سیاست اور اخلاقیات

سیاست اور اخلاقیات
سیاست اور اخلاقیات

  

کبھی کبھی بہت سی باتیں فہم و فراست سے  عاری محسوس ہوتی ہیں لا کھ کوشش کے بعد بھی ان کو سمجھنا نہ صرف مشکل ہو تا بلکہ ان کے پیچھے موجود محرکات کی کھوج لگانا بھی ناممکن معلوم ہوتا ہے بعض و اوقات اس طرح کی الجھن کو سْلجھانے کے لیے ہمیں تاریخ کا سہارابھی لینا پڑتا ہے تاکہ تجربوں کی کسوٹی پر پرکھ کر مسا ئل کا حل تلاش کیا جا سکے۔ 

یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ کسی بھی ملک کاجمہوری نظام اْس کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے کیونکہ جمہور سے مراد عوام اور لفظ جمہوریت کا ماخذ ایک یونانی لفظ ’ڈیماس کریٹاس‘ ہے جس کے معنی ہیں عوام کی نمائندہ حکومت جو عوام کی فلاح و بہبود کے لیے کام کرئے دوسرے لفظوں میں جمہوریت ایک سیاسی، اخلاقی، معاشی اور معاشرتی ڈھانچے کا نام ہے جو کسی بھی ملک و قوم کو کامیابیوں سے ہمکنار کرنے میں مدد دیتا ہے۔دنیا بھر کی جمہوری حکومتوں نے مشکل سے مشکل حالات میں ملک و قوم کی راہنمائی کی اور اپنی لگن، محنت اور کاوشوں سے اپنے ملک کو بڑی سے بڑی مشکلات سے نکالا جن میں جاپان، جرمنی اور برطانیہ شامل ہیں جوجنگوں میں مکمل تباہی کے بعد بھی اپنی محنت، لگن اور جمہوری اقدار سے بالاآخر کامیابیوں کا زینہ چڑھ کر ایک کامیاب قوم کی صورت میں دنیا کے نقشے پر دوبارہ نمودار ہوئے۔ 

مگر ہم جس جمہوریت میں سانس لے رہے ہیں وہ جمہور اورجمہوریت کی جیم سے بھی واقف نہیں۔ یہاں نہ تو جمہوریت ہے اور نہ جمہوری قدریں امریکہ کی ہارورڈ یونیورسٹی کے پروفیسر مائیکل سینڈل جن سے پہلا تعارف میرے محسن دوست علی اعظم کے وسیلے سے ہوا۔ مائیکل نے دورِ نو میں بہت سے سیاسی مسائل کا حل سیاسی اخلاقی قدروں کی ترویج کو قرار دیا ہے۔ اس بات کی اہمیت سے واقعی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ پاکستان کا اصل مسْلہ بھی یہی ہے۔ ایک پارٹی کا اقتدار میں آتے  ہی دوسری پارٹی کے افراد کو جھوٹے مقدمات میں پھانسنے کی کوشیش کرنا، جھوٹے الزامات لگانا اور سب سے بڑھ کر عوام سے کیے گئے وعدوں اور اپنے نصب العین سے انحراف کرنا ایک معمول کی بات ہے۔ پھر کہا جاتا ہے کہ جنگ اور محبت میں سب جائز ہے جو کہ انتہائی غلط مقولہ ہے۔جنگ ہو خواہ محبت، سیاست ہو یا کاروبار، طاقت ہو یا حکومت سب کے لیے خدا نے حدود مقرر کر رکھی ہیں۔ قرآن اْٹھا کر دیکھ لیجیے حدود سے تجاوز کرنے والے ہی تباہ و برباد ہوئے ہیں پھر وہ سنیچر والے ہو ں یا قوم لوط،گرفت سب پر ہی آتی ہے یقیناً وہ جلد آئے یا دیر سے اللہ کا انصاف قائم ہو کر رہتا ہے کیونکہ اْس کی لاٹھی بے آواز ہے۔ ہمیں ابھی سے اپنے معاملات کو درست کر لینا چاہئے اور وطنِ عزیز کو درست سمت میں ڈال کر حد سے تجاوز نہیں کرنا چاہیے۔

