A PHP Error was encountered

Severity: Notice

Message: Undefined offset: 0

Filename: frontend_ver3/Sanitization.php

Line Number: 1246

Error

A PHP Error was encountered

Severity: Notice

Message: Undefined offset: 2

Filename: frontend_ver3/Sanitization.php

Line Number: 1246

اہرام مصر سے فرار۔۔۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط نمبر 29

اہرام مصر سے فرار۔۔۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط نمبر 29

Sep 03, 2018 | 13:06:PM

اے حمید

میں نے اپنے بھائی کو تسلی دی اور کہا کہ میں خود کو بادشاہ کے حضور پیش کرنے جا رہا ہوں میرے ساتھ جو ہوگا دیکھا جائے گا لیکن ہمارے ماں باپ کی جان بچ جائے گی۔ میرے اس فیصلے سے بھی میرا بھائی سخت رنجیدہ ہوا اور سسکیاں بھرنے لگا۔ میں نے اسے کہا کہ تم فکر نہ کرو میں مروں گا نہیں۔ میں جا رہا ہوں۔ یہ کہہ کر میں اپنے مکان سے نکلا اور سرائے میں آکر گھوڑے پر بیٹھا اور شاہی محل کی طرف چل پڑا۔ راستے میں ہی کچھ سپاہیوں نے مجھے پہچان کر گرفتار کر لیا اور زنجیروں میں جکڑ کر حموربی کے دربار میں پیش کر دیا۔ میں پہلی بار سمیری عہد کے اس عظیم الشان بادشاہ کو دیکھ رہا تھا جو اپنے ضابطہ قوانین اخلاق پر سختی سے عمل کرتا تھا۔ اس نے مجھ پر ایک قہر بھری نظر ڈالی اور حکم دیا۔

’’ اس بدکردار کفش بردار کو اگر میں نے قتل کو سزا دی تو یہ فوراً مر جائے گا۔ میں نے اس کی کھال کھنچوا دی تو بھی اسے جلد موت آجائے گی۔ اس نے جس گھناؤنے جرم کا ارتکاب کیا ہے اس کے آگے اس کی آنکھیں نکلوا دینے کی سزا بھی کچھ حیثیت نہیں رکھتی۔ میں اسے چاہ بابل میں پھینکوانے کا حکم دیتا ہوں جہاں یہ تاریک زمین کے اندر کوڑھی بن کر سسک سسک کر مرے گا۔ اس کے ماں باپ کو رہا کر دیا جائے لیکن اے ذلیل کفش بردار تمہیں معلوم ہو کہ چاہ بابل میں جو بھی ڈالا گیا اس کی لاش بھی باہر نہیں نکل سکی۔ لیکن اگر کسی ترکیب سے تم نے وہاں سے فرار ہونے کی کوشش کی تو تمہارے ماں باپ اور بھائی کے جسموں کے ٹکڑے کر کے محل کے شکاری کتوں کو کھلا دیئے جائیں گے۔ ‘‘

میں زنجیروں میں جکڑا خاموش سر جھکائے کھڑا بادشاہ حموربی کا حکم سن رہا تھا۔ مجھے ایک ناکردہ گناہ کی سزا مل رہی تھی اور میں اپنے ان دیکھے بوڑھے ماں باپ کے لئے چاہ اہل کی تاریک موت کے حوالے کیا جا رہا تھا۔ میں اگر چاہتا تو بڑے آرام سے اپنی زنجیریں توڑ کر آزاد ہو سکتا تھا اور دنیا میں کوئی تیر ، کوئی نیزہ ، کوئی تلوار ایسی نہیں تھی جو مجھے ہلاک کر سکتی لیکن میں اپنی مرضی کے خلاف بابل کے ایک بوڑھے رتھ بان اور اس کی بوڑھی بیوی کا بیٹا بنا دیا تھا اور یہ دو بے گناہ انسانوں کی زندگیوں کا مسئلہ تھا۔ اس لئے میں اپنے بارے میں شاہی دربار میں یہ ہر گز نہیں بتانا چاہتا تھا کہ اصل میں میں کون ہوں اور جس جرم کی پاداش میں مجھے ایک ہولناک سزادی جا رہی ہے وہ مجھے سے کبھی سر زد نہیں ہوا۔ میری زنجیریں کھول کر مجھے ہولے کے ایک پہیوں والے پنجرے میں ڈال دیا گیا اور چاہ بابل کی طرف روانہ ہوگیا۔

