فوڈ سٹریٹ بنانے کیلئے ریڈ یو اسٹیشن فیصل آباد کی عمارت کو گرانے کا نوٹس جاری 

  فوڈ سٹریٹ بنانے کیلئے ریڈ یو اسٹیشن فیصل آباد کی عمارت کو گرانے کا نوٹس ...

  

 فیصل آباد(نامہ نگار خصوصی)تقریبا 38سال قبل ڈی گراؤنڈ پارک میں سے 99سالہ لیز پر حاصل کردہ 20کنال قطعہ اراضی پر کروڑوں روپے سے سرکاری طور پر تعمیر کردہ ریڈیو اسٹیشن فیصل آباد کی تعمیرات صرف 7روز کے اندر گرانے کا نوٹس جاری کر دیا گیا ہے یہ نوٹس پنجاب ہاؤسنگ اینڈ ٹاؤن پلاننگ ایجنسی فیصل آباد کی طرف سے جاری کیا گیا ہے جس میں مقررہ مدت کے بعد ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے خود گرانے کا بھی کہا گیا ہے اس نوٹس میں سپریم کورٹ کے ان احکامات کا حوالہ بھی دیا گیا ہے جس کے تحت ملک بھر میں پارکس اور گرین بیلٹس پر قائم شدہ تمام غیر قانونی تجاوزات کو گرانے کا آرڈرجاری کیا گیا ہے اس حکم کے تحت گرین بیلٹس اور پارکس پر تعمیرات کو کافی حد تک گرادیا گیا ہے اور عوامی سطح پران احکامات کو سراہا بھی جا رہا ہے پی ایچ اے ٹی اے نے 38سال بعد ریڈیو اسٹیشن فیصل آباد کی بلڈنگ و دیگر تعمیرات کو غیر قانونی قرار دے دیا ہے تفصیلات کے مطابق1982ء میں اس وقت کے صدر مملکت جنرل ضیا ء الحق کے دور حکومت میں اس وقت کے وفاقی سیکر ٹری اطلاعات ولیفٹیننٹ جنرل مجیب الرحمن نے ریڈیو اسٹیشن پاکستان کی علاقائی نشریات میں توسیع کے منصوبہ کے تحت اسے ذاتی کاوشوں سے بنوایا تھا جس کی افتتاحی تقریب کے وہ مہمان خصوصی بھی تھے اس قطعہ اراضی کی لیز کی مدت 99سالہ تھی اور اس کی قانونی طور پر لیز ادا بھی کر دی گئی ان 38سالوں میں ریڈیو اسٹیشن کی بلڈنگ میں حکومت کی طرف سے تقریبا 30کروڑ روپے کی مالیتی مشینری نصب کی گئی اورتقریبا ایک ارب روپے سے زائد اس پر دیگر اخراجات بھی آچکے ہیں اس ریڈیو اسٹیشن پر سینکڑوں کی تعداد میں اعلیٰ سرکاری افسران نہ صرف چیکنگ اور دیگر وزٹس پر آتے رہے اس کا باضابطہ بجٹ بھی بنتا رہا جس کا باقاعدہ آڈٹ بھی ہو تا رہا اس عرصہ میں فیصل آباد میں تعینات ہونے والے کمشنر،ڈپٹی کمشنر و دیگر بے شمار سرکاری افسران انٹر ویوز کیلئے آتے جاتے رہے مختلف اوقات میں علاقائی سطح پر ریڈیو کی نشریات کے دائرے وسیع بھی کئے جاتے رہے فیصل آباد اور گردو نواح کے مسائل کے حل کیلئے بھی اس ریڈیو اسٹیشن کا ایک کردار رہا۔اس بلڈنگ کی عمارت بظاہر کسی قسم کی آمد ورفت میں بھی رکاوٹ نہیں دکھائی دے رہی۔کتنے ہی آرڈیز‘پروگرام مینجرز اور دیگر سرکاری افسران یہاں تعینات رہ کر اسی بلڈنگ میں اپنے فرائض بھی ادا کرتے رہے ان تمام حکومتی اور مقامی سرگرمیوں اور اقدامات کی روشنی میں کبھی کسی سرکاری محکمے یا افسر نے اس کی غیر قانونی حیثیت پر انگلی بھی نہیں اٹھائی پھر اچانک ہی اس قسم کی افواہیں گردش کرنے لگیں کہ موجودہ حکومت کے ایک دو ارکان اسمبلی ریڈیو اسٹیشن کی اس تعمیر کردہ بلڈنگ کی جگہ کوئی فوڈ سٹریٹ بنوانے کے خواہشمند ہیں جہاں وہ مدینہ ٹاؤن اور بعض دیگر مقامات پر ویران پڑی فوڈ سٹریٹس جیسی فوڈ سٹریٹس بنانے کے لئے اسے گرانا چاہتے ہیں۔کہا جا رہا ہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب کے حالیہ دورہ فیصل آباد میں وہ اس پلاننگ کو عملی شکل دلوانے میں کامیاب ہو گئے اور اس سلسلے میں عدالتی آرڈرز کی تعمیل کا حوالہ دیتے ہوئے ریڈیو اسٹیشن فیصل آباد کی تعمیرات کو ناجائز قرار دے کر اسے گرانے کا نوٹس جاری کر دیا گیا۔معلوم ہوا ہے کہ فیصل آباد ریڈیو اسٹیشن کی انتظامیہ نے اس صورتحال کے بارے میں اسلام آباد میں بیٹھے اپنے اعلیٰ حکام کو مطلع کر دیا ہے۔

عمارت 

مزید :

صفحہ آخر -