مسئلہ کشمیر کو سلامتی کونسل کے ایجنڈ سے مستقل طور پر ہٹایا جائے: بھارت 

مسئلہ کشمیر کو سلامتی کونسل کے ایجنڈ سے مستقل طور پر ہٹایا جائے: بھارت 

  

 نیویارک(آئی این پی)اقوام متحدہ میں بھارت نے سلامتی کونسل کے ایجنڈے سے بھارت پاک سوال ' آؤٹ ڈیٹڈ ایجنڈا آئٹم' کے تحت جموں و کشمیر کے معاملے کو مستقل طور پر ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے  پاکستان امن کا داعی نہیں بلکہ شدت پسندی کا مرکز ہے پاکستان سلامتی کونسل میں چین کی آڑ لے کر فرسودہ مسئلہ کشمیر کے ایجنڈے کو استعمال کرتا ہے  بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق اقوام متحدہ میں بھارت نے سلامتی کونسل کے ایجنڈے سے بھارت پاک سوال ' آؤٹ ڈیٹڈ ایجنڈا آئٹم' کے تحت جموں و کشمیر کے معاملے کو مستقل طور پر ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے  پاکستان کو نشانہ بناتے ہوئے بھارت نے کہا کہ پاکستان ایک ایسا ملک ہے  جو بار بار خود کو 'بین الاقوامی امن میں فعال کردار' ادا کرنیوالوں میں شامل ہونے کی کوشش کرتا ہے لیکن بدقسمتی سے پاکستان امن کا داعی نہیں بلکہ عالمی سطح پر شدت پسندی کا مرکز ہے۔واضح رہے کہ سلامتی کونسل کی سالانہ رپورٹ سے متعلق عمومی غیر رسمی اجلاس کے دوران اقوام متحدہ میں پاکستان کے سفیر منیر اکرم نے مقبوضہ جموں و کشمیر کے معاملے پر کہا کہ جموں و کشمیر کی صورتحال کے دوران سلامتی کونسل کو بھی اپنی قراردادوں اور فیصلوں پر عمل درآمد کرنے میں کمی کا سامنا کرنا پڑا ہے  انہوں نے مزید کہا کہ گذشتہ ایک سال کے دوران کونسل نے جموں و کشمیر کی صورتحال پر غور کرنے کے لیے تین بار ملاقات کی ہے بھارت نے پاکستان کا نام لئے بغیر پیر کے روز ایک بیان میں کہا کہ یہاں ایک  وفد موجود ہے جو بار بار خود کو بین الاقوامی امن میں اہم کردار ادا کرنے کی کوشش کرتا ہے لیکن بدقسمتی سے یہ تسلیم کرنے میں ناکام ہے کہ یہ عالمی سطح پر بین الاقوامی شدت پسندی کا مرکز ہے بھارت نے مزید کہا کہ ' یہ وفد کونسل میں فرسودہ ایجنڈے کے آئٹم پر تبادلہ خیال کرنے پر زور دیتا ہے جسے تمام معاملات کے لئے مستقل طور پر کونسل کے ایجنڈے سے ہٹانے کی ضرورت ہے۔

بھارتی مطالبہ 

مزید :

صفحہ اول -