امریکی صدارتی امیدوار کی حق گوئی

امریکی صدارتی امیدوار کی حق گوئی

امریکی سینیٹر اور 2020ء کے انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی کی جانب سے صدارتی امیدوار کی نامزدگی کے امیدوار برنی سینڈرز نے مقبوضہ کشمیر کی صورتِ حال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ کشمیر میں چار ہفتے سے نافذ کرفیو فوری طورپر ہٹایا جائے، ان کا کہنا تھا کہ بھارت کی حکومت کا یہ اقدام قبول نہیں کیا جا سکتا ۔ کشمیر کا مسئلہ کشمیریوں کی مرضی کے مطابق حل ہونا چاہئے ۔ بھارت سیکیورٹی کو بنیاد بنا کر کشمیریوں کے حقوق چھین رہا ہے ۔ امریکہ کو چاہئے کہ وہ بھارت کو کہے کہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں بند کی جائیں ، امریکہ کو کشمیریوں کے ساتھ کھڑا ہونا چاہئے ۔ کشمیر اس وقت دنیا کا اہم ایشو بن چکا ہے، جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، سینیٹر برنی سینڈرز نے ان خیالات کا اظہار ہیوسٹن میں اسلامک سوساءٹی ;200;ف نارتھ امریکہ کے کنونشن میں خطاب کرتے ہوئے کیا ۔

برنی سینڈرز ڈیمو کریٹک پارٹی کے صدارتی امیدواروں کی دوڑ میں شامل ہیں اور کھل کر اسرائیل کے خلاف نکتہ چینی بھی کر رہے ہیں ۔ انہوں نے حال ہی میں یہودی ریاست کونسل پرست قرار دیا تھا اور ایک بار پھر کہا ہے کہ اسرائیل کو ضرورت سے زیادہ فوجی امداد نہیں دی جانی چاہئے ۔ اسرائیل کے خلاف ان کے انہی خیالات کی بنا پر اسرائیل نواز سینیٹروں نے ان کے خلاف مہم شروع کر رکھی ہے اور وہ ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں کہ برنی سینڈرز کو صدارتی امیدوار کی نامزدگی میں کامیابی حاصل نہ ہو، اسرائیل کے خلاف بیانات کے بعد اب انہوں نے کشمیر پر بھی جس طرح کھل کر اپنے خیالات ظاہر کئے ہیں وہ امریکی سیاست دانوں کے لئے تو حیران کن ہیں ، تاہم اس سے یہ تاثر ضرور پختہ ہوا ہے کہ برنی حق سچ کی بات کھل کر کر رہے ہیں ، خاص طور پر اس مرحلے پر جب بھارت کو صدر ٹرمپ کی ہمدردیاں حاصل ہیں ۔ انہوں نے امریکی حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ کشمیریوں کے ساتھ کھڑی ہو، کیونکہ کشمیر متنازع علاقہ ہے اور اس کا حل اقوام متحدہ کی قراردادوں کی روشنی ہی میں تلاش کرنا چاہئے ۔ امریکہ کے اندر بھارتی لابی بھی مضبوط ہے اور اس نے اسی بنا پر سینڈرز کے خلاف مہم شروع کر رکھی ہے ۔ دلچسپ صورت حال یہ ہے کہ ایک جانب اسرائیلی لابی اور دوسری جانب بھارتی لابی سینڈرز کو نکتہ چینی کا ہدف بنائے ہوئے ہیں ، لیکن انہیں اپنے خیالات کے اظہار میں کسی قسم کی ہچکچاہٹ محسوس نہیں ہوتی، حتیٰ کہ انہیں یہ خوف بھی دامن گیر نہیں کہ ان کی اس حق گوئی کا نتیجہ یہ بھی نکل سکتا ہے کہ انہیں صدارتی امیدوار کی دوڑ سے نکال باہر کیا جائے، لیکن انہوں نے ان تمام امور سے بے پروا ہو کر اپنی مہم شروع کر رکھی ہے اور اب مظلوم کشمیریوں کی حمایت بھی کر دی ہے ۔

