ہیلتھ انشورنس پروگرام دنیا کے صرف چند ترقی یافتہ ممالک میں ہے: تیمور جھگڑا

ہیلتھ انشورنس پروگرام دنیا کے صرف چند ترقی یافتہ ممالک میں ہے: تیمور جھگڑا

  

 پشاور(سٹاف رپورٹر)خیبرپختونخوا کے وزیر صحت و خزانہ تیمور سلیم خان جھگڑا نے کہا ہے کہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت نجی میڈیکل ایجوکیشن انسٹیٹیوٹس، کلینیکل ٹریننگز فراہم کریں گے۔ صوبے میں پائیدار ترقی کے لیے پرائیویٹ سیکٹر کو سنجیدگی سے مواقع فراہم کر رہے ہیں۔ صحت سہولت پروگرام کے لیے موجودہ بجٹ میں تقریباً 20 ارب روپے رکھے ہیں۔ صوبائی وزیر نے ان خیالات کا اظہار ایک نجی ہوٹل میں منعقدہ پرائیویٹ میڈیکل ایجوکیشن انسٹیٹیوٹس اور سوات کے ہسپتالوں کے مابین پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت کلینیکل ٹریننگز کے لیے معاہدے پر دستخط کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ صوبائی وزیر نے کہا کہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت اس منصوبے کو تمام اضلاع تک توسیع دیں گے۔ صوبے میں اس وقت تقریبا 2 سو نجی ہسپتال فعال ہیں جنھیں ساتھ لے کر چلنا وقت کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ضم اضلاع کے 8 سرکاری ہسپتال پی پی پی ماڈل کے تحت بہترین طبی سہولیات فراہم کر رہے ہیں۔ نجی شعبے کو سنجیدگی کے ساتھ مواقع فراہم کر رہے ہیں تاکہ صوبے میں پائیدار ترقی کے ا ہداف کو حاصل کیا جاسکے۔ تیمور جھگڑا نے اس عزم کا بھی اظہار کیا کہ ہیلتھ فاؤنڈیشن کی استعداد میں اضافہ کریں گے اور اسے مزید فعال بنائیں گے۔ خیبرپختونخوا حکومت کے انقلابی پروگرام صحت انصاف کارڈ کے حوالے سے صوبائی وزیر نے کہا کہ جنوری تک صوبے کے تمام 60 لاکھ خاندانوں کو ہیلتھ انشورنس مل جائے گی۔ اس منصوبے پر تقریباً 20 ارب روپے خرچ ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہیلتھ انشورنس کینیڈا، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، جاپان اور کچھ یورپی ممالک کے بعد صرف خیبرپختونخوا میں ہے۔ وزیراعظم پاکستان عمران خان کے ویژن کے مطابق فلاحی ریاست بنانے کی جانب اس سے بڑا قدم اور کوئی نہیں ہو سکتا۔ وزیرِ صحت و خزانہ کا تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا عوام کو صحت کی سہولیات کی فراہمی میں آگے جا رہا ہے جو کہ وزیراعلی محمود خان کی قیادت اور صحت عملے کی محنت کی بدولت ممکن ہوا ہے۔ تقریب میں ممبر قومی اسمبلی شاہد خٹک، ممبران صوبائی اسمبلی فضل الہی، ارباب وسیم، ملک واجد ڈیڈک چیئرمین سوات ایم پی اے فضل حکیم، ڈین خیبر میڈیکل کالج محمود اورنگزیب، ایم ڈی ہیلتھ فاؤنڈیشن جانباز آفریدی، پرائیویٹ میڈیکل ایجوکیشن انسٹیٹیوٹس کے نمائندے، سروس پروائڈرز اور دیگر نے بھی شرکت کی۔

مزید :

صفحہ اول -