سوئی کے نکے سے گذرتے فرشتے

سوئی کے نکے سے گذرتے فرشتے
سوئی کے نکے سے گذرتے فرشتے

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

      آج کل ہر کوئی ایک کام میں مگن ہے کہ کس طرح ہیلی کاپٹر کا فی کلومیٹر کرایہ اس طرح  ایڈجسٹ کیا جائے کہ  اس سے  ہر اس نظریے کو تقویت ملے کہ کہ اس  کا موقف درست تھا  اور باقی غلط – اب تو   روز  ہی بغداد کی خلافت کا  وہ دور یاد کروایا جا رہا ہے کہ جب خون کی ندیاں بہہ رہی تھیں  اور خلافت کی نیا ڈوب رہی تھی تو   مشیرانِ دربار   اس بحث میں مگن تھے کہ سوئی کے نکے سے ایک فرشتہ گذر سکتا ہے  یا  نہیں – اس سارے کھیل میں  ، میں بھی سوچ رہا ہوں کہ اپنے حاکم کے چائے بسکٹ اور ہیلی کاپٹر کے فی کلومیٹر کا حساب کرنے والی قوم پچانوے ارب ڈالر کی مقروض کیسے ہو گئی؟ ۔ یہ فکرِ زیاں ہے یا  وہ بحث کہ جس سے ملکی  مستقبل کو فائدہ پہنچے نہ پہنچے لیکن طرفین میں کسی کے جذبات کی تسکین ضرور ہوگی ۔

ملک کے منتخب وزیر اعظم نے اپنے پہلے خطاب میں قوم سے کہا تھا کہ جب ان پہ ہاتھ پڑے گا تو چینخیں نکلیں گی۔ ملک میں کئی  میڈیا سیلز کام کر رہے ہیں اور کچھ حکومتی شخصیات بھی اپنے بیانات سے انہیں وہ مواقع فراہم کر رہی ہیں کہ جن کو پکڑ کے سارے دن کا واویلا یہ ظاہر کرتا ہے کہ شاید وزیر اعظم صاحب کا ہیلی کاپٹر اور فی کلومیٹر خرچہ ہی  سب سے بڑے  ملکی مسائل ہیں ۔ پی آئی اے ڈوبا ۔ ایک جہاز جرمن کے ایک میوزیم میں اڑان بھر کے خود پہنچا ۔ مالٹا کے ایک ہوائی اڈے پہ اس کا قیام اور اس اڈے پہ جہاز کی پارکنگ کےلاکھوں ڈالرز د یے گئے لیکن ہم ٹس سے مس نہ ہوئے – لیوٹن لندن پر کھڑے  اس انتظار میں کہ صاحبِ فراش کب   صحت یاب ہوں  اور وہ جہاز کب واپس اڑان بھرے کسی کی توجہ کا مرکز نہ ٹھہرا   پر آج یہ شوروغوغا سن کر میری تو سمجھ سے باہر ہے کہ کیا ہم بھی خلافتِ بغداد کے ڈوبتے سفینے میں اسی بحث میں الجھ گئے ہیں کہ جس  کے نتائج کچھ بھی ہوں لیکن وقت کا ضیاع ضرور ہے – یا  شاید چھوٹے مسئلوں میں الجھا کر بڑے مسئلوں اور کرپشن کے کیسز سے توجہ ہٹانا ہی ان میڈیا ہاؤسز کی بنیادی ذمہ داری ہے ۔ میڈیا آج کے دور میں اپنی اہمیت منوا رہا ہے اور صحافت کی کھال میں چھپی کالی بھیڑیں بے نقاب ہو رہی ہیں لفافہ جرنلزم سے،پلاٹس کی الاٹمنٹ اور عوام کے ٹیکس پہ ہوتے حج بیت اللہ کے سفر اُس وفاداری کی قیمت ادا کرہے ہیں جس  سے کل وہ بہرہ ور ہوتے رہے ہیں اور آج  ان کابنا  اپنا امیج بھی متاثر ہو رہا ہے – ہر کسی کو اپنی اپنی پڑی ہے اور قوم بیوقوف بنی روز نئی توجیہہ لئے حا ضر ہوتی ہے – ہر نئی وضاحت معاملے کو بڑھا  کے بگاڑ رہی ہے - اب جبکہ سادگی کے سفر میں کھابے گئے اور بڑے بڑے میڈیا مالکان کے اشتہارات پہ پابندی لگی تو ہاتھ کلیجے کو یوں پڑا کہ سارا نزلہ ہی ایک ہیلی کاپٹر پہ نکلا۔