عجب معیار ہیں ہماری سیاست کے ہم سالہا سال سے اسی شش وپنج میں  مبتلا ہیں کہ کس کو غدار کہیں اور کس کو وفادار کبھی بھٹو کی پھانسی کا مقدمہ تو کبھی یوسف رضا گیلانی اور راجہ پرویز اشرف کی نا اہلی،کبھی مشرف پر غداری کا مقدمہ، کبھی پانامہ میں نواز شریف کی نااہلی و اقامہ کیس، کبھی خواجہ آصف اور احسن اقبال کے خلاف اقامہ اور غداری کے مقدمات کی باز گشت، کبھی بیرون ملک پاکستانیوں کو وفا اور جفا کی کسوٹی پر پرکھا جاتا ہے تو کبھی معین قریشی کو امریکہ سے بلا کر وزیراعظم کی مسند پر بٹھا دیا جاتا ہے۔کبھی ق لیگ بنا کر حکومت کی مشینری چلائی جاتی ہے کبھی ایم ایم اے کا تجربہ تو کبھی ایم کیو ایم  اور جے یو ایف کا ہر نئی آنے والی حکومت سے اتحاد ملکی سیاست میں ہلچل مچائے رکھتا ہے۔

اس سب کے پیچھے کیا منطق ہے میری سمجھ سے تو باہر ہے۔ ہم اپنے سیاسی راہنماؤں کو قومی مسندوں پر بیٹھا کر ان کی خوب پزیرائی کرتے ہیں اور پھر ان کو غدار اور نااہل جیسے القابات سے نواز کر ان کا استحصال شروع کر دیتے ہیں۔ بھارتی فوج پر آج بھی جنرل مشرف کا خوف اور ان کی بہادری کے قصے زبان زدِ عام ہیں نواز شریف کے ایٹمی دھماکوں کا آرڈر دینے پر اور امریکی ڈکٹیشن پر عمل نہ کرنے کی حقیقت بھی روزروشن کی طرح عیاں ہے بھٹو کی سلامتی کونسل میں گرج دار تقریر اور پھر پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے کی کاوشیں بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں اسی طرح جنرل ضیاء اور حمید گل کی روسی استعمار کے خلاف کامیاب جنگ ان کی پاکستان کے لیے خدمات کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ ان حقائق سے بالا تر ہو کر کے ڈکٹیٹرشپ کبھی بھی کسی ملک کے لیے بہتر ثابت نہیں ہوئی بشرطیکہ جمہوریت کو اْس کی اصل روح سے پروان چڑھنے دیا جائے۔ بد قسمتی سے پاکستان اس معاملے میں بہت بد قسمت ہے کیونکہ ہماری روایات کے مطابق  آج کے ہیرو کل کے غدار ٹھہرتے ہیں۔ آپ بد عنوانی کی بات کریں، اختیارات سے تجاوز کا الزا م لگائیں، دھاندلی کی بات کریں سب سمجھ میں آتا ہے مگر غداری کا میلو ڈرامہ بہت افسوس ناک ہے۔ ہمیں اب اس روایت کو ختم کرنا ہوگا اور اس طرح کے سیاسی انتقام کو دفن کر کے سیاسی اخلاقیات کو ہمارے نظام سیاست کا حصہ بنانا ہو گا تب ہی کہیں جا کر ہم اس گرداب سے باہر نکل سکیں گے۔ حکومت اور اپوزیشن کبھی نظام احتساب، نظام الیکشن، نظام معیشت، نظام معاشرت اور نظام سیاست پر مل کر بہتری لانے پر یکسو نہیں ہوئی۔ اس کو جیسا ہے جہاں ہے کی بنیاد پر چلایا جا رہا ہے۔ 

