فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر509

03 ستمبر 2018 (13:52)

علی سفیان آفاقی

چارلی نے اپنی طویل خود نوشت میں یہ تمام واقعات تفصیل سے لکھے ہیں۔لکھتے ہوئے خود بھی رویا ہے اور پڑھنے والوں کو بھی رلایا ہے۔وہ ایک سیلف میڈ انسان تھا جو ذرے سے آفتاب بن کر ساری دنیا کو اپنی روشنی سے منور کر رہا تھا۔امریکا نے عزت ٗ دولت او رشہرت دی تھی اور چارلی نے امریکا اقوام عالم میں ایک معتبر مقام دلایا تھا۔اس کے باوجود اس نے اپنی برطانوی شہریت ترک نہیں کی۔وہ خود کو بڑے فخر سے ’’برٹش‘‘کہا کرتا تھا۔امریکی اس کے اس انداز سے نالاں تھے۔مزید کشیدگی اس وقت پیدا ہوئی جب اپنے ترقی پسندانہ خیا لات او ر اشتراکیوں سے میل ملاپ کے باعث اسے کمیونسٹ قرار دے دیا گیا۔کمیونسٹ ہونا اس وقت امریکا میں بہت بڑی گالی اور جرم عظیم تھا۔میڈیا ہاتھ دھو کر اس کے پیچھے پڑ گیا۔چارلی نے اس ذہنیت سے بیزار ہو کر امریکاچھوڑنے کا فیصلہ کر لیا۔وہ برطانیہ چلا گیا۔باقی زندگی اس نے سوئزر لینڈ کے ایک پر سکون چھوٹے سے قصبے ویوے میں گزار دی ۔

چارلی امریکا چھوڑنے پر کبھی نہیں پچھتایا البتہ امریکیوں کو بہت جلد احساس ہو گیا کہ وہ کیسے درنایاب سے محروم ہوگئے ہیں۔چارلی کو امریکا واپس لانے کی ہر کوشش ناکام ہو گئی۔وہ امریکا کو ہمیشہ کیلئے خیر باد کہہ چکا تھا۔خاموش فلموں کے زمانے میں وہ بہت بڑا نام تھا۔بولتی فلموں کا دور آیا تو چارلی چپلن نے فلم سازی اور اداکاری ترک کر دی۔اس کا خیال تھا کہ فلم کا ہر منظر بذات خود اپنی وضاحت کر دیتا ہے۔مکالمے اس کے خیال میں فلم کے حسن کیلئے زہر قاتل تھے۔یہی وجہ ہے کہ اس نے فلم سازی سے قطع تعلق کرلیا۔کافی زمانہ گزرنے کے بعد اس نے ایک رنگین متکلم فلم بنائی مگر اس فلم کو بناتے ہوئے اس کو قطعی لطف نہیں آیا۔وہ مکالمے لکھتا اور پڑھتا رہا۔اس کے نزدیک مکالمے قطعی غیر ضروری چیز تھے۔کافی عرصے تک فلم سازی ٗ کہانی نویسی اور ہدایت کاری سے دور رہنے کی وجہ سے وہ وقت کے تقاضوں سے بھی لا علم تھا۔اس کی یہ فلم کامیاب نہیں ہوئی۔اس کے بعد چارلی چپلن نے کوئی فلم نہیں بنائی نہ ہی کسی فلم میں کام کیا۔ اسکے باوجود وہ ایک غیر فانی حیثیت کا مالک ہے ۔دنیائے فلم کی تاریخ اس کے ذکر کے بغیر مکمل نہیں ہو سکتی۔اس نے خاموش ٗبلیک اینڈ وائٹ فلموں کے زمانے میں شاہکار تخلیق کیے تھے جن کی مثال کوئی دوسرا پیش نہیں کر سکا۔اس کی اداکاری کا انداز یہاں تک کہ حلیہ تک سب سے مختلف تھا۔اس کی فلمیں بظاہرمزاحیہ نظر آتی تھیں مگران کے پیچھے پوشیدہ کرب ٗ درد اور آنسوؤں کو ہر صاحب دل محسوس کر سکتا تھا۔وہ ہنس کر اور ہنسا کر لوگوں کو سوچنے اور رونے پر مجبور کر دیتا تھا۔ایسا عظیم فنکارنہ اس سے پہلے پیدا ہوا اور نہ ہی اس کے بعد۔

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر508پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

ستم ظریف دیکھیے کہ چارلی چپلن جیسے تاریخ ساز اداکار اور ہدایت کار کو کبھی آسکر ایوارڈ نہیں دیا گیا۔اس نے فلم سازی اور اداکاری کا آغاز 1964ء میں کیا تھا اور اپنی منفرد اداکاری اور بے مثال فلموں کی وجہ سے دنیا بھر میں سب سے زیادہ جانا پہچانا نام اور چہرہ تھا۔دی گریٹ ڈکٹیٹر ٗگولڈ ررش ٗسٹی لائٹس ٗدی سرکس ٗدی کڈ اس کے چند غیر فانی شاہکار ہیں۔

