نبی کریم ﷺ سے حضرت امام حسین  ؓ تک

نبی کریم ﷺ سے حضرت امام حسین  ؓ تک
نبی کریم ﷺ سے حضرت امام حسین  ؓ تک

  

آنکھ میں ریت کا کوئی ذرہ پڑجائے تو کسی کروٹ چین نہیں پڑتا ہاتھ میں کانچ کا ٹکرا لگ جائے یا پاؤں میں کانٹا ہی چبھ جائے تو بھی طبیعت کی کیفیت پارے کی طرح ہوجاتی ہے چبھن ایک جگہ ٹھہرنے نہیں دیتی۔ گرمی کی تپتی دوپہر میں کہیں چلتے چلتے تھک جائیں حدت میں شدت ہو تو پیاس سے حلق میں جیسے کانٹے ہی اگ آتے ہیں ہونٹ تشنگی سے پتھر ہوتے جاتے ہیں کوئی کسی بھی دکھ درد میں مبتلا ہو تو رورو کر آنکھوں سے آنسووں کا ذخیرہ ہی ختم ہو کررہ جاتا ہے ہم کسی محاذ پر لڑتے لڑتے اپنا سب کچھ لٹا دیں گنوا دیں تنہا رہ جائیں اور مخالف قوتیں ایک ساتھ تیر و تلواروں کے ساتھ یلغار کر دیں اورپھر بھی حرف شکائیت لب پر نہ لائیں خدا کا شکر ادا کریں پاؤں لڑکھڑائیں نہیں ایسا کائنات میں کون ہوگا؟ کوئی نہیں   

 ایک لمحے کے لئے آپ کربلا کے مظلوم شہزادوں اور شہزادیوں کے بارے تو سوچیں۔ ان پیاسوں کاسوچئے کہ جنہیں چلچلاتی دھوپ میں کئی دنو ں کی پیاس میں شہید کیا گیا۔ حالانکہ ان کے لئے فرات کا پانی تو کیا آبِ جنت بھی ترستا ہوا  بحر بے کراں بھی پاؤں چومنے کو بے قرار ہوں لیکن اللہ کی رضا کو مقدم جانتے ہوئے جنت کے شہزادے اس کوشش میں ہوں کہ مخالفین دوزخ کی آگ سے بچ جائیں کیونکہ سید الشہداء حضرت امام حسین ؓ اپنے نانا نبی آخر الزماں حضرت محمد ﷺ کی طرح کافروں کو جہنم کے دردناک عذاب سے بچانا چاہتے تھے نبی کریم حضرت محمدﷺ نے جب حق کی دعوت دی تو مخالفت میں ہر طرف سے تلواریں نکل آئیں اور وجہ تخلیق ِ کائنات سرکار کریم ﷺ انہیں جہنم سے بچانے کے خواہاں تھے مشرکین مکہ نے جب مسلمانوں پر ستم کے سلسلے دراز کئے تو نبی کریم ﷺ نے مسلمانوں کو دارالامان مدینہ جانے کا حکم دیا اور خود اللہ کے حکم کے منتظر رہے اور جب اللہ تعالی کی طرف سے آپ ﷺ کو ہجرت کا حکم ہوگیا تو آپ ﷺ فاتح خیبر ؓ کو یہ فرما کر کہ مجھے ہجرت کا حکم ہو چکا لہذا تم بھی صبح سب کی امانتیں واپس کرکے چلے آنا تو حضرت علی ؓ بستر راحت پر استراحت کی رفعتوں پہ فائز ہوتے ہیں 

