ڈنگہ میں جانوروں پرنامعلوم بیماری کا حملہ،70مویشی ہلاک،حکام بے خبر

ڈنگہ میں جانوروں پرنامعلوم بیماری کا حملہ،70مویشی ہلاک،حکام بے خبر

  

لاہور (محمد نصیر الحق ہاشمی) نارووال کی تحصیل ظفر وال کے علاقے ڈنگہ اور ملحقہ دیہات میں پراسرار بیماری پھیل گئی جس سے مویشی اچانک ہلاک ہونے لگے، اتنا بھی موقع نہیں ملتا کہ انہیں ذبح کیا جا سکے، اب تک 70سے زائد مویشی ہلاک ہو چکے ہیں، محکمہ لائیو سٹاک کو شکایات کرنے کے باوجود، اس مسئلے کے حل کی طرف توجہ نہیں دی جا رہی، اس بیماری کو پانچ ماہ سے زیادہ کا عرصہ ہو گیا،لیکن بیماری پر قابو نہیں پایا جا سکا۔ ڈنگہ کے معززین چیئرمین محمد اشرف، رشید احمد، شہباز انور، عبدالقیوم، مہر لیاقت، شاہد مقصود احمد، اشتیاق احمد، محمد رفیق، جاوید اختر، حاجی محمد بشارت، مستری محمد امین اور دیگر نے روزنامہ ”پاکستان“ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے علاقے میں گزشتہ چار پانچ ماہ سے مویشی اچانک ہلاک ہو جاتے ہیں جس کی اطلاع محکمہ لائیو سٹاک کے ورمان ہسپتال کو دی گئی لیکن تاحال اس حوالے سے کوئی شنوائی نہیں ہوئی، اب تک درجنوں مویشی ہلاک ہو چکے ہیں جن میں بھینسیں اور گائیں زیادہ شامل ہیں۔ اس کے ساتھ ایک اور بیماری مویشیوں کو لاحق ہو رہی ہے جس میں جانور کھڑا ہونے سے معذور ہو جاتا ہے۔معززین علاقہ نے کہا ہے کہ اس علاقے میں اکثریت غریب کسانوں کی ہے جن کی آمدن کا گذر بسر انہی جانوروں کے دودھ کی فروخت پر ہوتا ہے۔ بعض کسانوں کے تو تمام جانور ہلاک ہو چکے ہیں۔ ایک بھینس کی قیمت ڈیڑھ سے اڑھائی لاکھ روپے تک ہے۔ علاقہ میں کوئی دن ایسا نہیں گزرتا جب چار، پانچ جانور ہلاک نہ ہوں۔ معززین علاقہ نے حکومت پنجاب سے مطالبہ کیا ہے کہ ڈپٹی کمشنر نارووال کو ہدایت کی جائے کہ وہ علاقے کا سروے کرے تاکہ غریب کسانوں کی مالی مدد کی جا سکے اور محکمہ لائیو سٹاک کے اعلیٰ حکام کو ہدایت کی جائے کہ وہ علاقے میں مویشیوں کی پُراسرار بیماری کے تدارک کے لئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کرے تاکہ مزید جانور ہلاک ہونے سے بچ سکیں۔

پراسرار بیماری 

مزید :

صفحہ اول -