اہرام مصر سے فرار۔۔۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط نمبر 28پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

****

لوہے کا پنجرہ جس میں بند تھا چاہ بابل کے سامنے لا کر کھڑا کر دیا گیا۔ تاریخ کی اس قدیم ترین دہشت افروز عقوبت گاہ کے دروازے کو میں حیرت کی آنکھ سے دیکھ رہا تھا۔ عہد بربریت کے ہزاروں سالہ سفر کے نشیب و فراز میں میں نے ہزاروں عقوبت گاہیں دیکھیں مگر چاہ بابل کی عقوبت گاہ کی اذیت اور بربریت کی وحشت انگیز مثال کہیں نہ ملی۔ یہی وہ چاہ بابل تھا جس میں خدا کے دو برگزیدہ بندوں ہاروت ماروت کو احکام خداوندی کے خلاف ورزی کی پاداش میں ڈال دیا گیا تھا۔

چاہ بابل کوئی اندھا کنواں نہیں تھا۔ یہ ایک سینکڑوں فٹ گہرا اور کشادہ گڑھا تھا جس کی دیوار کے ساتھ ساتھ ایک چوڑا ہموار زینہ ڈھلان کی صورت میں نیچے چاہ بابل کے تہہ تک اترتا چلا گیا تھا۔ اس ہموار ڈھلانی زینے کی ہر منزل پر چھوٹے چھوٹے گول برج بنے ہوئے تھے جن میں مسلح سپاہی ہر وقت پہرہ دیتے تھے۔ یہ کنواں تہہ میں جا کر ختم نہیں ہو جاتا تھا بلکہ یہاں سے اس کے زمین کے اندر ہی اندر کھود کر بنائے گئے تہہ خانے شروع ہوجاتے تھے جو زمین کے نیچے نصف مربع میل کے قطر میں بنے ہوئے تھے۔ ان کی چھت اتنی نیچی تھی کہ آدمی کو جھک چلنا پڑتا تھا۔ یہاں اتنی ہی روشنی اور تازہ ہوا کافی سمجھی گئی تھی جو کنویں کے اوپر سے اندر داخل ہوتی تھی۔ اور یہ تہہ خانوں کے تھوڑی دور آکر دم توڑ دیتی تھی۔ نم زمین سے اٹھتے ہوئے عجیب عجیب قسم کے ناگوار بخارات فضا کو مسموم کرتے رہتے اور تاریک اذیت ناک ماحول میں بد قسمت معتوب انسانوں کے پیروں کی آہنی بیڑیوں کی آواز دلوں کو دہلایا کرتی تھی۔

مجھے پنجرے سے باہر نکال کر میرے پاؤں میں بیڑیاں ڈال دی گئی۔ ان بیڑیوں میں آہنی کیلے کانٹے ابھرے ہوئے تھے جو پاؤں کے ساتھ چھو جانے سے ٹخنوں کو زخمی کرتے تھے۔ میرے گلے میں لوہے کا ایک بھاری طوق ڈال دیا گیا۔ چار سمیری سپاہیوں کا دستہ مجھے پنجرے سے نکال کر جانور کی طرح ہنکاتا چاہ بابل کے ڈھلانی ہموار زینے پر نیچے کی طرف لے چلا۔ کنویں کی پانچ منزلیں تھیں۔ ہر منزل کے برج میں سے سمیری سپاہی مجھے دیکھتے اور اپنی زبان میں گالیاں دیتے اور قہقہے لگاتے تھے۔

