دورہ انگلینڈ میں ہونے والی غلطیوں سے سیکھیں گے، بابر اعظم 

  دورہ انگلینڈ میں ہونے والی غلطیوں سے سیکھیں گے، بابر اعظم 

  

مانچسٹر(نیٹ نیوز) قومی  ٹی ٹوئنٹی کرکٹ ٹیم کے کپتان بابراعظم  نے کہا ہے کہ دورہ انگلینڈ میں کی گئی غلطیوں سے سیکھیں گے،سینئرز سے مشورہ کرتا ہوں مگر فیصلے اپنے ہوتے ہیں، پریشر کی صورتحال میں سینئرز کا تجربہ ہی ٹیم کو کم بیک میں مددگار ثابت ہوتا ہے، البتہ انگلینڈ کے خلاف جیتا ہوا پہلا ٹیسٹ ہارنے کا بہت دکھ ہے۔  مانچسٹر سے وڈیو لنک پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے قومی ٹی ٹوئنٹی ٹیم کے کپتان بابراعظم نے کہا کہ ٹیم کی ضرورت کے مطابق حیدر علی، سرفراز احمد اور وہاب ریاض کو جگہ دی، حیدر علی بہت باصلاحیت ہے، انہوں نے آؤٹ اسٹینڈنگ بیٹنگ کی جب کہ وہاب ریاض کا اوور میچ کا ٹرننگ پوائنٹ ثابت ہوا۔ شعیب ملک کو بیٹنگ کے لئے نہ بھیجنے کا مطلب ان پر عدم اعتماد نہیں جب کہ کپتانی کا کوئی دباؤ نہیں،سینئرز سے مشورہ کرتا ہوں مگر فیصلے اپنے ہوتے ہیں۔

ٹیم میں سینئرز کی موجودگی ضروری ہے۔

، پریشر کی صورتحال میں سینئرز کا تجربہ ہی ٹیم کو کم بیک میں مددگار ثابت ہوتا ہے، آپ یکدم سینئرز کو باہر نہیں کرسکتے کیوں کہ پریشر میں ان کی موجودگی کافی ضروری ہوتی ہے، میں نے ہمیشہ اپنے سینئرز سے سیکھا ہے،انہوں نے کہا کہ فیلڈ کے دوران بھی وہ سینئرز سے مشورے کرتے ہیں لیکن فیصلے سارے ان کے اپنے ہوتے ہیں، یہ تاثر درست نہیں کہ وہ کسی اور کے فیصلوں پر چلتے،جب ان کو مشور ہ لینا ہوتا وہ سینئرز کے پاس جاتے، جب سینئرز کو کوئی رائے دینا ہوتی تو وہ پاس آجاتے، اس میں کوئی حرج نہیں، مورگن بھی ساتھیوں سے مشورے کرتے ہیں تو کیا اس کا مطلب یہ ہوا کہ ان کے فیصلے اپنے نہیں ہوتے؟دورہ انگلینڈ میں کی گئی غلطیوں سے سیکھیں گے البتہ انگلینڈ کے خلاف جیتا ہوا پہلا ٹیسٹ ہارنے کا بہت دکھ ہے۔ جب بابر اعظم سے شاداب کو پڑنے والے تین چھکے، سرفراز کی جانب سے اسٹمپنگ مس کرنے اور حارث روف کو آخری اوور میں پڑنے والے چھکے پر سوال کیا گیا تو بابر اعظم نے اعتماد کے ساتھ کہا کہ یہ کرکٹ ہے، اس میں یہ سب کچھ ہوسکتا ہے۔کبھی اہم بیٹسمین جلدی آوٹ ہوجاتا کبھی اہم بولر پٹ جاتا۔ حارث روف کو آخر میں یارکر کرنے کو کہا تھا، بدقسمتی سے وہ نہ کراسکا لیکن آخری گیند پر کم بیک اچھا کیا اور پاکستان میچ جیت گیا۔دورہ انگلینڈ کا اختتام فتح کے ساتھ کرنے کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے بابر اعظم نے کہا کہ وہاب ریاض کا انیسواں اوور میچ کا ٹرننگ پوائنٹ ثابت ہوا، محمد حفیظ اور حیدر علی نے میچ میں زبردست بیٹنگ کی۔ شاداب خان کو پاوور ہٹنگ کے لیے اوپر بھیجا گیا تھا۔ایک سوال پر بابر اعظم کا کہنا تھا کہ کبھی کبھار ٹیم کامبی نیشن بنانے کے لیے کٹھن فیصلے کرنا پڑتے ہیں، آج حیدر علی کو موقع دیا تو اس نے خود کو ثابت کیا، رضوان اور سرفراز دونوں اچھے پلیئرز ہیں اور دونوں کی اچھی کارکردگی ہیں اور  دونوں میں سے ایک کا انتخاب کرنا کافی مشکل فیصلہ ہوتا تھا۔بابر اعظم کا کہنا تھا کہ ان پر کپتانی کا پریشر نہیں، ٹیسٹ سیریز میں اسکورز کو بڑے رنز میں تبدیل نہ کرپانے کا افسوس ہے لیکن انہوں نے اس دورے میں بہت کچھ سیکھا اور یہ تجربہ انہیں مستقبل میں ضرور کام آئے گا۔ انہوں نے کہا کہ بائیو سیکیور ایبل میں پلیئرز کو ایک دوسرے کے ساتھ زیادہ وقت گزارنے کا موقع ملا جس کو ہر کسی نے بہت انجوائے کیا۔جب ایک صحافی نے سوال کیا کہ کیا وہ ٹیسٹ کی کپتانی کے لیے تیار ہیں تو بابر نے کہا کہ اظہر علی اچھی کپتانی کررہے ہیں، یہ پی سی بی کا اختیار ہے لیکن ان کی نظر میں اظہر ہی اچھے کپتان ہیں۔

مزید :

کھیل اور کھلاڑی -