درست ترجیحات کا تعین

درست ترجیحات کا تعین

  

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ کراچی قومی معاشی مرکز ہے، ملک کے استحکام اور سلامتی کے لئے کراچی میں امن ضروری ہے پاکستان کا کوئی بھی شہر اِس سطح کی قدرتی آفت سے نہیں نبٹ سکتا،انہوں نے اِس بات کا اعادہ کیا کہ ضرورت کے وقت فوج عوام کو مایوس نہیں کرے گی، ہمارا مسئلہ وسائل کی عدم دستیابی نہیں، بلکہ ترجیحات کا درست تعین ہے، کراچی کور ہیڈ کوارٹر میں جنرل قمر جاوید باجوہ کو بتایا گیا کہ شہر میں غیر معمولی بارشوں اور دہائیوں سے جمع ہونے والے کچرے، بغیر منصوبہ بندی کے پھیلی آبادیوں اور انفراسٹرکچر کے مسائل نے مل کر صورتِ حال کو پیچیدہ بنا دیا ہے،اس موقع پر آرمی چیف نے کہا کہ اصلاحِ احوال کے لئے وفاقی اور صوبائی حکومت کے تمام منصوبوں کو فوج کی بھرپور تائید حاصل ہو گی تاکہ مستقبل میں ملک کی معاشی سلامتی کے لئے مضمرات پیدا نہ ہوں،اِس قدرتی آفت نے پاکستان میں بڑے شہروں کے انتظام کی ترجیحات درست کرنے کا موقع فراہم کیا تاکہ مستقبل میں ایسی آفات سے بچ سکیں۔انہوں نے تباہی سے نپٹنے کے کاموں کی رفتار پر اطمینان کا اظہار کیا اور ہدایت کی کہ امدادی کاموں کے تحت خدمات کی بحالی اور بدترین متاثرہ لوگوں کو ترجیح دی جائے، کسی خاص مقام یا برادری کے کسی بھی اثرو رسوخ کو ضرورت مندوں کے لئے مختص توجہ یا وسائل ہٹانے کی اجازت نہیں ہونی چاہئے۔ یہ ایک قومی سطح کی آفت ہے، جس سے نپٹنے کے لئے ہم سب ایک ہیں۔

آرمی چیف نے کراچی میں بارشوں اور سیلاب سے پھیلنے والی تباہی پر بالکل درست تناظر میں بات کی ہے اور واضح کر دیا ہے کہ وسائل کا مسئلہ نہیں،اصل ضرورت ترجیحات کے تعین کی ہے، دُنیا کے کسی بھی مُلک کے پاس لامحدود وسائل نہیں ہوتے۔ یہ درست ترجیحات ہی ہیں جو ان کی افادیت کو بڑھاتی یا کم کرتی ہیں۔اگر وسائل دانشمندی اور سوچ بچار کے بعد اس طرح خرچ کئے جائیں کہ کم وسائل سے بھی زیادہ سے زیادہ فائدہ حاصل ہو تو اُن کے مثبت نتائج سامنے آتے ہیں اگر وسائل بے دریغ اور سوچے سمجھے بغیر ہی خرچ کر دیئے جائیں تو اِس بات کا امکان ہوتا ہے کہ ان سے مطلوبہ نتائج حاصل نہ ہوں،کراچی میں ترجیحات کا مسئلہ تو اپنی جگہ ہے،لیکن منصوبہ بندی کے بغیر شہر کے پھیلاؤ نے اس کے مسائل کو گھمبیر بنا دیا ہے۔اگر اب یہ جائزہ لیا جائے کہ شہر کو بے ہنگم طریقے سے کیوں پھیلنے دیا گیا اور کون اس کا ذمہ دار تھا تو تہہ در تہہ پیچیدگیوں کی وجہ سے شاید کسی حتمی نتیجے پر نہ پہنچا جا سکے،لیکن عمومی طور پر اتنا تو معلوم ہی ہے کہ کراچی کی  ترقی کے ذمہ دار  اداروں میں بیٹھے ہوئے لوگوں نے وسائل کے ضیاع میں اپنا بھرپور حصہ ڈالا اور ذاتی مالی منفعت کی خاطر ایسی تعمیرات کی اجازت دے دی گئی، جو بارش جیسی آفت کے دوران مصائب میں اضافے کا باعث بنی ہیں۔اب اگر ایسی تعمیرات کو مسمار کرنے کا سلسلہ شروع کر دیا جائے تو نئے مسئلے سامنے آئیں گے،لیکن جب یہ تعمیرات ہو رہی تھیں اِس وقت انہیں روکا جاتا تو آج ہمیں یہ دن نہ دیکھنا پڑتا،لیکن وقتاً فوقتاً آبائے شہر کے منصب پر فائز ہونے والوں نے اپنی ذمہ داریاں امانت و دیانت کے اصولوں کے تحت انجام نہیں د یں،شہر کے ترقیاتی منصوبے اور پارک وغیرہ کاغذوں میں تو بنتے رہے،لیکن زمین پر ان کا وجود نہیں تھا،ان پر خرچ ہونے والی رقم بھی مخصوص لوگوں کی جیبوں میں چلی گئی،اب جب مصیبت آئی تو ایک دوسرے پر الزام تراشیوں کا سلسلہ شروع ہے جسے خیر باد کہہ کر ہنگامی اقدامات کی ضرورت ہے،اب بھی اگر ترجیحات کا درست تعین کر کے اخراجات کئے جائیں تو تھوڑے ہی عرصے میں حالات بھی بہتر ہو سکتے ہیں، اور آئندہ کے لئے بہتر منصوبہ بندی کے ذریعے ماضی کی کوتاہیوں کا ازالہ بھی ممکن ہے،لیکن اتنا تو ہے کہ جو کام عشروں سے بگڑتے رہے ہیں اُنہیں اب کسی بھی جادوئی طریقے سے تو ختم کرنا ممکن نہیں،ان کی اصلاح کے لئے وقت لگے گا۔وزیراعظم عمران خان بھی کراچی کے دورے پر جانے والے ہیں،جہاں وہ شہر کے لئے امدادی پیکیج کا اعلان کریں گے، وہ جو بھی اعلان کریں، اگر اعلان کردہ رقوم درست طریقے سے خرچ کی جائیں اور ماضی کی طرح خورد بُرد نہ ہو  تو مسائل کے حل میں بڑی مدد مل سکتی ہے۔

