دریائے چناب، سندھ میں طغیانی متعدددیہات زیر آب، فصلیں باغات متاثر 

دریائے چناب، سندھ میں طغیانی متعدددیہات زیر آب، فصلیں باغات متاثر 

  

ملتان + راجن پور + خانیوال + کبیروالا +بارہ میل + کوٹ ادو + احمد پور سیال + مظفر گڑھ+ خان گڑھ + رحیم یار خان (سٹی رپورٹر‘ بیورو رپورٹ‘ تحصیل رپورٹر‘ نمائندگان پاکستان) ضلعی انتظامیہ دریائے چناب میں طغیانی کے پیش نظر انتظامات کے لئے گزشتہ روز بھی متحرک رہی۔ ڈپٹی کمشنر عامر خٹک کی ہدایت پر فلڈ کے فوکل پر اے ڈی سی ریونیو طیب خان کا مختلف کیمپس کا دورہ کیا۔تمام اسسٹنٹ کمشنر بھی اپنے ایریاز میں انتظامات میں مصروف رہے۔فلڈ کیمپس کے دورہ کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو محمد طیب خان نے کہا کہ دریائے چناب میں ملتان کی حدود سے اس وقت2 لاکھ5 ہزار کیوسک پانی گزر رہا ہے،آئند 24 گھنٹے تک ملتان کی حدود میں پانی کی یہی صورتحال برقرار رہنے کا امکان ہے،ہیڈ تریموں کے مقام پر پانی کا اخراج1 لاکھ64 ہزارکیوسک سے نیچے چلا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ضلع ملتان میں سیلابی صورتحال مکمل کنٹرول میں ہے،لوگوں کو خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے،طیب خان نے کہا کہ نشیبی علاقوں سے  لوگوں کے انخلاء  کا عمل جاری ہے،ریسکیو1122 اور سول ڈیفنس کا عملہ لوگوں کو محفوظ مقامات پرمنتقل کررہا ہے،محکمہ لائیو سٹاک کی طرف سے مویشیوں کی ویکسینیشن جاری،ریونیو سٹاف کیمپس میں ڈیوٹی پر مامور ہے،محکمہ صحت کی طرف سے لگائے کیمپس میں تمام ادویات کا سٹاک موجود ہے۔ جبکہ چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈسٹرکٹ ہیلتھ اتھارٹی ڈاکٹر ارشد ملک نے گزشتہ فیلڈ ریلیف کیمپ شیرشاہ کا دورہ کیا۔اس موقع پر ڈپٹی کمشنر ملتان اور سی پی او ملتان سمیت دیگر افسران موجود تھے۔ڈاجٹ ارشد ملک نے امدادی کیمپ میں موجود طبی سہولیات کا جائزہ لیا۔اور ضلعی انتظامی افسران کو تفصیلی بریفننگ دی۔ راجن پور میں سیلابی ریلے نے مواضعات سون واہ، محن محمد پور گم والا روڈ پل کی تباہی کے بعد تحصیل روجہان میں اوزمان روڈ کو بھی ڈبو دیا ہے متعدد بار دیہات کے مکین محصور ہو کر رہ گئے ہیں آیندہ دو روز تک دریائے سندھ میں پانی کی سطح بلند ہو جاء ے گی جس سے دریائی کچہ کے مکینوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت کی گئی ہے ایکسین رود کوہی فیصل مشتاق نے بتایا کہ حالیہ سیلاب سے سون واہ کے مقام پر فلڈ بند میں پڑنے والے شگاف کو پر کر لیا گیا ہے جبکہ سیلاب سے کسی قسم کا جانی و مالی نقصان نہیں ہوا ہے ریسکیو ڈبل ون ڈبل ٹو کی ٹیمیں سیلاب میں گھرے دیہات کے مکینوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیے ہیں۔ ڈپٹی کمشنر راجن پور ذوالفقار علی نے کہا ہے کہ ا س وقت دریائے سندھ میں کوٹ مٹھن کے مقام پر نچلے درجے کا سیلاب ہے۔دریائی اور نشیبی علاقوں میں رہنے والے لوگوں سے اپیل ہے کہ وہ فوری طور پر محفوظ مقامات پر منتقل ہو جائیں۔کسی بھی ایمرجنسی کی صورت میں ضلعی انتظامیہ اور تمام متعلقہ محکمے ہائی الرٹ ہیں۔ضلع راجن پور میں پہلی بار جدید ڈرون ٹیکنالوجی سے حفاظتی پشتوں اور آبادی سے ملحقہ علاقوں کی مسلسل مانیٹرنگ کی جا رہی ہے۔لوگوں کے املاک کی حفاظت کے لیے حفاظتی بند اور پشتے بھاری مشینری کی مدد سے مضبوط کیے جا رہے ہیں۔مون سون کی حالیہ بارشوں کی وجہ سے دریائے سندھ میں پانی کی مقدار میں اضافہ ہوا ہے۔ ریسکیو 1122کی ٹیمیں لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کے لیے فیلڈ میں موجود ہیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے سیلاب کے حوالے سے منعقدہ اجلاس کے دوران جائزہ لیتے ہوئے کیا۔ ڈپٹی کمشنر آغا ظہیر عباس شیرازی نے دریائے راوی میں پانی کی صورتحال کا جائزہ لینے کے لئے اچانک کنڈ سرگانہ کا دورہ کیا انہوں نے زمیندارہ بند پر پڑنے والے شگاف، اور امدادی آپریشن کا جائزہ لیا اور متعلقہ حکام کو ضروری ہدایات دیں۔ اسسٹنٹ کمشنرز کبیروالا غلام مصطفٰی، اسسٹنٹ کمشنر میاں چنوں ذیشان ندیم، اری گیشن حکام بھی ان کے ہمراہ تھے ڈپٹی کمشنر نے اس موقع پر کہا کہ سیلاب بڑھنے کے خدشہ کے پیش نظر ضلعی انتظامیہ چوکس ہے فی الحال تریموں سے پانی کی آمد میں کمی ہوئی ہے دریائی علاقوں میں محکمہ صحت، لائیو سٹاک سمیت دیگر محکوں کے کیمپ مکمل فعال ہیں انہوں نے مزید کہا کہ کنڈ سرگانہ شگاف کے متاثرین کو ہر ممکن سہولیات فراہم کی جائیگی انہوں نے مزید بتایا کہ دریائی علاقوں میں مویشیوں کو بیماریوں سے محفوظ رکھنے کیلِئے ویکسینیشن مکمل کرلی گئی ہے جبکہ محکمہ صحت نے ضروری ادویات بھی ریلیف کیمپس پر پہنچادی ہیں قبل ازیں ڈپٹی کمشنر نے محکمہ انہار کے ایکسئینز سے اپنے دفتر میں میٹنگ بھی کی اور دریائے چناب اور راوی میں پانیکی صورتحال کا جائزہ لیا اے ڈی سی آر محمد اکرام ملک اسسٹنٹ کمشنر کبیروالا،میاں چنوں،ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر بھی اجلاس میں موجود تھے اجلاس میں ڈپٹی کمشنر کو کنڈسرگانہ زمیندارہ بند میں شگاف پر کرنے بارے بریفنگ دی گء-

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں سستی کی کوئی گنجائش نہیں دریائے  چناب میں پانی کے بہاؤ میں کمی واقع ہوئی ہے۔ تحصیل کبیروالا میں دریائے چناب میں دو لاکھ کیوسک پانی  کا ریلہ گزر رہا ہے، سیلابی ریلہ کے باعث بیٹ کے علاقے میں  37 مواضعات جزوی طور پر زیر آب آگئے ہیں اور سیکڑوں ایکڑ پر کاشت جوار،گنا،کپاس اور تل کی فصلیں متاثر ہو گئی ہیں،جبکہ باغات بھی زیر آب آئے ہیں۔ریسکیو 1122نے تین سے زائد افراد کو سیلابی علاقوں سے محفوظ علاقوں میں پہنچایا اور سیکڑوں مویشیوں کو بھی ریسکیو کرکے حفاظتی بند کے دوسری طرف محفوظ علاقوں میں پہنچایا ہے گزشتہ روز کنڈسرگانہ کے علاقہ میں پرائیویٹ زمیندارہ بند میں شگاف پڑگیا۔  ڈپٹی کمشنر آغا ظہیر عباس شیرازی کی ہدایت پر ضلعی انتظامیہ کی ٹیموں نے موقع پر پہنچ کر امدادی آپریشن شروع کیا اور اسسٹنٹ کمشنر  نے اپنی زیر نگرانی خود کنڈ سرگانہ میں   ریلیف آپریشن مکمل کروایا۔ ڈپٹی کمشنر ظہیر عباس شیرازی نے بھی گزشتہ روزاچانک کنڈ سرگانہ کا دورہ  کیا اور زمیندارہ بند پر پڑنے والے شگاف، اور امدادی آپریشن کا جائزہ لیا۔اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنرز کبیروالا، میاں چنوں، اری گیشن حکام ہمراہ تھے۔ڈپٹی کمشنر آغا ظہیر  نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ سیلاب بڑھنے کے خدشہ کے پیش نظر ضلعی انتظامیہ چوکس ہے۔ دریائی علاقوں میں محکمہ صحت، لائیو سٹاک سمیت دیگر محکوں کے کیمپ مکمل فعال ہیں   کنڈ سرگانہ شگاف کے متاثرین کو ہر ممکن سہولیات فراہم کی جائیگی۔ دریائے علاقوں میں مویشیوں کو بیماریوں سے محفوظ رکھنے کیلِئے ویکسینیشن مکمل کرلی گئی ہیں۔ سیلاب کی وجہ سے حفاظتی بند کے اندر رہائش پذیر سینکڑوں خاندان کی محفوظ مقامات کی طرف منتقلی جاری ہے‘ دریائی مواضعات میں چاول‘ چارے اور سبزیات کی فصلیں پانی میں ڈوب گئیں‘ اشیاء خورونوش اور جانوروں کو چارے کی قلت کا سامنا ہے۔ ملک کے سب سے بڑے دریائے سندھ تونسہ بیراج کے مقام پر درمیانے درجے کا سیلاب ہے بیٹ کے علاقے زیرآب آگئے متاثرین اپنی مدد آپ نقل مکانی کرنے پر مجبور زمینی رابطہ بھی منقطع ہوگیا‘ شمالی علاقہ جات میں شدید بارشوں اور رودکوہی کے پانی سے دریائے سندھ تونسہ بیراج کے مقام سیلابی صورتحال پیدا ہوگئی،دریائے سندھ تونسہ بیراج کے مقام پر درمیانے درجے کا سیلاب ہے جسکی وجہ سے8 سے زائد مواضعات زیرآب آگئے   ہیں،سیلاب سیزمینی رابطہ بھی  منقطع ہوگیا جبکہ متاثرین اپنی مدد آپ نقل مکانی کرنے لگے جبکہ انتظامیہ کی جانب سے کوئی  ریسکیو آپریشن شروع نہ کیا جا سکا،سیلاب سے بیٹ چھجڑے والا بیٹ لومبڑ والا بیٹ نشان والا کے متاثرین جانور گندم سمیت دیگر قیمتی سامان کشتیوں کے زریعے منتقل کرنے میں مصروف ہیں، اس موقع پر متاثرین کا کہنا تھا کہ دریا میں پانی کی سطح بلند ہونے سے گھروں میں پانی داخل ہوگیا بور ان کے گھر دریا برد ہونے لگے دریائی کٹاو بھی شدت اختیار کرگیا۔حکومت اور انتظامیہ کی جانب سے کوئی امداد فراہم نہ کی گئی۔ اسسٹنٹ کمشنر کوٹ ادو ڈاکٹر فیاض علی جتالہ نے کہا ہے کہ دریائے سندھ میں پانی کی صورتحال کو لمحہ بہ لمحہ مانیٹر کیا جارہا ہے،تحصیل انتظامیہ اور متعلقہ اداریتحصیل بھر میں متوقع سیلاب سے نمٹنے کے لئے ہمہ وقت تیار ہیں، جس کے لئے تمام انتظامات مکمل کرلئے گئے ہیں، کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کیلئے تمام محکموں کو الرٹ کردیا گیا ہے، وہ گزشتہ روز حالیہ بارشوں اور دریائے سندھ میں سیلابی صورتحال بارے تحصیل بھر کے پولیس، ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ،امن کمیٹی،ریسکیو1122، واپڈا ودیگر اداروں کے افسراان سے میٹنگ کررہے تھے،انہوں نے کہا کہ کہ سیلاب کی صورت میں متاثرین کے لئے فلڈ ریلیف کیمپ جو کہ جھنگی دربار ہنجرائی، عباس والا بند، ہاکی سپر، تونسہ بیراج،بیڑی والا پل، پل مگسن،کھر غربی دڑہ  ابراہیم لدھانی، طارق جمیل موڑ،گورنمنٹ ہائی سکول غازی گھاٹ، گورنمنٹ ایلیمنٹری سکول ڈ بی شاہ،گورنمنٹ ایلیمنٹری میڈیم سکول رنگپور میں  قائم کردے گئے ہیں۔ احمدپورسیال، سمندوآنہ، گڑھ مہاراجہ و دیگر مواضعات میں سیلاب سے متاثرہ افراد کی مدد کے لئیے اسسٹنٹ کمشنر محمد اسد علی خان بدھ کی زیر نگرانی ریسکیو1122کی جانب سے آپریشن کیا گیا اس دوران سیلاب میں پھنسے افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا عباس پور راجباہ اور جھنڈیر نیازی دریائی بند میں پڑنے والے شگاف کو ایکسیویٹرز  کے ذریعے پر کر دیا گیا ہیوی مشینری  اسسٹنٹ کمشنر احمد پور سیال محمد اسد علی خان بدھ کی جانب سے مہیا کی گئی امدادی کاروائیوں میں مقامی افراد، عملہ تحصیل کونسل، ریسکیو1122 وچیف آفیسر  میونسپل کمیٹی ملک خالد محمود بھٹی و اہلکاروں نے حصہ لیا اسسٹنٹ کمشنر محمد اسد علی خان بدھ نے مکمل آپریشن کی نگرانی کی دیگر سیلاب زدہ علاقوں میں امدادی کاروائیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ مظفرگڑھ کی سب تحصیل رنگ پور کے مقام پر دریائے چناب میں  درمیانے درجے کے سیلاب کے باعث سات سے زائد مواضعات زیر آب آ گئے ہیں  جن میں رانا واہن۔ براہم پور۔ مقصود پور۔ سید پور شامل ہیں  پانی کی سطح مسلسل بلند ہونے سے  گھروں سکول۔اور فصلوں میں سیلابی پانی داخل ھو گیا۔لوگ اپنی مدد اپ کے تحت محفوظ مقامات پر نقل مکانی پر مجبور ھیں۔ دریائے چناب کے سیلابی ریلے نے خان گڑھ کے نواحی مواضعات میں تباہی مچا دی فصلات زیر آب نشیبی علاقوں کے مکین پریشان جانوروں اور سامان کی محفوظ مقامات پر منتقلی میں مشکلات درپیش ہیں تفصیلات کے مطابق دریائے چناب میں اچانک سیلابی ریلہ آجانے کے باعث مواضعات طرف ڈھول،کانونی،کوٹھیلہ،میراں پور، اور سلمان پور میں پانی کی سطح بڑی تیزی سے بلند ہو رہی ہے جس سے گنا،کپاس،سبزیات،جنتر اورجوار کی فصلات زیر آب آ گئیں جبکہ کسانوں کو جانوروں اور دوسرے ضروری سامان کو منتقلی میں مشکلات درپیش ہیں جبکہ پانی کی سطح بلند ہونے سے ز

مزید :

صفحہ اول -