِ یقیں کا عروج اور استعمار کا زوال بیک وقت شروع ہوا۔ لیکن ہمیں ایک بات یاد رکھنی چاہیے کہ ’’ذوقِ یقیں‘‘ ایک نظریاتی نعرہ تھا جبکہ استعمار ایک جیتی جاگتی حقیقت تھی۔ اور نظریہ خواہ کتنا ہی مستحکم کیوں نہ ہو زمینی حقائق کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔

تاریخِ اسلام کے ارتقائی دور پر نگاہ ڈالئے۔ اسلام سے زیادہ حقیقی اور سچا مذہب اور کون سا ہو گا لیکن جب تک اسلام کے حق پرستوں نے باطل کے پجاریوں کے دانت کھٹے نہ کر دیئے تب تک اصولی اور سچا نظریہ ، زمینی حقائق پر غالب نہ آ سکا۔ آنحضورؐ جب تک تیغ بدست ہو کر میدانِ وغا میں نہ کودے، ان کی اخلاقی تبلیغ کی عظمت، شرمندۂ تعبیر نہ ہو سکی۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ کفر کو شکست پہلے دی گئی اور آوازۂ حق بعد میں بلند ہو سکا وگرنہ اس سے پہلے مکہ کے 23برس کی حیاتِ مبارکہ پر محیط آپؐ کا اخلاق اور وعظ و تلقین، خواہ وہ کتنی ہی حقیقی تھی، منصہء شہود پر جلوہ گر نہ ہو سکی۔۔۔

غالب نے بھی اسی لئے کہا تھا کہ لطافت اس وقت تک جلوہ پیدا نہیں کر سکتی جب تک اس کی کثافت دور نہ کی جائے۔ یہ کثافت، خوبی ء لطافت پر مسلط رہتی ہے۔ غالب کے شعر کے دوسرے مصرعہ میں باغ کو آئینہ بادِ بہاری کا زنگار کہا گیا ہے۔ ہوا ایک آئینہ ہے۔۔۔ بہت شفاف اور بہت مہین ۔۔۔اور اتنا باریک کہ نظر نہیں آتا۔۔۔۔ لیکن جب تک ہر شیشے کے پشت پر بدبودار زنگار کا لیپ نہیں کر دیا جاتا تب تک وہ آئینہ نہیں بن سکتا۔ اور اس میں وہ شفافیت پیدا نہیں ہو سکتی جو آئینے کو بہار کی ہوا کی مانند لطیف، نازک اور آر پار دیکھنے کے قابل نہیں بناتی۔

لطافت بے کثافت جلوہ پیدا کر نہیں سکتی

چمن زنگا رہے آئینۂ بادِ بہاری کا

برصغیر کی تاریخ پر غور کیجئے۔ مسدس حالی میں بھی مولانا حالی نے جو نقشہ اہلِ عرب کے عہدِ جاہلیت کا کھینچا ہے اور بتوں کی پرستش کی جو تصویر پینٹ کی ہے، کیا ہند کا بت کدہ بھی ویسا ہی نہیں تھا؟۔۔۔کس کو معلوم نہیں کہ کفرستانِ ہند میں حقانیت کا پہلا بیج عربوں نے بویا؟۔۔۔ 711ء میں محمد بن قاسم وہ پہلا مسلمان سالارِ لشکر تھا جس نے راجہ داہر کو شکست دی اور برصغیر کے اس مغربی حصے کو کفر و شرک سے پاک کرکے وہاں توحید کا پودا کاشت کیا۔ کراچی کے عبداللہ شاہ غازی سے لے کر سندھ کے حضرت شاہ عبداللطیف بھٹائی، ملتان کے حضرت شاہ رکن عالم، حضرت شاہ بہاؤ الدین ذکریااور حضرت خواجہ فرید(بابا فرید گنج شکر نہیں) تک سب کے سب اولیائے عظام اور واعظینِ کرام صنم کدۂ ہند میں اس وقت تک وارد نہ ہو سکے جب تک عرب مسلمانوں کی شمشیر آبدار نے ان کی آمد کا راستہ صاف نہ کر دیا۔

محمد بن قاسم سے لے کر محمود غزنوی تک تین سو برس کا وقفہ ہے۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ان تین صدیوں میں ہندوستان کے بت خانے میں اسلام کی روشنی کیوں نہ پھیلی؟ ملتان تک تو مسلمان آ ہی گئے تھے۔ ذرا سوچئے کہ ملتان سے لاہور کتنی دور تھا جہاں 997ء تک راجہ جے پال اور انند پال کی ہندو حکومت قائم رہی؟۔۔۔ اگر محمود غزنوی درۂ خیبر کی راہ، پشاور اور لاہور پر حملہ نہ کرتا تو کون جانے کتنی صدیاں اور گزر جاتیں اور نجانے ملتان سے آگے مغرب میں کراچی تک سندھ سے عربوں کا صفایا کرنے میں کتنی جلدی لگتی!

غزنوی کے بعد یکے بعد دیگرے کئی مسلمان حملہ آور ہندوستان پر لشکر کشی کرتے رہے۔ لیکن یہ سوال ابھی تک تشنہ ء جواب ہے کہ کیا ان حکمرانوں نے برصغیر میں اسلام پھیلایا؟۔۔۔ کیا آج پاکستان اور بنگلہ دیش کی مسلم ریاستیں صرف سلاطینِ دہلی اور خاندانِ مغلیہ کی یلغاروں کی وجہ سے مسلمان ہوئیں؟۔۔۔ہرگز نہیں۔۔۔ دو قومی نظریئے کا مطلب کیا ہے؟۔۔۔مسلم قوم کو عددی اکثریت کیا سرحد سے اترنے والے حملہ آوروں نے عطا کی؟۔۔۔ ہرگز نہیں۔۔۔ لیکن وہ نکتہ جس کی طرف قارئین کی توجہ مبذول کرانی چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ بتکدۂ ہند میں اسلام کی اشاعت کا سہرا مسلمان حملہ آوروں کے سر نہیں بلکہ ان اولیائے کرام کے سر باندھا جاتا ہے جنہوں نے تبلیغ و اشاعتِ اسلام کا بیڑا اٹھایا۔ حضرتِ داتا گنج بخش، حضرتِ خواجہ معین الدین چشتی اجمیری، حضرت قطب الدین بختیار کاکی، حضرت بابا فریدالدین شکر گنج، حضرت علی احمد صابر اور حضرت نظام الدین اولیاء کی تبلیغ ہی سے مسلمانوں کو ان خطوں میں عددی اکثریت حاصل ہوئی جن میں آج کے پاکستانی اور بنگلہ دیشی مسلمان آزادی کی نعمتوں سے مستفید ہو رہے ہیں!۔۔۔

لیکن یہاں ہم ایک اور بھی ایسی ہی حقیقت کو فراموش کر دینے کا ارتکاب کرتے ہیں جس پر میرا آج کا کالم استوار ہے۔۔۔ کیا یہ حقیقت نہیں کہ جب تک سندھ میں محمد بن قاسم نہیں آیا اور آکر وہاں کے ہندو حکمران کو شکست نہیں دی تب تک کوئی ولی اللہ اس خطۂ ارض پر قدم نہیں دھر سکا!۔۔۔سندھ کے سارے اولیائے کرام عرب مسلمانوں کی یلغاروں کے بعد آئے اور اشاعتِ اسلام کا فریضہ ادا کیا۔ اور بالکل اسی طرح باقی برصغیر میں بھی جب تک مسلم حملہ آوروں(غزنوی سے لے کر احمد شاہ ابدالی تک) نے آکر پورے ہندوستان کو زیرِ شمشیر نہیں کیا اس وقت تک نہ کوئی دانا گنج بخش ؒ آسکا اور نہ کوئی نظام الدین اولیاؒ ۔۔۔ یہ تمام اولیائے کرام، وحدانیت اور توحیدِ اسلامی کے پیامی تو تھے جو ایک تھیوری تھی، ایک نظریہ تھا اور ایک عقیدہ بھی تھا لیکن جس کو عمل میں ڈھلنے اور ڈھالنے کے لئے تیغِ زبان کی نہیں، شمشیرِبے زنہار کی ضرورت تھی! جب تک شہیدوں کا خون نہیں گرا، تب تک نظریہ، عمل نہیں بن سکا۔۔۔ جب تک شیشے کی پشت پر زنگار نہیں چڑھایا گیا تب تک بادِ بہاری کا آئینہ نہیں دمک سکا۔۔۔۔ آزادی ہمیشہ خون کا خراج مانگتی ہے۔ اقبال نے ذوقِ یقیں سے زنجیروں کو کاٹنے کی جو تھیوری پیش کی تھی، اس کو عمل میں ڈھالنے کے لئے ذوقِ یقین کے ساتھ ذوقِ شہادت کو بھی ترجیح حاصل تھی۔۔۔۔ اس حوالے سے حضرت اقبال کے اشعار کچھ اس طرح ہونے چاہیں تھے:

غلامی میں نہ کام آتی ہیں شمشیریں نہ تدبیریں

’’اگر ذوقِ شہادت ہو‘‘ تو کٹ جاتی ہے زنجیریں

کوئی اندازہ کر سکتا ہے اس کا زورِ بازو کا

’’کہ تیغِ‘‘ مردِ مومن سے بدل جاتی ہیں تقدیریں

معلوم ہوتا ہے اقبال نے ازراہِ مصلحت برطانوی ہند میں ’’شہادت‘‘ اور ’’تیغ مردِ مومن‘‘ کی جگہ ’’ذوقِ یقیں‘‘ کی ترکیب استعمال کی تھی!

میں نے یہ طویل تمہید اس لئے باندھی ہے کہ تھیوری اور پریکٹس میں ترجیح کے فرق کو واضح کرسکوں۔۔۔ تھیوری ایک زبانی کلامی ’’قول‘‘ ہے جبکہ پریکٹس ایک ’’فعل‘‘ ہے۔ قول و فعل میں تضاد نہیں ہونا چاہئے۔ لیکن قول جب فعل میں ڈھلنے لگے تو فعل کو قول پر فوقیت مل جاتی ہے۔ ہاں بات کہنے والے کی نیت اگر صاف ہو اور اس میں ذوقِ یقیں بھی ہو تو اس کے فعل کو اسی پیمانۂ قول سے ناپا جائے گا۔۔۔۔

آج میڈیا پر عمران خان کے قول و فعل میں تضاد کا لایعنی تنازعہ زیرِ بحث ہے۔ ابھی تحریک انصاف کو چارج سنبھالے جمعہ جمعہ 8دن بھی نہیں ہوئے اور بعض لوگوں نے بے صبری کی انتہا کردی ہے۔جس میں میڈیا پیش پیش ہے۔ لیکن مجھے روزِ روشن کی طرح دکھائی دے رہا ہے کہ ہمارا یہ ای میڈیا جس کو گزشتہ دو عشروں سے ایک خاص راستے پر جادہ پیمائی کی لت پڑ چکی ہے وہ یا تو اپنا راستہ بدل لے گا وگرنہ اپنی موت آپ مر جائے گا!۔۔۔ یہ موجودہ بے تابانہ اور غیر ذمہ دارانہ روش اس کو کہیں کا نہیں چھوڑے گی۔۔۔

ہیلی کاپٹر کے استعمال پر جو اعتراضات کئے جارہے ہیں ان کے جواز میں بہت جلد دوسرے فریق کی طرف سے جو کچھ سامنے آنے والا ہے وہ اس میڈیائی مہم بازوں کو شرم سے پانی پانی کردے گا۔ اور پاک پتن کے جس واقعے کو اچھالا جارہا ہے وہ چونکہ عدالتِ عظمیٰ میں زیرِ سماعت ہے اس لئے اس کا فیصلہ جب آئے گا تو میڈیا کے کئی بزر جمہروں کو اپنا تھوکا چاٹنے پر مجبور کردے گا!