 مشرکین مکہ نے نبی کریم ﷺ پر کیسے کیسے ظلم نہ ڈھائے لیکن آپ ﷺ حق کی دعوت دیتے گئے آپ ﷺ کو حکمرانی کی طلب نہ تھی۔ ایسے ہی حضرت امام حسینؓ بھی کسی عہدے یا حکمرانی کی تمنا نہیں رکھتے تھے بلکہ وہ تو کافروں کوآتش جہنم سے بچانا چاہتے تھے۔ یزید دنیا کی ہوس کا مارا خلیفہ کی مسند پر براجمان ہو کر دنیا و آخرت کی رسوائی خرید چکا تھا  یزید اس بات کا ادراک نہیں کر پایا کہ ہمیشہ کی ذلت اسکا مقدر بن چکی ہے کیا ستم ہے کہ جنت کے سردار کو دھوکے سے کوفہ بلایا گیا کوفہ والوں نے سینکڑوں خطوط جناب حضرت امام حسین ؓ  کو لکھے جو ایک منظم سازش تھی کہ دین حق کو خطرات درپیش ہیں۔یزید کے مظالم حد سے تجاوز کر چکے ہیں جناب حضرت امام حسین ؓ نے لوگوں کی فلاح، بقا اور رہبری کے لئے عزم سفر باندھا جناب حضرت اما م حسینؓ اپنے اہلِ بیت پاک اور جانثاروں کیساتھ کربلا پہنچے حالانکہ جناب امام حسین ؓ کو اپنے چچا زاد بھائی مسلم بن عقیل کی شہادت کی خبرمل چکی تھی اور کوفہ والوں کے وعدوں کی حقیقت بھی آشکار ہو گئی لیکن جناب امام حسین ؓ نے سفر کا ارادہ ترک نہ کیا۔ یہ ہے استقلال! کہ راستوں کی دشواریوں اور لوگوں کی منافقتوں کے باوجود آپ حق کے راستوں سے نہ ہٹیں۔

قارئین کرام! ہم کسی کام کے نہ کرنے کے عذر تراشتے ہیں کہ یہ کسی اور مسلک کی مسجد ہے میں یہاں نماز نہیں پڑھوں گا یا یہ کہ ہم کہتے ہیں ہم کسی کے کام توآنا چاہتے ہیں لیکن پھر سوچتے ہیں لوگ کیا کہیں گے یا ہم کار خیر میں حصہ نہ لینے کے لئے کہتے ہیں کہ لوگوں نے کہنا یہ حاجی بن گیا ہے یا ہم کسی مصیبت زدہ علاقوں میں نہیں جاتے یا مصیبت کے ماروں کے دکھوں کا مداوا نہیں تلاشتے کہ اس میں ہم خود کسی آفت کا شکار نہ ہوجائیں صاحبو! یہی تو دین حق ہے کہ آپ تمام اندیشوں اور تلخ حقیقتں کھلنے کے باوصف اپنی سچائیوں کی رعنائیوں کو ماند نہ پڑنے دیں ۔

