انصاف ملنے کی آس ختم‘ دوشیزہ نے کالا پتھر پی لیا‘ حالت نازک 

انصاف ملنے کی آس ختم‘ دوشیزہ نے کالا پتھر پی لیا‘ حالت نازک 

  

 جام پور(نمائندہ خصوصی)بہیمانہ تشدد کا شکار شہر سلطان کی 20 سالہ دوشیزہ نے انصاف نہ ملنے پر کالاپتھر پی لیا، تشویشناک حالت میں نشتر ملتان منتقل کردی گئی، تفصیلات کے مطابق بستی چاندنے والا موضع کلر والی کی رہائشی کندن مائی زوجہ غلام حیدر چھجڑہ نے حیدریہ کالونی جام پور میں کرایہ کے مکان میں اپنے متاثرہ کنبہ کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ 4جولائی(بقیہ نمبر44صفحہ 7پر)

 2020 کو ملزمان محمد صادق، شہناز مائی زوجہ محمد صادق، شازیہ مائی، خالدہ مائی، نازک حسین اقوام چھجڑہ اور رابعہ مائی زوجہ مرید حسین میتلا ساکنان بستی چاندنے والا موضع کلر والی سوٹوں اور ڈنڈوں سے مسلح ہو کر چادر اور چاردیواری کا تقدس پامال کرتے ہوئے ہمارے گھر گھس آئے، ملزمان نے مجھے اور میری بیٹی رخسانہ بی بی کو بدترین تشدد کا نشانہ بنایا، بالوں سے پکڑ کر گھسیٹتے رہے جس سے ہم دونوں ماں بیٹی کے کپڑے پھٹ گئے‘ملزمان ہمیں گھسیٹتے اور مارتے پیٹتے ہوئے گھر سے باہر لے گئے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ملزم نازک حسین نے میری بیٹی رخسانہ بی بی پر بیسیوں افراد کی موجودگی میں دست درازی کی۔ اس دوران میرے بیٹے نے 15 پر کال کردی تو پولیس کے خوف سے ملزمان بھاگ گئے بعد ازاں پولیس ہمیں ملزمان کے خلاف کارروائی کی یقین دہانی کراکر تھانہ شہر سلطان لے گئی جہاں پر تفتیشی اے ایس آئی ریاض نے ہمارا موقف سن کر ازخود باہر سے درخواست لکھوا کر میرے انگوٹھے لگوالئے۔ جب مجھے معلوم ہوا کہ درخواست خلاف حقائق اور ملزمان کو دانستہ فائدہ پہنچانے کے لیئے لکھوائی گئی ہے تو میں نے عدالت میں رٹ پٹیشن دائر کردی۔ انہوں نے کہاکہ وقوعہ کے بعد سے میری بیٹی ذہنی دباؤ کا شکار رہنے لگی، اس دوران ملزمان کی طرف سے بھی مسلسل سنگین نتائج کی دھمکیاں ملتی رہیں تاہم ہمیں یقین تھا کہ ہمیں عدالت سے انصاف ملے گا لیکن جب عدالت نے پولیس سے کمنٹس مانگے تو تھانہ شہر سلطان پولیس نے انصاف کی دھجیاں اڑاتے ہوئے بااثر ملزمان کو بچانے کی غرض ہمارے خلاف کمنٹس لکھ دیئے۔ جب میری بیٹی کو علم ہوا کہ انصاف ملنے کی آخری امید بھی ختم ہوگئی تو اس نے دلبرداشتہ ہو کر کالا پتھر پی لیا جسے بنیادی مرکز صحت شہر سلطان لے جایا گیا جہاں پر ڈاکٹروں نے انتہائی تشویشناک حالت کے پیش نظر نشتر ملتان ریفر کردیا۔ انہوں نے بتایا کہ طرف میری 20 سالہ معصوم بیٹی نشتر میں زندگی و موت کی کشمکش میں اور دوسری طرف ملزمان کی طرف سے دھمکیاں ملنا شروع ہوگئیں کہ وہ مجھے میرے خاندان سمیت آج جان سے مار دیں گے، خوف کے مارے ہم لوگ اپنے ہنستے بستے گھر چھوڑ کر رات گئے جام پور منتقل ہوئے ہیں۔ متاثرہ خاندان نے وزیر اعلی پنجاب سردار عثمان خان بزدار اور آر پی او ڈیرہ غازیخان سے اس ظلم و بربریت اور غنڈہ گردی کا نوٹس لے کر ملزمان کیخلاف مقدمہ درج کرکے انصاف فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

حالت نازک

مزید :

ملتان صفحہ آخر -