افغانستان: تاریخ کا سبق 

افغانستان: تاریخ کا سبق 
افغانستان: تاریخ کا سبق 

  

افغانستان ہمارا ہمسائیہ ملک ہے ڈیورنڈ لائن کے ذریعے پاک افغان سرحدوں کی نشاندہی ہوتی ہے لیکن عملاً اس سرحدی لائن کی قطعاً کوئی اہمیت نہیں ہے کیونکہ اس لائن کے آر پار،دونوں اطراف پشتون قبائل بستے ہیں اگر کسی افغان عورت کا میکا پاکستان میں ڈیورنڈ لائن کے اس طرف ہے تو اُس کا سسرال ڈیورنڈ لائن کے دوسری طرف افغانستان میں ہو سکتا ہے۔سردیوں کے موسم میں پہاڑوں میں بسنے والے افغان قبائل،اسطرف پاکستان کے میدانی علاقوں میں آ بستے ہیں صوبہ سرحد اور بلوچستان میں بسنے والے پشتون و بلوچ قبائل کی رشتہ داریاں افغانستان میں بسنے والے پشتون و بلو چ قبائل کے ساتھ صدیوں پرانی ہیں۔گویا پاکستان اور افغانستان کے باسی آپس میں رشتے دار بھی ہیں۔پاکستانیوں اور افغانیوں کے دل ایک ساتھ بھی دھڑکتے ہیں لیکن ایک بات بڑی عجیب ہے کہ تخت کابل کے حکمران کبھی بھی پاکستان کے دوست نہیں رہے ہیں۔طالبان حکمرانی کے قلیل دور کے علاوہ یہاں ہمیشہ پاکستان دشمن حکومت قائم رہی ہے اب طالبان کی عسکری فتح اور امریکہ کے ساتھ طالبان کے امن معاہدے کے بعد حالات ایک بار پھر ایسی ہی حکومت کے قیام کی طرف جاتے نظر آ رہے ہیں طالبان نے 19سال تک ڈٹ کر جارح امریکی اتحادی افواج کا نہ صرف مقابلہ کیا بلکہ انہیں نڈھال کیا اور واپس جانے پر مجبور کیا امن معاہدے کے تحت نومبر 2020میں امریکی جنگی مشن ختم ہونے جا رہا ہے پھر افغان گروہوں کے درمیان کابل حکومت کے قیام کیلئے مذاکرات ہونے جا رہے ہیں۔

اس موضوع پر پہلے بھی لکھ چکا ہوں کہ بین الا افغان مذاکرات کی کامیابی کے ا مکانات بہت زیاد نہیں ہیں۔کیونکہ افغانستان میں ہر گروہ چھوٹا ہو یا بڑا اپنے آپ کو شریک اقتدار کرنا چاہتا ہے چلو اس میں بہت زیادہ قباحت نہیں ہے۔لیکن وہ اپنی شرائط کے تحت شریک اقتدار ہونا چاہتا ہے اپنی اوقات کے مطابق نہیں۔ویسے بھی افغانوں کی تار یخ ایسے ہی واقعات سے بھر ی پڑی ہے جہاد افغانستان کے رہبر شیخ الکبیر استاذ ڈاکٹر عبداللہ عزام شہید کے بقول افغان گوشت و خون کے سودا گر ہیں۔گولی و بندوق کے علاوہ انہیں کچھ سوجھتا ہی نہیں ہے یہاں فیصلے بندوق کی نالی کے ذریعے ہی ہوتے ہیں“شیخ عزام کے مطابق، افغان مجاہدین لیڈروں کو خانہ کعبہ کے اندر لیجا کر ”اتحاد مجاہدین افغانستان“ کے پرچم تلے اکھٹا کیا گیا اشتراکیت کے خلاف جہاد کیلئے منظم کیا گیا۔حلف لیا گیا۔انہو ں نے کعبہ کے اندر بیٹھ کر اپنے رب کو حاضر ناظر جان کر اتحاد پر قائم رہنے کے وعدے کئے لیکن جدہ ائیر پورٹ سے روانہ ہوتے ہی وہ خدا کے ساتھ کئے گئے عہد و پیمان کو بھول کر اپنی روایتی،قبائلی روش کی طرف لوٹ گئے تھے یہ جنرل ضیاء الحق کا کمال تھا کہ وہ انہیں آئی ایس آئی کے ذریعے حسب پروگرام لڑاتے رہے اور بالاخر اشتراکی افواج کو شکست سے ہمکنار ہونا پڑا“۔

ایسے تاریخی پس منظر میں امریکیوں کے ساتھ کئے گئے عہدو پیمان کی کیا اوقات ہے یہ بات امریکیوں کو بھی پتہ ہے کہ افغان بہت زیادہ قابل بھروسہ نہیں ہوتے ہیں 19سالوں کے دوران امریکی افغانوں کے ساتھ حلیف اور حریف دونوں صورتوں میں ڈیل کرتے رہے ہیں اس لئے انہیں یہ حقیقت معلوم ہونی چاہیے لیکن انہوں نے بھی اپنا الو سیدھا کیا ہے کہ انکی پرُ امن واپسی ہو جائے انکی شکست کا زیادہ چرچا نہ ہو وہ دنیا کو بتا سکیں کہ ہم جنگ ہار کر افغانستان سے واپس نہیں لوٹ رہے ہیں بلکہ ایک امن معاہدے کے تحت واپسی کا راستہ لئے ہوئے ہیں۔امن معاہدہ امریکیوں کے لئے فیس سیونگ ہے اور طالبان کیلئے امریکی افواج کی واپسی کے بعد امریکی ایجنٹوں اور اپنے مخالفوں کے ساتھ دو دو ہاتھ کرنے کی تیاری کا وقفہ۔جو نہی امریکی جنگی مشن مکمل طور پر بند ہو جائے گا اس وقت تک طالبان تازہ دم ہو کر ایک نئی معرکہ آرائی کے لئے تیار ہو چکے ہونگے۔ تاریخ میں ایسا پہلے بھی ہو چکا ہے اور اب بھی ہونے جا رہا ہے۔