جناب امام عالی مقام نے جب کربلا میں خیمے لگانے کا حکم دیا تو آپؓ نے آسمان کی طرف دیکھ کر اللہ سے دعا کی کہ اے اللہ میرے ناناﷺ کے دین کی حفاظت فرما اور اسے زندہ و آباد رکھ یعنی آپ ؓ کسی حکمرانی کے لئے نہیں بلکہ دین ِ حق کے لئے کربلا پہنچے حضرت امام حسینؓ نے اپنے اصحاب اور اہلِ بیت پاک کو اکٹھا کرکے فرمایاکہ میں آپ سب لوگوں سے اپنی بیعت اٹھاتا ہوں آپ آزاد ہیں جانا چاہیں تو جا سکتے ہیں۔لیکن کسی نے دین حق کو چھوڑنا پیچھے ہٹنا گوارہ نہ کیا بلکہ آپ ؓ پر جان قربان کرنے کا عزم کیا جناب حضرت امام حسین ؓ نے کونسا ستم ہے جو اپنے معصوموں پر ہوتا نہیں دیکھا کہ جس سے روح تک گھائل ہوجائے لیکن اللہ کی رضا اور دین حق کے لئے کسی اذیت و مصیبت پر اف تک نہیں کی۔ ننھا شہزادہ سیدنا علی اصغر ؓ  اپنی والدہ ماجدہ مطہرہ کی گود میں تھا پانی پرپہرے تھے سیدناامام حسین ؓ ننھے شہزداے علی اصغر کو ہاتھوں میں اٹھا کرخیموں سے باہر لائے اور یزیدی فوج سے مخاطب ہوکرکہاکہ یہ میرا اصغر جو چھ ماہ کا ہے تین دن سے پیاس کی وجہ سے تڑپ رہا ہے۔اسے ہی پانی پلادو پتھر پگھل گئے لیکن یزیدی فوج کو ترس نہ آیا ایک زہر میں بجھا تیر مارا جس سے معصوم شہزادہ شہادت کا مرتبہ پا گیا قارئین جو تیر ننھے شہزادے کی گردن پاک پر لگا تاریخ بتاتی ہے وہ ایسا خاص تیر تھا جس سے بڑے خوفناک وحشی جانوروں کا شکار کیا جاتا تھااور وہ تیر چھ ماہ کے شہزادے کے گلے کی کیا حالت کر گیا ہوگا اللہ اکبر۔ میدان کربلا میں حضرت امام حسینؓ اوران کے ساتھیوں نے باطل کا مقابلہ کرکے ثابت کردیا کہ خالق کی عظمت و کبریائی کو ماننے والے کبھی مخلوق کے سامنے سر نہیں جھکاتے۔

ہر وہ شخص جو معاشرے میں عدل و انصاف چاہتا ہے اسے اسوہ حسین رضی اللہ تعالی عنہ کو اپنا معیار بنانا ہوگا۔ اسلام اور قربانی کا چولی دامن کا ساتھ ہے عظیم مقصد کے لئے جان ومال قربان کرنا نبیوں کی سنت ہے۔ آج امت مسلمہ جن پریشانیوں کا شکار ہے اس کی بنیادی وجہ دین سے دوری اور قربانی و ایثار کے جذبے کا کمزور ہونا ہے۔ ہم نے دنیاوی فوائد اور ذاتی مفادات کے لئے قوانین قدرت کوپس پشت ڈال دیا جس کی وجہ سے کشمیر سے شام تک مسلمان ظلم و ستم کا شکار ہیں۔

ظلم و ناانصافی کے خلاف محاذ آرائی کی تڑپ دلوں میں زندہ رکھنا،حق کے ساتھ پورے حوصلے اور ثابت قدمی سے ڈٹ جانا، باطل کے خلاف کھڑا ہونا اور اسں سے سمجھوتہ نہ کرنا ہی امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ کی تعلیمات کا حاصل ہے کہ شہدائے کربلا کی عظیم قربانیوں نے دین اسلام کے آفاقی اصولوں صبر، برداشت اور قربانی کو قیامت تک کے لئے زندہ جاوید کر دیا۔واقعہ کربلا یہ ثابت کرتا ہے کہ فتح کا دارومدار اکثریت یا اقلیت پر نہیں بلکہ نظریہ اور نصب العین کی سچائی پر ہوتا حضرت امام حسین ؓ نے اپنے بچوں بھائیوں کے بعد دین حق کے لئے خود کو قربان گاہ عشق میں پیش کر دیا اور آخر تک اس کوشش میں بھی رہے کہ کافر دوزخ کی آگ سے بچ جائیں انہیں سمجھاتے بھی رہے اور دین بچاتے بھی رہے اور اپنی عظیم قربانی دے کر دین کو سرفراز ی بخشی حضرت امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ کی قربانی نے اسلامی تاریخ میں دین کی سربلندی اور اعلی ترین مقصد کے حصول کے لیے جان قربان کرنے کی وہ سنت قائم کی جو تاریخ کے ہر دور میں صراط مستقیم پر چلنے والے قافلوں کے لئے مشعل راہ رہے گی۔

     

مزید :

رائے -کالم -