کبھی عوام کی بہتری اور خدمت کا عنصر ہماری حکومتوں کے پیشِ نظر نہیں رہا۔ اب اس کی مثالیں بھی سن لیجیے جاپان، کوریا، سعودیہ، متحدہ عرب امارات کی حکومتوں نے پورپ اور امریکہ کے ساتھ معاہدے  کیے جن کی بنیاد پر ان کے شہری بغیر ویزہ کے ایک دوسرے کے ملکوں میں چھ ماہ کے لیے جب چاہیں سفر کر سکتے ہیں۔ اسی طرح یورپی یونین نے بھی امریکہ اور آپسی معاہدوں کے ذریعے تجارت اور سفر کو آسان بنایا۔ 1962ء تک جرمنی امریکی امداد پر چلنے والا دنیا کا سب سے بڑا ملک تھا۔ دنیا کے 14 ممالک جرمنی کو امداد دیتے تھے اور سب سے دلچسپ حقیقت یہ ہے کہ ان امداد دینے والے ملکوں میں ہمارا ملک پاکستان بھی شامل تھا ایوب خان کے دور میں پاکستان نے 20 سال کے لئے جرمنی کو 12 کروڑ روپے قرض دئیے تھے اور جرمن چانسلر نے اس مہربانی پر حکومت پاکستان کا باقاعدہ شکریہ ادا کیا وہ خط آج بھی وزارت خارجہ کے آرکائیو میں محفوظ ہے جرمنی کی امداد کے بدلے میں ترکی اور دیگر ممالک نے  اْن کی عوام کی بہتری اور مفاد میں بے شمار معاہدے جرمنی کے ساتھ کیے مگر پاکستان نے کوئی بھی معاہدہ خاص طور پر پاکستا نی عوام کے مفاد میں نہیں کیا کہ جس کا فائدہ ان کی عوام کو براہ راست ہوجو انتہائی حیران کن ہے۔

خدا نے پاکستان کو ایک اور موقعہ گوادر کی شکل میں فراہم کیا ہے اب بھی وقت ہے آنے والی دھائی میں چین دنیا کی سپر پاور بننے جا رہا ہے پاکستانی حکومت کو عوام کی  کاروباری اور سفری سہولتوں  کے معاہدوں پر کام کرنا چاہئیے۔ اگر یہ موقع بھی پاکستان نے گنوا دیا تو پاکستانی عوام کو جو سہولتیں ستر سال میں  نہیں ملیں وہ مستقبل میں بھی ملنے کا کوئی امکان نظر نہیں آرہا۔ اس کے علاوہ زمین خریدنے کے قانون کو بھی تبدیل ہونا چاہئے تاکہ کوئی بھی غیر ملکی نیشنل جس کے پاس پاکستان کی شہریت نہیں زمین نہ خرید سکے تاکہ ایسٹ انڈیا کمپنی اور اسرائیلی آباد کاروں کی فلسطین میں ہونے والی آباد کاری کی تاریخ نہ دوہرا ئی جائے۔ 

سب سے بڑھ کر بیرون ملک رہنے والے پاکستانیوں کو موثر سہولیات اور پاکستان کی خدمت کے بہترین سے بہترین مواقع فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے صرف بنک اکاونٹ کھولنے کی سہولت سے آگے بڑھ کر سوچیں تاکہ بیرون ملک میں رہنے والے پاکستانی ملک و ملت کی احسن طریقے پر خدمت کر سکیں۔ ان کی وفاداریوں پر شک کرنا انتہائی افسوسناک اور شرمناک ہے۔ بیرون ملک رہنے والے پاکستانی پاکستان میں رہنے والے شہریوں سے کسی طور بھی حْب الوطنی میں کم نہیں۔ مگر اس میں بھی کوئی حرج کی بات نہیں کہ اہم عہدوں کے لیے پاکستان میں رہنے والے افراد کو ترجیح ہو، اس میں کوئی دو رائے نہیں کیونکہ بیرون ملک پا کستانی خدمت پر بھروسہ رکھتے ہیں عہدوں پر نہیں۔ 

مزید :

رائے -کالم -