ڈھلانی زینے کے کنارے کہیں کہیں میں نے انسانی کھوپڑیاں اور ہڈیاں بکھری ہوئی دیکھیں۔ مجھے بتایا گیا کہ یہ ان قیدیوں کی کھوپڑیاں ہیں جنہوں نے آج سے بیس برس پہلے یہاں سے فرار ہونے کی کوشش کی تھی۔ چاہ بابل کی آخری منزل کی تہہ میں پہنچتے ہی دن کی روشنی ماند پڑگئی اورزمین دوز تہہ خانوں کی نم آلودہ ناگوار ہوا نے میرا خیر مقدم کیا۔ کنویں کی تہہ میں بھی ایک تنگ دروازہ تھا جو تہہ خانوں کی تنگ و تاریک بیمار اور منحوس دنیا میں کھلتا تھا۔ یہ دروازہ لوہے کا تھا اور اس کے باہر دو اسلحہ پوش دربان پہرہ دے رہے تھے۔ دروازے کا ایک پٹ کھول کر مجھے اندر دھکیل دیا گیا۔ دروازے کے اوپر لوہے کی جالی دار پٹی تھی۔ اس پٹی کی جالی میں سے کنویں میں پھیلی ہوئی دن کی نم آلودہ دھیمی روشنی اندر آرہی تھی۔ میں اس بیمار پھیکی روشنی کی رہنمائی میں آگے بڑھا۔ میں جھک کر چل رہا تھا کیونکہ کہ طویل اور عریض تہہ خانے کی چھت بہت نیچی تھی۔ فضا میں بیماری اور گندگی کی بدبو پھیلی ہوئی تھی۔ کسی کسی تہہ خانے کے قریب سے گذرتے ہوئے مجھے انسان کے کراہنے کی آواز سنائی دیتی۔ ان تہہ خانوں کے در کھلے تھے اور اندھیرے میں مقہور و معتوب انسان گندے چیتھڑوں کے ڈھیر کی طرح پڑے تھے۔ نصف مربع میل میں پھیلے ہوئے اس تنگ و تاریک زمین دوز تہہ خانے میں گول دیوار کے ساتھ ساتھ بے شمار کوٹھریاں بنی ہوئی تھیں جہاں صبح اور شام اندھیرا چھایا رہتا۔ وسط کے پتھریلے ستونوں میں جگہ جگہ پانی کے بڑے بڑے لکڑی کے کپے رکھے ہوئے تھے۔ ان کے ساتھ ہی لکڑی کے بڑے مرتبان بھی تھے جو خشک سوکھی روٹیوں کے ٹکڑوں سے بھرے ہوئے تھے۔ قیدی جانوروں کی طرح رینگتے ہوئے آتے اور ان کپوں میں سے پانی نکال کر اپنے لکڑی کے پیالے بھرتے اور ان میں خشک ٹکڑے ڈبو کر کھاتے اور جانوروں کی طرح رینگتے ہوئے واپس اپنے تہہ خانوں میں چلے جاتے۔

وہ کئی کئی سالوں سے وہاں پڑے تھے اور اب ایک دوسرے سے بات کرنا بھی بھول چکے تھے۔ ان کا حافظہ ختم ہوگیا تھا۔ اور وہ انپی زبان بھی بھول چکے تھے۔ وہ ایک دوسرے سے کوئی بات نہیں کرتے تھے۔ ان میں سے کوئی ایسا نہ تھا کہ جو برص اور کوڑھ کے مرض میں مبتلا نہ ہو۔ ہفتے میں ایک بار حموربی کے سپاہی منہ سر پر کپڑا لپیٹ کر یہاں آتے اور مرتبانوں میں سوکھے ٹکڑے اور پانی بھر کر واپس چلے جاتے۔ اگر انہیں کسی قیدی کی لاش لالٹین کی روشنی میں نظر آتی تو اسے رسے کی مدد سے کھینچ کر باہ رلے جا کر جلا ڈالتے۔

(جاری ہے... اگلی قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں)

مزیدخبریں