فضل الرحمن اور اعتزاز احسن ڈٹے رہیں گے کوئی بھی دستبردار نہیں ہوگا

فضل الرحمن اور اعتزاز احسن ڈٹے رہیں گے کوئی بھی دستبردار نہیں ہوگا
فضل الرحمن اور اعتزاز احسن ڈٹے رہیں گے کوئی بھی دستبردار نہیں ہوگا

  

تجزیہ:۔ قدرت اللہ چودھری

خواہشات پر تو کوئی پابندی نہیں، چودھری اعتزاز احسن کا خیال ہے کہ وہ صدارتی انتخاب جیت جائیں گے کیونکہ ان کا موقف ہے کہ پیپلزپارٹی کے ساتھ ساتھ انہیں مسلم لیگ (ن) اور تحریک انصاف کے ووٹ بھی ملیں گے اور دوسری اپوزیشن جماعتوں کے بھی، لیکن یہ ایسی سادگی ہے جس پر شاعر کا مر جانے کو جی چاہا تھا، کیونکہ اگر اعتزاز احسن کی کامیابی کا ایک فیصد بھی امکان ہوتا تو آصف علی زرداری خود کیوں الیکشن نہ لڑتے، کیا انہیں دوسری مرتبہ صدر بننا برا لگتا تھا کیونکہ اس طرح کسی سیاست دان کی جانب سے ایک ریکارڈ بھی قائم ہو جاتا، لیکن کچھ اور سوالات بھی ہیں جن پر غور ضروری ہے ایک سوال تو یہ ہے کہ چودھری اعتزاز احسن اچانک اتنے محب کیوں ہو گئے کہ انہیں ایسا صدارتی امیدوار بنا دیا گیا جس پر کسی قسم کی نظرثانی کی بھی کوئی گنجائش نہ رکھی گئی، پھر ان کا اعلان کسی دوسری جماعت کی مشاورت کے بغیر کیا گیا حالانکہ انہی جماعتوں کے ووٹ جیت کے لئے درکار تھے، یہ فیصلہ اس حقیقت کے باوجود کیا گیا کہ اس سے پہلے پیپلزپارٹی قائد ایوان (وزیر اعظم) کے انتخاب میں غیر جانبدار رہ چکی تھی اور اس کے ارکان قومی اسمبلی نے کسی کو بھی ووٹ نہیں دیا تھا کہا جا سکتا ہے اب اگر کوئی دوسری جماعت بھی اسی طرح کی غیر جانبداری کا مظاہرہ کرے تو کیا پیپلزپارٹی کو اچھا لگے گا یا برا۔