شہر کا بے ہنگم پھیلاؤ اگر مسئلہ ہے تو اب بھی اس کا حل نکالا جا سکتا ہے، جتنا شہر پھیل چکا اب اسے مزید پھیلنے سے روکنے کے لئے منصوبہ بندی کے تحت نئے علاقوں کو  ترقی دی جائے، کراچی اگرچہ بڑا کاسموپولیٹن شہر ہے،لیکن دُنیا میں اس سے بڑے شہر بھی موجود ہیں اور ان شہروں کی انتظامیہ نے پوری منصوبہ بندی کے تحت شہریوں کو مدنی سہولتیں فراہم کی ہیں، بارشیں وہاں بھی ہوتی ہیں اور کہیں کہیں تو کراچی سے زیادہ ہی ہوتی ہوں گی،لیکن بارشوں کے پانی کے نکاس کا ایسا انتظام کیا گیا ہے کہ جونہی بارش رُکتی ہے، بارشی پانی مخصوص نالوں کے ذریعے نکل جاتا ہے اور شہر دھل کر صاف ہو جاتا ہے، کہیں کچرے کا نام و نشان نہیں رہتا، سیوریج کے نالے بھی کچرے سے بند نہیں ہوتے، ہمارے سامنے ترکی کے شہر استنبول اور ایران کے دارالحکومت تہران کی مثالیں ہیں، جن کے مئیروں نے نہ صرف ان شہروں کو ہر لحاظ سے مثالی شہر بنا دیا، بلکہ اُن کے اس کام کو یوں بھی  سراہا گیا کہ ان کے میئر ترقی کر کے مُلک کے اعلیٰ ترین سیاسی عہدوں تک پہنچ گئے۔کراچی کو کوئی رجب طیب اردوان، یا محمود احمدی نژاد  تو نہ مل سکا، عبدالستار  افغانی اور نعمت اللہ خان کا وجودِ مسعود ہی غنیمت تھا، کوئی دوسرا ان کی جگہ بھی نہ لے سکا،جس کا نتیجہ نہ صرف یہ شہر بھگت رہا ہے،بلکہ اس کے اثرات پورے مُلک کی سیاست پر بھی مرتب ہو رہے ہیں۔ان حالات میں ضرورت اِس بات کی ہے کہ جو بھی وسائل دستیاب ہیں اُن کا بہترین استعمال کیا جائے،اس کے لئے نئے سرے سے منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔اگر پہلے کی طرح ترقیاتی رقوم ضائع ہوتی رہیں یا کاغذی منصوبے ہی بنتے رہے تو مسائل حل ہونے کی بجائے بڑھتے رہیں گے۔

مزید :

رائے -اداریہ -