1947ء میں اس نے بلیک اینڈ وائٹ فلم موسیو وردوبنائی تھی کیونکہ وہ رنگین فلموں کا قائل نہ تھا۔اس فلم کے لیے اسے آسکر کیلئے نامزد کیا گیا تھا مگر وہ آسکر حاصل نہ کر سکا۔اس سے پہلے 1920ء میں اسے فلم’’دی سرکس‘‘ کے لیے بہترین اداکار اور بہترین ہدایت کار کے زمرے میں نامزد کیا گیا تھ۔وہ اس وقت ہالی وڈ کا سب سے زیادہ قابل تعظیم ٗمعروف اور کامیاب اداکار تھا جس کی اداکاری سب سے مختلف تھی۔ مزے کی بات یہ کہے کہ اس فلم کیلئے اسے نہ تو بہترین اداکار تسلیم کیا گیا اور نہ ہی بہترین ہدایت کار۔بھلا اس سے زیادہ ستم ظریفی اور کیا ہوگی؟افسوس کہ معنی خیز اور طنزیہ فلموں کیلئے بھی اسے آسکر کا مستحق نہیں سمجھا گیا۔دنیائے فلم کی اس عظیم شخصیت کو صرف دو بار نامزد کیا گیا مگر آسکر وہ ایک بار بھی حاصل نہ کر سکا لیکن اسے ہمہ گیر صلاحیتوں اور اداکار ی کی وجہ سے ایک اعزازی آسکر سے نوازا گیا۔ کچھ نقادوں کا کہنا ہے کہ چارلی چپلن کو آسکر ایوارڈ اس لیے نہیں دیا گیا کیونکہ اس کی شخصیت اس ایوارڈ کے مقابلے میں بدر جہا عظیم او ربلند تھی۔وہ آسکر کے کسی پیمانے سے بھی بڑھ کر تھا۔وہ انتہائی خود پسند ٗبہت زیادہ متنازعہ شخصیت تھا اور اپنے مقابلے میں کسی کو خاطر میں نہیں لاتا تھا۔دنیائے ادب و صحافت کے نامور ترین لوگ اس سے ملنے کے مشتاق رہتے تھے اور اس کے پرستار تھے۔بڑے بڑے عالمی سیاست دانوں کے ساتھ اس کے برابر کے مراسم تھے ۔وہ خود کو کسی نمائشی اعزاز سے بالا تر سمجھتا تھااور یہ ایک حقیقت تھی۔

چارلی چپلن نے اس دور کی خاموشی مختصر بلیک اینڈ اوئٹ فلموں میں ذہنی بلوغت ٗسیاسی و سماجی شعور اور اعلین ترین ہنرمندی کے جو نمونے پیش کیے ہیںٗ ہالی وڈ آج بھی ان کا جواب پیش کرنے سے قاصر ہے۔کچھ نقادوں کا کہنا ہے کہ چارلی چپلن کو آسکر ایوار اس لیے نہیں دیا گیا کیونکہ اسکی شخصیت اس ایوارڈ کے مقابلے میں بدر جہا عظیم اوربلند تھی۔وہ آسکر کے کسی پیمانے سے بھی بڑھ کر تھا۔وہ انتہای خود پسند ٗبہت زیادہ متنازعہ شخصیت تھا اور اپنے مقابلے میں کسی کو خاطر میں نہیں لاتا تھ۔دنیائے ادب و صحافت کے نامور ترین لوگ اس سے ملنے کے مشتاق میں رہتے تھے اور اس کے پرستار تھے۔بڑے بڑے عالمی سیاست دانوں کے ساتھ اس کے برابر کے مراسم تھے۔وہ خود کو کسی نمائشی اعزاز سے بالا تر سمجھتا تھا اور یہ ایک حقیقت تھی۔چارلی چپلن نے اس دور کی خاموش مختصر بلیک اینڈ وائٹ فلموں میں ذہنی بلوغت ٗ سیاسی و سماجی شعور او اعلی ترین وہنر مندی کے جو نمونے پیش کیے ہیں ٗ ہالی وڈ آج بھی ان کا جواب پیش کرنے سے قاصر ہے۔اس کے باوجود اس کو ایوارڈ کے قابل نہیں سمجھا گیا اور نہ ہی اس نے ایوارڈ دینے والوں کو کبھی گردانا۔وہ انہیں فلمی دنیا کے بونے اور بالشتیے کہا کرتا تھا۔یہ ہالی وڈ کے مشہو زمانہ آسکر ایوارڈ کے ججوں کی دیانت داری اور سوجھ بوجھ کی چندمثالیں ہیں۔ہم نے اپنے ملک میں فلم ایوارڈ تقسیم کرنے والوں کو نکتہ چینی کا نشانہ بناتے ہیں مگر یہ بھول جاتے ہیں کہ دور کے ڈھول سہانے ہوتے ہیں ۔دنیا کے معزز ترین اور مشہو ر ترین فلمی ایوارڈ آسکر بھی مصلحتوں ٗسیاسی جوڑ توڑ اور ججوں کی ذاتی پسند و نا پسند کے تحت ہی تقسیم کیے جاتے ہیں۔

ہاں۔الفریڈ ہچکاک کے سلسلے میں یہ بتاناضروری ہے کہ بعد از مرگ ان کی عظمت کا اعتراف کرتے ہوئے انہیں بھی ایک اعزازی آسکر ایوارڈ سے نوازا گیاتھا۔

کی مرے قتل کے بعد اس نے جفا سے توبہ

ہائے اس زود پشیماں کا پشیماں ہونا

(جاری ہے۔۔۔ اگلی قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں)

مزیدخبریں