تحریک انصاف جن وعدوں کے اڑن کھٹولے پر سوار ہو کر اقتدار میں آئی وہ گویا ایک ’’تھیوری‘‘ تھے۔ اس قول کو فعل میں ڈھالنے کے لئے یہ ممکن نہیں ہوگا کہ ان پرمن و عن اور فی الفورعمل بھی نظر آئے۔۔۔۔ تقدیم و تاخیر ہوسکتی ہے۔ اس کاانتظار کرنا چاہئے کہ جب آ پ مشرق کی طرف دوڑے جارہے ہوں تو فوراً مغرب کی طرف دوڑ کرایک دم اتنا فاصلہ طے نہیں کرسکتے جتنا مشرق کی طرف بھاگنے میں کیا تھا۔ اس کے لئے آپ کو پہلے واپس مقامِ آغاز (Starting Point) پر آنا پڑے گا اور زیرو سے سٹارٹ لے کر مغرب کی طرف دوڑ لگانی پڑے گی لیکن اگر آپ کو پہلے قدم پر ہی روک کر نشانۂ طعن و دشنام بنا دیا جائے تو گویا آپ کو آگے بڑھنے سے روکے جانے کا اقدام کیا جا رہا ہے۔۔۔ ابھی تو تین ماہ پڑے ہیں۔ آپ صبر تو کریں اور یہ تو دیکھیں کہ تین ماہ بعد نئی قیادت، گئی قیادت سے معکوس سمت میں سفر کرتی ہے یا اسی پرانی سمت میں رواں دواں رہتی ہے۔۔۔۔ تھیوری کو پریکٹس میں ڈھالنے کے لئے وقت درکار ہوتاہے اور وقت کا دورانیہ ٹارگٹ کی مسافت اور دوری پر منحصر ہوتا ہے۔ اگر ٹارگٹ چند گز دور ہوتو فوراً ہی ہٹ(Hit) ہو جائے گا لیکن اگر کئی کلو میٹر کا فاصلہ ہو تو اس کے لئے زیادہ وقت درکار ہوگا۔۔۔نئے پاکستان کا ٹارگٹ کوسوں کی مسافت پر ہے!

کیاہمیں معلوم نہیں کہ کرپشن، رشوت اور سفارش کے تینوں ناسور ہمارے معاشرے کی رگ وپے میں سمائے ہوئے ہیں؟ ان کو آپریشن کرکے اورمتاثرہ حصوں کو کاٹ کر الگ کرنے اور اس دوران، زخم سینے میں جو ٹانکے لگائے جائیں گے ان کے لئے وقت تو درکار ہوگا۔۔۔ کیا آپ نے کبھی دیکھا ہے کہ کسی میجر آپریشن میں مریض کو ایمرجنسی آپریشن تھیٹر کی طرف لے جایا جارہا ہو تو لوگ شور مچانا شروع کردیں کہ دیکھو دیکھو مریض کا سرننگا ہے ،جیب میں رومال لٹک رہا ہے اور پیروں میں چپل بھی موجود ہے!

پاکستان کا مریض ایک ہنگامی آپریشن کا محتاج ہے۔ اسے اس آپریشن سے گزرنا ہوگا۔ لیکن اس دوران طبی عملے کی اہلیت پر نکتہ چینی اور حرف گیری کرتے چلے جانے کی بجائے براہِ کرم مریض کی صحت یابی کی دعا کیجئے۔

مزیدخبریں