صدر ٹرمپ نے وزیراعظم عمران خان کے دورہ امریکہ کے موقع پر کشمیر پر ثالثی کرانے کا جو شوشہ چھوڑا تھا اس کے خدوخال تو چند روز بعد ہی واضح ہونا شروع ہو گئے تھے جب بھارتی حکام نے یکے بعد دیگرے کہنا شروع کر دیا تھا کہ بھارت تو ثالثی پر رضامند ہی نہیں ، ایسے میں صدر ٹرمپ کیونکر ایسا کردار ادا کر سکتے ہیں ، لیکن انہوں نے کہا کہ انہوں نے نریندر مودی سے بات کر لی ہے 5اگست کو مودی نے کشمیر کی خصوصی اہمیت ہی ختم کر دی اور ;200;ئین سے وہ ;200;رٹیکل نکال دیئے جو ریاست کو بعض ایسے حقوق دیتے تھے جس کی وجہ سے غیر ریاستی عناصر کشمیر میں جائیداد نہیں خرید سکتے تھے اور نہ ہی ان کے ووٹ ریاست میں موجود تھے ۔ 5اگست سے بہت پہلے مودی کی تیاریاں بتا رہی تھیں کہ وہ کوئی بڑا اقدام کرنے والے ہیں ۔ پہلے سے فوج کی بھاری نفری کی موجودگی کے باوجود مزید فوجی دستے بھی ریاست میں متعین کئے جا رہے تھے اور ریاست کا ہر باشندہ سہما اور ڈرا ہوا محسوس کر رہا تھا کہ اس ماحول میں مودی نے ریاستی حیثیت ختم کر دی ۔ امریکہ نے اپنے پہلے ردعمل میں اسے بھارت کا اندرونی معاملہ قرار دے دیا، حالانکہ متنازع علاقے کے بارے میں جسے اقوام متحدہ نے اپنے اجلاس میں ایک بار پھر متنازع کہا ہے اس قسم کا کوئی بھی فیصلہ اندرونی کیسے ہو سکتا ہے ۔ اب ثالثی کا معاملہ تو ختم ہو گیا ہے اور شاید جس مقصدکے لئے یہ شوشا چھوڑا گیا تھا وہ بھی پورا ہو گیا ہے اس لئے امریکی حکومت تو اس معاملے میں کھل کر بات نہیں کر رہی، لیکن ایک صدارتی امیدوار نے صاف بات کرکے حق ادا کر دیا ہے ۔ توقع کی جا رہی ہے کہ اب صدارتی انتخابی مہم کے دوران دوسرے امیدوار بھی اس سلسلے میں اپنی رائے کے اظہار پر مجبور ہوں گے ۔

ایک امریکی تھنک ٹینک نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کی صورت حال افغان امن مذاکرات پر اثر انداز ہوسکتی ہے ۔ افغان مذاکرات تو ابھی جاری ہیں اور یہ کہنا مشکل ہے کہ ان کا اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا کیونکہ ابھی اس راہ میں دوچار بہت سخت مقام بھی متوقع ہیں ۔ امریکہ افغانستان میں اپنے 8600فوجی مستقل طور پر رکھنا چاہتا ہے جبکہ طالبان تمام غیر ملکی افواج کا مکمل انخلا چاہتے ہیں ۔ اس پر بالآخر کیا سمجھوتہ ہوگا فی الحال تو اس بارے میں کچھ کہنا مشکل ہے، تاہم کشمیر کی صورت حال اور بھارت کی جنگ کی دھمکیوں نے پاکستان کو مجبور کردیا ہے کہ وہ اپنی مشرقی سرحد پر تمام تر توجہ مرکوز رکھے جو بھارت کے ساتھ ملتی ہے، کسی ایمرجنسی کی صورت میں پاکستان نہ صرف مغربی سرحد سے اپنی فوج مشرقی سرحد پر منتقل کرنے پر مجبور ہوگا بلکہ افغان مذاکرات میں اس کی دلچسپی متاثر ہونے کا بھی امکان ہے، جب سے بھارت نے کشمیر کی حیثیت تبدیل کی ہے کشمیر کی کنٹرول لائن پر کشیدگی بھی بڑھ گئی ہے اور تسلسل کے ساتھ دونوں ملکوں میں جنگ بلکہ ایٹمی جنگ کی باتیں بھی ہو رہی ہیں اس لئے یہ بہت ضروری ہے کہ کشمیر کا مسئلہ فوری طور پر مذاکرات کے ذریعے حل کیا جائے اور ریاست میں چار ہفتے سے جاری کرفیو ختم کیا جائے اور انسانی حقوق بحال کئے جائیں ۔ برنی سنیڈرز نے بہت بروقت ان حقوق کی بحالی کا مطالبہ کردیا ہے اب امریکی اداروں کا فرض ہے کہ اس جانب متوجہ ہوں ۔

وزیراعظم عمران خان نے ایک بارپھر عالمی برادری سے اپیل کی ہے کہ وہ مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے اپنی ذمے داریاں نبھائے، لیکن بظاہر تو یہی لگتا ہے عالمی برادری بھی اس سلسلے میں ایک حد سے زیادہ آگے جانے کے لئے تیار نہیں ، خود امریکی صدر چار دن تک ثالثی کا ڈھول پیٹنے کے بعد خاموش ہوگئے ہیں اور مودی سے ملاقات کے بعد تو وہ اس پر قائل نظر آتے تھے کہ پاکستان اور بھارت مل کراپنے اختلافات طے کرلیں گے، جبکہ صورت حال یہ ہے کہ ابھی تک تو مذاکرات کا بھی دور دور تک امکان نہیں ، ایسے میں اختلافات طے ہونے کی بات تو قبل از وقت ہے ۔ ابھی تو کشمیر کے حالات کی بھی دنیا کھل کر مذمت نہیں کر رہی ایسے میں برنی سینڈرز جیسے لوگ غنیمت ہیں جو اپنی انتخابی مہم کی نزاکتوں کو نظرانداز کرکے کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر رنجیدہ ہیں اور اپنے ملک سے یہ توقع رکھتے ہیں وہ حالات بہتر بنانے میں اپنا کردار ادا کرے گا ۔

مزید : رائے /اداریہ


loading...