چودھری اعتزاز احسن بہت لائق فائق وکیل ہیں انہوں نے بڑے بڑے مقدمے لڑے اور جیتے ہیں لیکن کیا الیکشن میں ایک لائق شخص کسی نالائق یا نسبتاً کم نالائق سے ہار نہیں جاتا ، کیا اسی الیکشن میں بہت سے میٹرک پاس یا انٹرفیل لوگوں نے اپنے مدمقابل زیادہ قابلیت کے حامل لوگوں کو شکست نہیں دی، اگر ہمیشہ لائق لوگ ہی کامیاب ہوتے تو ہر بڑا منتخب عہدیدار لازماً ایم اے، پی ایچ ڈی ہوتا، لیکن ابھی چند روز پہلے ہی فواد چودھری نے بڑے فخر سے کہا تھا کہ اگر صدر میٹرک پاس ہو سکتا ہے تو انٹر پاس گورنر کیوں نہیں ہو سکتا، خیر لیاقت اور نااہلیت کا موازنہ الیکشن میں نہیں بنتا، بات ہو رہی تھی چودھری اعتزاز احسن کی جو ابھی مارچ 2018ء تک پیپلزپارٹی کی جانب سے سینیٹ کے رکن تھے۔ اس کے بعد سے ان کے پاس کوئی منتخب عہدہ نہیں ہے اور صدر وہ بن نہیں سکتے کہ نمبر گیم تحریک انصاف کے امیدوار کے حق میں ہے تحریک انصاف کے امیدوار عارف علوی کو ان کی اپنی جماعت کے ووٹ تو لازماً ملیں گے جن کی قومی اسمبلی اور سینیٹ کے ساتھ ساتھ چاروں صوبائی اسمبلیوں میں نمائندگی ہے۔ جو صدر کے الیکشن میں الیکٹورل کالج ہے، قومی اسمبلی، سینیٹ اور بلوچستان اسمبلی کے ہر رکن کا ایک ایک ووٹ ہے جبکہ پنجاب، سندھ اور کے پی کے اسمبلی کے ارکان متناسب فارمولے کے تحت تقسیم ہوتے ہیں یوں الیکٹورل کالج کے ارکان کی مجموعی تعداد 706 ووٹ بنتی ہے جن میں 251 ارکان تحریک انصاف کے اپنے ہیں، جو دوسری جماعتیں اس وقت تحریک انصاف کا ساتھ دے رہی ہیں ان کے ووٹ مل ملا کر اتنے بن جاتے ہیں کہ وہ تحریک انصاف کی جیت میں اہم کردار ادا کر سکیں ایک اندازے کے مطابق مجموعی طور پر یہ ووٹ 314بن جاتے ہیں، تحریک انصاف کو امید ہے کہ ایم کیو ایم(پاکستان) ، بلوچستان عوامی پارٹی، مسلم لیگ (ق) ، عوامی مسلم لیگ گرینڈ ڈیمو کریٹک الائنس(جی ڈی اے) بلوچستان نیشنل پارٹی(بی این پی)، بی این پی عوامی اور جمہوری وطن پارٹی اس کے امیدوار کو ووٹ دیں گی۔ یہ ساری جماعتیں اگر تحریک انصاف کو ووٹ دیں تو اسے 314 ووٹ ملنے کی امید ہوسکتی ہے۔ دوسری جانب اپوزیشن جماعتوں کی پوزیشن یہ ہے کہ اگر وہ واقعی متحد ہوں اور کسی کرشمے کے نتیجے میں دو امیدواروں میں سے ایک امیدوار بیٹھ جائے تو مقابلہ کانٹے دار ہو جائے گا، کیونکہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی دونوں کے ووٹ مل کر 260 (116+144) بن جاتے ہیں جو تحریک انصاف کے اپنے ووٹوں سے زیادہ ہیں۔ ان 260 میں اگر ایم ایم اے، اے این پی، پختونخوا ملی عوامی پارٹی اور نیشنل پارٹی کے ووٹ جمع ہو جائیں تو یہ ووٹ 321 بن جاتے ہیں، جو تحریک انصاف اور اتحادیوں کے ووٹوں سے سات زیادہ ہیں، اس لئے اگر تحریک انصاف کے امیدوار کو جیتنا ہے تو یہ بہت ضروری ہے کہ حالات اس نہج پر چلے جائیں کہ کسی بھی مقام پر مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کا ملاپ نہ ہو، یہ ملاپ چونکہ تحریک انصاف کے امیدوار کی شکست کے امکانات پیدا کرسکتا ہے یا کم از کم خدشات ضرور ہوسکتے ہیں، اس لئے یہ اہتمام بہت ضروری ہے، اس لئے پوری کوشش کی جائے گی کہ کسی بھی صورت میں نہ تو مولانا فضل الرحمن الیکشن سے دستبردار ہوں اور نہ ہی اعتزاز احسن، دونوں کے پاس ڈٹے رہنے کے اپنے اپنے دلائل ہیں۔ مثلاً مولانا فضل الرحمن کہتے ہیں کہ وہ دس جماعتوں کے نمائندے ہیں اور اگر وہ دستبردار ہوتے ہیں تو اس سے پہلے دس جماعتوں کو اعتماد میں لینا ہوگا، بالفاظ دیگر وہ یہ کہنا چاہتے ہیں چونکہ ان کی دستبرداری میں بہت سی جماعتیں ملوث ہیں، اس لئے بہتر یہ ہے کہ چودھری صاحب دستبردار ہوں جو پیپلز پارٹی کے نمائندے ہیں، اور انہیں کسی سے مشاورت کی ضرورت نہیں اور ویسے بھی ان کی امیدواری کا اعلان بھی یکطرفہ ہی ہوا تھا۔ چودھری اعتزاز احسن اس لئے بھی دستبردار نہیں ہوسکتے کہ پیپلز پارٹی نے بار بار واضح کیا ہے کہ ان سے بہتر کوئی امیدوار ہے ہی نہیں۔ دونوں ڈٹے رہتے ہیں تو عارف علوی کی جیت کی راہ ہموار ہوتی ہے اور چونکہ انہیں ہی جتوانا مقصود ہے، اس لئے ایسا ہی ہوگا ویسے محمود اچکزئی نے از راہ تفنن کہا تھا کہ اصلی تبدیلی تو یہی ہوگی کہ عمران خان وزیراعظم ہیں تو مولانا فضل الرحمن صدر ہوں، لیکن وہ کیسے صدر بنیں گے جبکہ راستے میں چودھری اعتزاز احسن جیسے رہنما بھی ہیں اور بقول شاعرؔ

کیسے منزل پہ پہنچتا کوئی،

راہ میں رہنما بیٹھے تھے

دستبردار نہیں

مزید : تجزیہ