 ڈیلی میل کی اکیس بڑی بڑی برطانوی جائیدادیں ہوں یا سرے محل سے چرچل ہوٹل کے قیام ۔ امریکہ میں روز ویلٹ ہوٹل پہ للچائی نظریں ہوں یا جاپان کی بیچی گئی ایمبیسی کی عمارت ۔ کالعدم این آر او کے مراعات یافتہ ہوں یا چند روپوں میں بنکوں کے خریدار ہر کوئی اس کوشش میں ہے کہ حکومت کل کی بجائے آج ہی اپنی روش بدلے  اور پھر اسی ذاتی مفادات  کے سامنے سرنگوں ہوجائے  کہ جس  ڈگر پہ پچھلے ستر سال سے وہ  چلتی آئی ہے ۔ قوم ہے ،اس کا کیا ہے ،پھر اسے مختلف آراء  میں الجھا دیا جائے گا  اور بنتی قوم سے ایک  ہجوم میں بانٹ دیا جائے گا جہاں پھر وہی بحث ہو گی کہ ایک سوئی کے نکے سے فرشتہ گذر سکتا ہے کہ نہیں ؟؟۔ ابھی تو حکومت کے دو ہفتے مکمل نہیں ہوئے اور تنقید کا یہ عالم ہے کہ جیسے انہیں پچھلے دو سال کا حساب دینا ہے ۔ نئی حکومت کے مانگے مہرے جن میں سے کئی پارٹیاں بدلنے والے وزارتوں اور مراعات کی دوڑ میں یوں اندھے ہوئے جاتے ہیں کہ ملکی مفاد کو ایک طرف رکھ کے اپنے پیٹ پہ ہاتھ پھیر رہے ہیں کہ کیسے اپنی موجودگی کا احساس دلایا جائے اور پھر کمزور حکومت کو بلیک میل کیا جائے ۔

ہمارے وزیراعظم صاحب کی کئی سیاسی مجبوریاں ہیں لیکن میں نے شوکت خانم لاہور کے ابتدائی  دنوں  میں اس ادارے میں کام کیا ہوا ہے ۔ میں جانتا ہوں کہ جتنے مشکل حالات ہو ں اتنا ہی خان صاحب اس سے لطف اندوز ہوتے ہیں اور اتنا ہی پسینہ بہاتے اپنے آپ کو ترو تازہ پاتے ہیں ۔ میں یہ ڈنکے کی چوٹ پہ کہتا ہوں ایک دفعہ پھر انہوں نے عمران خان صاحب کے عزم و استقلال اور حوصلے کا غلط اندازہ لگایا ہے ۔ کیونکہ وہ کئی دفعہ اپنے مخصوص طرز تخاطب سے باور کروا چکے ہیں کہ خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی جس کو اپنی حالت کے آپ بدلنے کا خیال نہ ہو ۔ کرکٹ کے میدان میں نیوٹرل امپائرز کے ساتھ لڑنے والا اور مخالف کو دوسری باری دینے والا کتنے مضبوط اعصاب کا ہو گا یہ کسی کو اندازہ نہیں ہے ۔ نہ وہ بلیک میل ہوگا نہ روش بدلے گا اسی لئے اسٹیٹس کو کا یہ شور و غوغا اس بات کا اعلان ہے کہ یہ بت منہ کے بل گر کے ٹوٹنے والا ہے ۔ پہلی دفعہ پاک افواج کی مشترکہ میٹنگ کا اکیلا دولہا ہمارے وزیر اعظم تھے – اب جب کہ ادارے اپنی حدیں سکیڑ رہے ہیں اور پنجاب کے آئی جی اپنے ہی ادارے کے ڈی پی او کے ساتھ  ملک کی سب سے بڑی عدالت اور اپنے طرزِ عمل میں منفرد چیف جسٹس جناب ثاقب نثار صاحب کے سامنے پاکپتن میں ہونے والے واقعات میں اپنی اپنی حدود و قیود میں بیانات دے ہے ہیں  تو اس سنورتے پاکستان کو ایک موقع ضرور ملنا چاہیئے کہ جس میں بھر پور اعتماد کے ساتھ ادارے  بھی اپنا آپ منوا سکیں – ابھی سوئی کے نکے سے فرشتہ گذارنے کو بہت وقت پڑا ہے – مہربانی کیجئے اور ملکی مسائل پہ بحث کیجیئے اور ایک قوم کے ہونے کا تاثر اجاگر کیجیے۔

۔۔

نوٹ:  روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