جہاد افغانستان کے ہیرو اور امریکیوں کے خلاف افغانوں کی جدو جہد آزادی کے ایک معروف کردار گلبد ین حکمت یار نے ایک بیان کے ذریعے خبردار کیا ہے کہ ہندوستان،بین الا افغان مذاکرات کو ثبوتاثر کرنے کیلئے سر گرم عمل ہو چکا ہے۔وہ جنگجو گروہ تیار کر رہا ہے تا کہ افغانستان میں امن کی راہ کھو ٹی کی جا سکے“ حکمت یار نے ایک تاریخی حقیقت ظاہر کی ہے بھارت سرکار کی کاوشوں کا ذکر کر کے انہوں نے بھارتی خبث باطن ظاہر کیا ہے ہندو یہاں خطے میں صدیوں سے مسلمانوں کے خلاف بر سر پیکار رہا ہے اس نے افغانستان کی اکثریت یعنی پشتونوں کے خلاف دیگر گرو ہوں کے خلاف کام کیا ہے اس نے تخت کابل پر براجمان حکمرانوں کے ساتھ مل کر ہمیشہ پاکستان کے  خلاف مورچہ بندی کی ہے پاکستان کی مرکز گریز قوتوں کو تقویت پہنچائی ہے پختونستان کی تحریک ہو یا بلوچستان میں پاکستان مخالف آوازیں ہر ایک کے پیچھے اور ساتھ بھارت سر کار نظر آتی ہے عبدالغفار خان جنہیں سرحدی گاندھی کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے کانگریس کی پالیسی لے کر یہاں چلتے تھے۔انہو ں نے قائد اعظم اور پاکستا ن کی بھی مخالفت کی تھی۔بھارت سرکار اور تخت کابل پر براجمان حکمران انہیں سپورٹ کرتے تھے حتیٰ کہ سرحدی گاندھی نے مرنے کے بعد یہاں پاکستان میں دفن ہونا پسند نہیں کیا انہیں جلال آباد میں دفن کیا گیا۔بھارت سرکار اب بھی ایسا ہی کردار ادا کر رہی ہے جس کے باعث افغانستان میں پاکستان دوست عناسر کو تقویت نہ مل سکے کابل میں پاکستان دوست حکومت قائم نہ ہو سکے۔ویسے اس بات کے قومی امکانات ہیں کہ امریکی جنگی مشن کے خاتمے کے بعد یہاں جو حکومت قائم ہو وہ پاکستان دوست ہو۔

کیونکہ اشرف غنی اور عبداللہ عبداللہ و ہمنوا افغانستان پر حکومت نہیں کر سکیں گے افغان تاریخ کے پس منظر میں جارح کے ساتھی آزادی کے متوالوں کی فتح کے بعد کبھی حکمران نہیں رہے ہیں۔

طالبان نے 19سالوں کے دوران اپنی مقاومت کی قوت کا شاندار مظاہرہ کیا ہے انہوں نے یہ بات ثابت کر دی ہے کہ افغانستان انہی کا ہے وہی یہاں حکومت کر سکتے ہین پھر امریکیوں نے ان کے ساتھ دو ہا، قطر میں امن مذاکرات کرکے انہیں حقیقی افغان نمائندہ بھی تسلیم کر لیا ہے وہ کہیں نہ کہیں،مانیں یا نہ مانیں،تسلیم کریں یا نہ کریں لیکن اپنے عمل سے امریکیوں نے طالبان کو افغان قوم کا حقیقی نمائندہ تسلیم کرنے کا عملی مظاہرہ کیا ہے طالبان نے مذاکرات کی میز پر بیٹھ کر بھی ذہانت و متانت کا مظاہرہ کیا ہے انہو ں نے کسی قسم کی کمزوری نہیں دکھائی۔امریکیوں سے مرعوب نہیں ہوئے لیکن انہوں نے کسی قسم کی پر جوش حماقت کا مظاہرہ بھی نہیں کیا ہے افغانستان کے پہاڑوں اوروادیوں میں امریکی اتحادیوں سے لڑ کر جیتی جانے والی بازی کو امن مذاکرات کی میز پر بھی کمزور نہیں پڑنے دیا۔امریکی جنگی مشن کے خاتمے کے بعد بات ایک بار پھر میدان جنگ کی طرف جاتی دکھائی دے رہی ہے سب سے پہلے افغانوں کا تاریخی کردار ہے ان کی دو،اڑھائی ہزار سالہ تا ریخ کا یہ سبق ہے کہ خطے میں حق حکمرانی بات چیت کے ذریعے نہیں بلکہ طاقت کے ذریعے حاصل کیا جاتا ہے۔کابل میں حکمران وہی ہوتا ہے جو یہ ثابت کرتا ہے کہ وہ غالب ہے۔طاقت ور ہے،بہادر ہے،شجاع ہے۔

مزید :

رائے -کالم -