تحمل وبرداشت کو فروغ دیکر ہی دہشتگردی کا خاتمہ ممکن ہے، شوکت یوسفزئی   

تحمل وبرداشت کو فروغ دیکر ہی دہشتگردی کا خاتمہ ممکن ہے، شوکت یوسفزئی   

  

پشاور(سٹاف رپورٹر)خیبر پختونخوا کے وزیر محنت و ثقافت شوکت علی یوسفزئی نے کہا ہے کہ ملک سے دہشت گردی و انتہا پسندی کے خاتمے کیلئے عوام اور سکیورٹی اداروں نے لازوال قربانیاں دی ہیں پولیس مجرموں سے برتاؤ اور تفتیش کے عمل میں تشدد کے عنصر سے گریز کرے انتہا پسندی نے معاشرے کو کھوکھلا کر دیا ہے۔اے پی ایس واقعے کے بعد پوری قوم ایک ہوگئی۔معاشرے کو خوشحال اور مضبوط بنانے کے لیے لئے دہشت گردی انتہا پسندی اور کرپشن کو ختم کرنا ہوگا۔ وہ گزشتہ روز علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی پشاور کیمپس میں پیغام پاکستان عنوان کے تحت پولیس کی تربیتی ورکشاپ سے خطاب کر رہے تھے۔ صوبائی وزیر نے پولیس جوانوں پر زور دیا کہ وہ پیشہ وارانہ سرگرمیوں کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ بنائیں۔شو کت یوسفزئی نے کہا کہ معاشرے میں تشدد، عدم برداشت اور انتہا پسندی کی وجہ سے بہت نقصان ہورہا ہے۔ پاکستان کے وجود میں آنے کا مقصد ایک ایسے پرامن اور مہذب معاشرے کا حصول تھا جو کہ اسلامی اصولوں کے عین مطابق ہو اور جہاں مظلوم کو انصاف اور ظالم کو سزا ملے۔صوبائی وزیر نے کہا کہ پولیس دہشتگردی اور جرائم سے پاک معاشرے کی تشکیل میں اپنا کردار ادا کرے۔ جہاں عوام خود کو محفوظ سمجھیں اور اداروں پر انحصار اور اعتماد ہو۔شوکت علی یوسفزئی کا مزید کہنا تھا کہ پولیس اور پاک فوج کے جوانوں نے سینہ تان کر دہشت گردوں کا مقابلہ کیا ہے اور اس جنگ میں ہم نے بہترین جوانوں اور افسروں کو کھویا ہے، اگرچہ دہشت گردی اور انتہا پسندی شاید اب بھی کسی نہ کسی شکل میں موجود ہے اسلئے انفرادی اور اجتماعی طور پر ہمیں اس کے خاتمے کیلئے جدوجہد جاری رکھنا ہوگی۔صوبائی وزیر کا کہنا تھا کہ پاکستان کے معرض وجود میں آنے اور اسلامی معاشرے کی تشکیل میں بنیادی نقطہ ہی امن و انصاف ہے۔ اور عام آدمی کو امن و انصاف کے ثمرات ملنے سے شہریوں کا اداروں پر اعتماد بحال ہوتا ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ آج کل انڈیا میں جو کچھ ہورہا ہے اس سے یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ پاکستان بنانے کا خواب اور جدوجہد برصغیر کے مسلمانوں کے لیے کتنا ضروری تھا۔صوبائی وزیر نے کہا کہ خود احتسابی سے ہم نے معاشرتی تبدیلی کا آغاز کرنا ہے۔وزیر موصوف کا کہنا تھا کہ پولیس مشکل حالات میں کم تنخواہ میں فرائض انجام دیتی ہے اور انہیں اس بات کا ادراک ہے اور اس میں مزید بہتری کیلئے ہر فورم پر آواز اٹھائی جائیگی۔شوکت علی یوسفزئی نے علامہ اقبال یونیورسٹی کی اس کاوش کو سراہا اور پولیس جوانوں پر زور دیا کہ تربیتی ورکشاپ کے اسباق کو اپنی پیشہ ورانہ زندگی کا حصہ بنائیں۔

پشاور(سٹاف رپورٹر)صوبائی وزیر محنت و ثقافت شوکت یوسفزئی نے شہباز شریف اور آصف زرداری کی کراچی میں ہونے والی ملاقات پر  رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملاقات کے دوران دونوں شرمائے شرمائے لگ رہے تھے کیونکہ دونوں کو اندر سے پتا ہے کہ وہ کرپٹ ہیں ان کی ملاقات نے کراچی کے عوام کی تکلیف میں اضافہ کیا ہے۔شوکت یوسفزئی نے کہا کہ وہ شہباز شریف جو کہتے تھے کہ زرداری کا پیٹ پھاڑ کر لوٹی دولت نکال لوں گا آج اپنی کرپشن بچانے کے لیے زرداری کے در پر چلے گئے انہوں نے کہا کہ اس وقت کراچی پانی میں ڈوبا ہوا ہے لوگ مشکلات کا شکار ہیں جو سندھ حکومت کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔لیکن شہباز شریف کو سندھ حکومت کے بارہ سال کی کارکردگی پر دو بول بولنے کی توفیق نہیں ہوئی وہ کراچی میں بھی سندھ حکومت کے ساتھ بیٹھ کر  وفاقی حکومت کو کوستے رہے جبکہ انہیں اچھی طرح علم ہے کہ اٹھارویں ترمیم کے بعد اختیارات اب صوبائی حکومت کے پاس ہیں مگر عمران خان دونوں پارٹیوں کے لیڈروں کے اعصاب پر سوار ہیں۔شہباز شریف کم ازکم کراچی کے عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار ہی کرلیتے۔لمبے بوٹ پہن کر چند گلیوں میں چکر ہی لگالیتے اور کراچی کے عوام کیلئے تسلی کے دو بو ل ہی بول لیتے۔ لیکن ان کو کراچی کے عوام کی مشکلات سے زیادہ اپنی کرپشن کی دولت بچانے کی فکر ہے۔شوکت یوسفزئی نے کہا کہ وہ جس زرداری کے پاس کراچی کے عوام کی یکجہتی کے لئے گئے کیا ان کو نہیں پتہ کہ کراچی کی تباہی کے ذمہ دار ہی آصف  زرداری ہیں پھر وہ کیا کراچی کے عوام کے زخموں پر نمک چھڑکنے گئے تھے۔انہوں نے کہا کہ شہباز، زرداری ملاقات نے ثابت کر دیا ہے کہ کرپشن کے ایشو پر یہ دونوں پارٹیاں ایک ہیں  شوکت یوسفزئی نے کہا کہ عمران خان کی موجودگی میں دونوں کو سکون نہیں مل سکتا۔یہ جتنا مرضی ہو ایک ہو جائیں جتنا مرضی ہو رولیں ان کو عوام کی لوٹی ہوئی دولت کا حساب دینا ہی پڑے گا۔

مزید :

صفحہ اول -