شہریوں کے مسائل کا حل حکومت خیبر پختونخوا کی اولین ترجیح ہے: ڈاکٹر کاظم نیاز

شہریوں کے مسائل کا حل حکومت خیبر پختونخوا کی اولین ترجیح ہے: ڈاکٹر کاظم نیاز

  

پشاور(سٹاف رپورٹر)وزیراعظم پاکستان عمران خان اور صوبائی حکومت خیبرپختونخوا کی ہدایت پر چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا ڈاکٹر کاظم نیاز نے پاکستان سیٹیزن پورٹل پر موصول ہونے والی شکایات کا آڈٹ کرنے کیلئے سیکرٹریز کمیٹی اجلاس بلایا۔ اجلاس میں صوبہ بھر کے 1ہزار 30 افسران کا آڈٹ کیا گیا۔ اجلاس کے دوران متعلقہ افسران کو موصول ہونے والی شکایات اور اس کے حل پر تمام انتظامی سیکرٹریز نے اپنے محکموں کے حوالے سے تفصیلی رپورٹ پیش کی۔ اس موقع پر ڈائریکٹر پی ایم آر یو محمد فواد نے اجلاس کے شرکاء کو آن لائن پورٹل کے ذریعے تفصیلی آڈٹ رپورٹ پیش کی۔ ڈائریکٹر پی ایم آر یو محمد فواد نے چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ پورٹل پر موصول شکایات اور جوابات کا باریک بینی سے جائزہ لیا گیا ہے اور تفصیلی رپورٹ ان کو پیش کی گء۔انہوں نے شرکاء کو بتایا کہ صوبہ بھر کے 1ہزار30 افسران کا آڈٹ کیا گیا ہے جس میں 300 افسران کی کارکردگی ناقص رہی۔ جبکہ 500 سے زائد افسران نے 50 فیصد سے اوپر آڈٹ سکور کیاہے اور ان کی کارکردگی تسلی بخش رہی ہے جبکہ 220 سے زائد افسران نے 80 فیصد سے اوپر آڈٹ سکور کیا ہے اور بروقت اور مثبت جوابات دیتے ہوئے عوام کے مسائل حل کئے ہیں۔ اس موقع پر ڈاکٹر کاظم نیاز نے ناقص کارکردگی دکھانے والے افسران کی کارکردگی پر متعلقہ انتظامی سیکرٹریز و دیگر موجود افسران سے سوال کیا کہ شکایات حل کیوں نہیں ہورہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ متعلقہ افسران فوری اپنے جوابات جمع کرائیں کہ کیوں شکایات کا ازالہ نہیں ہورہا یا عوام ان کے جوابات سے مطمئن نہیں ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان سیٹیزن پورٹل کے قیام کا مقصد شہریوں کے مسائل گھر بیٹھے حل کرنے ہیں نہ کہ ان کے مسائل میں مزید اضافہ کرنا ہے۔ ڈاکٹر کاظم نیاز نے اجلاس کے شرکاء کو بتایا کہ صوبہ بھر کے افسران پاکستان سیٹیزن پورٹل پر موصول شکایات کو اہمیت دیں اور موصول شدہ شکایات کو بروقت حل کریں اور شہریوں کومطمئن کریں بصورت دیگر متعلقہ افسران کے خلاف سخت سے سخت کاروائی عمل میں لائی جائے گی۔ چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا نے تمام انتظامی سیکرٹریز کو مزید ہدایات جاری کی ہیں کہ وہ ہر ماہ اپنے افسران کی کارکردگی کا جائزہ لینے کیلئے جائزہ اجلاس کا انعقاد کرکے اس کی تفصیلی رپورٹ چیف سیکرٹری آفس ارسال کریں گے۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -