وزیراعلیٰ کی جنرل بس سٹینڈ شہر سے باہر منتقلی کیلئے منتخب اراضی کا عمل دوماہ میں مکمل کرنے کی ہدایت 

وزیراعلیٰ کی جنرل بس سٹینڈ شہر سے باہر منتقلی کیلئے منتخب اراضی کا عمل ...

  

پشاور(سٹاف رپورٹر)وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے جنرل بس سٹینڈ پشاور کی شہر سے باہر منتقلی کیلئے منتخب اراضی کے حصول کا عمل دو ماہ کے اندر مکمل کرنے اور منصوبے کے لئے پی سی ون کی تیاری سمیت فیزیبیلٹی سٹڈی اورانجینئرنگ ڈیزائن پر کام تیز کرنے کی ہدایت کی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ صوبائی دارالحکومت پشاور کی ترقی صوبائی حکومت کی اہم ترجیحات کا حصہ ہے، اس مقصد کیلئے شروع کئے گئے تمام میگا منصوبوں پر مقررہ ٹائم لائن کے مطابق پیشرفت یقینی بنائی جائے۔ان منصوبوں میں غیر ضروری تاخیر کی صورت میں ذمہ داروں کے خلاف کاروائی ہو گی۔ وہ وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ پشاور میں پشاور کے میگا ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے ایک اجلاس کی صدارت کررہے تھے۔ وزیراعلیٰ کے معاون خصوصی برائے بلدیات کامران بنگش، متعلقہ محکموں کے انتظامی سیکرٹریز، کمشنر پشاور، جنرل منیجر این ایچ اے، ڈائریکٹر جنرل پی ڈی اے، ڈپٹی کمشنر پشاور، چیف ایگزیکٹیو آفیسر ٹرانز پشاور اور دیگر متعلقہ حکام نے اجلاس میں شرکت کی۔ اجلاس کو پشاور میں جاری اہم منصوبوں پر پیش رفت کے حوالے سے بریفنگ دی گئی جن میں جنرل بس سٹینڈ کی شہر سے باہر منتقلی، سالڈ ویسٹ مینجمنٹ، رنگ روڈ کے باقی ماندہ حصوں کی تعمیر اور دیگر منصوبے شامل ہیں۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ جنرل بس سٹینڈ پشاور کو شہر سے باہر منتقل کیا جارہا ہے جس کے لئے رنگ روڈ پر جگہ کی نشاندہی کی جا چکی ہے۔ وزیراعلیٰ نے سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو اور دیگر متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ مجوزہ جگہ کا حصول دو ماہ کے اندر مکمل کیا جائے تاکہ منصوبے پر عملی کام کا آغاز ممکن ہو سکے۔ اس موقع پر اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ سٹیز امپرومنٹ پروجیکٹ (سی آئی پی) کے تحت پشاور کے مختلف علاقوں میں متعدد منصوبوں پر عملدرآمد کیا جائیگا جن میں واٹر سپلائی نیٹ ورک کی تبدیلی، شمشتو کے مقام پر سالڈ ویسٹ مینجمنٹ سسٹم کی تعمیر، کنزا کے مقام پر سیوریج ٹریٹمنٹ پلان کی تعمیر، حیات آباد فیز سیون میں پارک، فیملی ایریاز، واکنگ ٹریکس اور فوڈ سٹریٹس کی تعمیر اور باغ ناران پارک کی توسیع و ترقی جیسے اہم منصوبے شامل ہیں۔ منصوبے کے تفصیلی انجینئرنگ ڈیزائن کی تیاری پر کام شروع ہے جو ایک ہفتے کے اندر مکمل کر لیا جائیگا۔ منصوبے کے تحت پشاور میں واٹر سپلائی پائپ لائن اور واٹر ٹینک کی تبدیلی پر خصوصی توجہ دی جارہی ہے جس کے لئے پشاور کو چار مختلف زونز میں تقسیم کیا گیا ہے۔ علاوہ ازیں سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کیلئے بھی شہر سے باہر جگہ کی نشاندہی کی جاچکی ہے۔ اجلاس کو رنگ روڈ کے (باقی ماندہ) ناردرن سیکشن ورسک روڈ تا ناصر باغ کی تعمیر کے منصوبے پر بھی پیش رفت سے آگاہ کیا گیا اور بتا یا گیا کہ اس منصوبے کی تعمیر ایک سال میں مکمل ہو گی۔ وزیراعلیٰ نے تمام منصوبوں کو بروقت مکمل کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ عوام کو معیاری خدمات اور سہولیات کی فراہمی حکومت کی ترجیح ہے۔ اس مقصد کے لئے شروع کئے گئے عوامی فلاح و سہولت کے جاری تمام منصوبوں پر واضح پیش رفت یقینی بنائی جائے تاکہ عوام ان منصوبوں سے جلد مستفید ہو سکیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت عوام کو سہولیات کی فراہمی کیلئے خطیر وسائل خرچ کر رہی ہے جن کے نتائج نظر آنے چاہئیں۔ 

پشاور(سٹاف رپورٹر)وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے آسمانی بجلی گرنے سے ضلع تور غر میں چھ افراد کے جاں بحق ہونے اور صوبے کے دیگر حصوں میں سیلابی ریلوں سے ہونے والے جانی و مالی نقصانات پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے یقین دلایا ہے کہ صوبائی حکومت متاثرین کو تنہاء نہیں چھوڑے گی اوراُن کی بحالی و امداد کیلئے تمام وسائل بروئے کار لائے گی۔ یہاں سے جاری اپنے ایک بیان میں وزیراعلیٰ نے جاں بحق افراد کے لواحقین سے تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے مرحومین کی مغفرت کیلئے دْعا کی ہے۔ اْنہوں نے کہاکہ وہ صوبے بھر میں بارشوں کی صورتحال کا لمحہ بہ لمحہ رپورٹس کا بذات خو د جائزہ لے رہے ہیں اور بارشوں اور سیلابی ریلوں سے جانی و مالی نقصانات کو کم سے کم کرنے اور متاثرین کو فوری امداد فراہم کرنے اور متاثرہ علاقوں میں بحالی کے کاموں کو تیز کرنے کیلئے تمام ڈویژنل اور ڈسٹرکٹس انتظامیہ، پی ڈی ایم اے اور دیگر متعلقہ محکموں کو پوری طرح متحرک کردیا گیا ہے اور کوشش ہے کہ بارشوں سے جانی و مالی نقصانات کو کم سے کم کیا جائے اور متاثرین کو فوری ریلیف فراہم کیا جائے جس کیلئے تمام تر دستیاب وسائل استعمال میں لائے جارہے ہیں۔ 

مزید :

صفحہ اول -