ٹیکس ریفنڈ ز کا حجم سات سو ایک ارب روپے پر پہنچ گیا، وزارت خزانہ رقم فراہم کرے تو ادائیگی کر سکتے ہیں: ایف بی آر

  ٹیکس ریفنڈ ز کا حجم سات سو ایک ارب روپے پر پہنچ گیا، وزارت خزانہ رقم فراہم ...

  

  اسلام آباد (این این آئی)قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی خزانہ میں ایف بی آرحکام کی طرف سے انکشاف کیا گیا ہے کہ تیس جون دوہزاربیس تک ٹیکس ریفنڈزکا حجم سات سوایک ارب روپے پرپہنچ گیا ہے،وزارت خزانہ رقم فراہم کرے توادائیگی کرسکتے ہیں،کمیٹی نے ایف بی آر میں اصلاحات پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے انکم ٹیکس ریفنڈز کو سیٹل کرنے یا مسترد کرنے کی ہدایت کردی۔ بدھ کو قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی خزانہ کا اجلاس فیض اللہ کی زیرصدارت ہوا جس میں مشیر برائے ادارہ جاتی اصلاحات ڈاکٹر عشرت حسین نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے کہاکہ ٹیکس سسٹم مضبوط کرنے اور آٹومیشن سے بہتری آسکتی ہے، ہم ایف بی آر میں شخصیات کے بجائے بہتر نظام وضع کرنا چاہتے ہیں ے۔ انہوں نے کہاکہ ٹیکس محاصل اور پالیسی ونگ علیحدہ علیحدہ کرنا ہوگا۔ ڈاکٹر عشرت حسین نے کہاکہ وفاق کے بجائے صوبوں میں ٹیکس جمع کرنے کی زیادہ صلاحیت ہے۔ڈاکٹر عشرت حسین نے کہاکہ پراپرٹی ٹیکس اور کیپٹل گین ٹیکس جمع نہیں ہورہا، اگر ٹیکسز کا نظام بہتر نہیں ہوگا تو مالی خسارہ بڑھے گا۔ڈاکٹر عشرت حسین نے کہاکہ کوئی بھی حکومت ہو آئی ایم ایف اور دیگر اداروں پر انحصار جاری رہے گا،۔ڈاکٹر عشرت حسین نے کہاکہ سیاسی وابستگیوں سے بالا تر ہوکر ایف بی آر ریفارمز کرنا ہوں گی۔ انہوں نے کہاکہ چھ ماہ پہلے ایف بی آر کی ریفارمز کا فریم ورک تیار کیا گیا، فریم ورک میں ٹائم لائن اور ذمہ داریاں طے کی گئی ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ڈیجیٹل آٹومیشن سے زیادہ سہولیات مل سکتی ہیں،فاسٹر کا نظام انکم ٹیکس، کسٹمز اور نان ایکسپورٹ ری بیٹ میں لایا جائیگا۔ انہوں نے کہاکہ ایف بی آر کا سارا نظام کمپیوٹرائزڈ کرنا پڑے گا،ورلڈ بینک نے آن لائن نظام کے لیے 80 کروڑ ڈالرز دئیے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ٹیکس قوانین کو سادہ کیا جا رہا ہے،ہیومن ریسورس میں بڑے پیمانے پر ریفارمز کی جائیں گی۔ڈاکٹر عشرت حسین نے کہاکہ کارکردگی کی بنیاد پر الاونسز, پروموشن اور تنخواہ دی جائے گی۔ انہوں نے کہاکہ نا اہل افسران کو قبل از وقت ریٹائرڈ کردیا جائے گا،کرپٹ افسران کو ایف بی آر سے نکال دیا جائے گا۔انہوں نے کہاکہ ایف بی آر بورڈ کے انتظامی اختیارات کو فیلڈ فارمیشن تک منتقل کیا جائے گا۔ انہوں نے کہاکہ ایف بی آر ممبرز کی تعداد 13 سے کم کرکے 8 کردی جائے گی،ایف بی آر افسران کی کارکردگی صرف ٹیکس جمع کرنا نہیں ہوگی۔ انہوں نے کہاکہ ایف بی آر افسران کو نئے ٹیکس فائلرز اور اضافی ٹیکس بھی جمع کرنا ہوگا،ایف بی آر افسران کو تھرڈ پارٹی ڈیٹا دیا جائے گا۔ڈاکٹر عشرت حسین  نے کہاکہ اینٹی اسمگلنگ کے لیے پاکستان کسٹمز کو لیڈ ایجنسی کی ذمہ داری دی گئی ہے،رسک بیسڈ آڈٹ متعارف کرایا جا رہا ہے۔ڈاکٹر عشرت حسین نے کہاکہ آڈٹ کے لیے ایف بی آر افسران کے صوابدیدی اختیارات کو ختم کردیا جائے گا۔ عائشہ غوث پاشا نے کہاکہ ایف بی آر اصلاحات کے باوجود ٹیکس وصولیوں میں اضافہ نہیں ہوا، ود ہولڈنگ ٹیکسوں کو کم کیا جائے گا۔ ڈاکٹر عشرت حسین نے کہاکہ اصلاحات کا عمل چھ ماہ پہلے شروع ہوا، آٹومیشن سے ٹیکس میشنری کی کارکردگی اور ٹیکس وصولیوں میں اضافہ ہوتا ہوا نظر آئے گا۔ 

ایف بی آر 

مزید :

صفحہ آخر -