پاکستان کا وہ خاندان جس کے 4ایم این اے، 2 ناظمین اور صوبائی اسمبلی کے 2 امیدواران سامنے آگیا، نیا ریکارڈ بن گیا

03 ستمبر 2018 (10:16)

پشاور(ویب ڈیسک)تحریک انصاف کے رہنما، سابق وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا اور موجودہ وزیر دفاع پرویز خٹک نے موروثی سیاست کی نئی تاریخ رقم کردی ہے۔ موصوف کے خاندان سے 4 افراد قومی اسمبلی کے ارکان، 2 افراد ضلع و تحصیل ناظم کے عہدوں پر براجمان جبکہ مزید 2 افراد صوبائی اسمبلی میں جانے کے لیے امیدوار ہیں۔

 ضلع نوشہرہ سے قومی اسمبلی کی 2 اور صوبائی اسمبلی کی 5 نشستیں ہیں۔ گزشتہ ماہ ہونے والے عام انتخابات میں پرویز خٹک نے بذات خود نوشہرہ کی 3 نشستوں سے انتخابات لڑے جن میں قومی اسمبلی کا حلقہ این اے 25 اور خیبر پختونخوا اسمبلی کے حلقے پی کے 61 اور 64 شامل ہیں۔ تینوں نشتوں پر کامیابی حاصل کرنے کے بعد پرویز خٹک نے صوبائی اسمبلی کی دونوں نشستوں سے استعفیٰ دے دیا اور قومی اسمبلی نشست برقرار رکھی جس پر انہیں وزارت دفاع کا قلمدان سونپا گیا۔

 نوشہرہ سے قومی اسمبلی کی دوسری نشست این اے 26 پر پرویز خٹک کے داماد عمران خٹک تحریک انصاف کے ٹکٹ پر کامیابی حاصل کی۔انتخابی نتائج آنے کے بعد جب خواتین کے لیے مخصوص نشستوں کی تقسیم کا مرحلہ آیا تو پرویز خٹک ان میں بھی دو نشستیں لے اڑے۔ ان میں سے ایک نشست اپنی بھابھی نفیسہ خٹک اور دوسری اپنی بھتیجی ساجدہ بیگم کو تحفہ کردیں۔

 اس وقت پرویز خٹک کے خاندان سے 4 افراد قومی اسمبلی میں موجود ہیں جبکہ صوبائی اسمبلی کے لیے ان کی خالی کردہ نشستوں پر ان کے بھائی اور بیٹے میدان میں اترے ہیں۔پرویز خٹک کی خالی کردہ پی کے 64 پر ان کے بھائی لیاقت خٹک نے کاغذات نامزدگی جمع کرائے ہیں۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ لیاقت خٹک ضلع نوشہرہ کے ناظم تھے۔ انہوں نے صوبائی اسمبلی کے انتخابات لڑنے کے لیے ضلع ناظم کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔

 اب سوال یہ ہے لیاقت خٹک کی خالی کردہ ضلع ناظم کے عہدے پر کون براجمان ہوگا تو اس کا جواب خٹک خاندان نے پہلے سے ہی طے کردیا ہے۔ ضلع ناظم کے عہدے کے لیے اب لیاقت خٹک کا بیٹا، یعنی پرویز خٹک کا بھتیجا اسحاق خٹک میدان میں اترے گا۔

 مزید دلچسپی کی بات یہ ہے کہ لیاقت خٹک کا دوسرا بیٹا، یعنی پرویز خٹک کا دوسرا بھتیجا احد خٹک بھی تحصیل ناظم ہے۔اب اگر اسحاق خٹک ضلع ناظم بن جاتا ہے اور لیاقت خٹک پی کے 64 پر کامیابی حاصل کرتا ہے تو باپ رکن صوبائی اسمبلی، ایک بیٹا ضلع ناظم اور دوسرا بیٹا تحصیل ناظم ہوگا اور اس کا 99 فیصد امکان ہے۔

 پرویز خٹک کی خالی کردہ دوسری نشست پی کے 61 پر ان کے بیٹے ابراہیم خٹک نے کاغذات نامزدگی جمع کرا دیے ہیں۔ اگر ابراہم خٹک بھی رکن صوبائی اسمبلی منتخب ہوجاتے ہیں تو باپ یعنی پرویز خٹک رکن قومی اسمبلی اور وزیر دفاع جبکہ بیٹا رکن صوبائی اسمبلی ہوگا جبکہ اس بات کا بھی 95 فیصد امکان ہے کہ پرویز خٹک اپنے اثر و رسوخ کا استعمال کرتے ہوئے ان کے لیے صوبائی وزارت نکال لیں گے۔

 لیاقت خٹک اور ابراہیم خٹک اگر صوبائی نشستیں جیت جاتے ہیں تو خٹک خاندان کے 4 ارکان قومی اسمبلی، 2 ارکان صوبائی اسمبلی، ایک ضلع ناظم اور ایک تحصیل ناظم ایک ہی چھت کے نیچے رہائش پذیر ہوں گے۔

 موروثی اور اقربا پروری کی سیاست پاکستان میں کوئی نئی بات نہیں ہے لیکن صرف 5 سال کے اندر ایک ہی پارٹی کے اندر رہتے ہوئے اتنے بڑے پیمانے پر اقربا پروری اور پارٹی میں خود کو اس قدر با اختیار ثابت کرکے پرویز خٹک نے پاکستانی سیاسی تاریخ میں ایک نیا ریکارڈ قائم کیا ہے۔

 تحریک انصاف کی سیاست پر گہری نظر رکھنے والے صحافی و تجزیہ کار فیض اللہ خان نے سماء ڈیجیٹل سے گفتگو کرتے ہوئے اس اقربا پروی کو نئے پاکستان میں ایک ’بڑا پنکچر‘ قرار دے یا۔ فیض اللہ خان کا کہنا ہے کہ ایک روایتی سیاسی جماعت سے تو آپ یہ توقع کر سکتے ہیں مگر تبدیلی اور میرٹ کی علمبردار جماعت تحریک انصاف پر یہ ایک سیاہ دھبہ ہے۔

مزیدخبریں