کنٹونمنٹ بورڈ کراچی کے افسران نے مظاہرین سے معاہدہ کرکے گھر بھیجا اور پھر ان کیخلاف ایف آئی آر کٹوا دی

کنٹونمنٹ بورڈ کراچی کے افسران نے مظاہرین سے معاہدہ کرکے گھر بھیجا اور پھر ان ...
کنٹونمنٹ بورڈ کراچی کے افسران نے مظاہرین سے معاہدہ کرکے گھر بھیجا اور پھر ان کیخلاف ایف آئی آر کٹوا دی

  

کراچی (ڈیلی پاکستان آن لائن )کنٹونمنٹ بورڈ کلفٹن کے دفتر کے سامنے اپنے بنیادی حقوق کے حصول کیلئے احتجاج کرنے والے مظاہرین کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیاہے ۔

تفصیلات کے مطابق تین روز قبل مقامی لوگوں نے گھروں سے بارشوں کا پانی نکالنے میں ناکامی ، پینے کے پانی کی عدم فراہمی اور کنٹونمنٹ کے علاقے میں صفائی ستھرائی کے فقدان کے پیش نظر کنٹونمنٹ بورڈ کلفٹن کے دفتر کے سامنے جمع ہو کر احتجاج کیا ۔جس پر دفاتر کے اہلکاروں نے مظاہرین کے وفد سے مذاکرات کیے اور ان کے مطالبے پورے کرنے کی یقین دہانی کرواتے ہوئے انہیں واپس بھجوا دیا لیکن اب ان کے خلاف مقدمہ درج کروا دیاہے ۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق مظاہرین کے خلاف مقدمہ درخشاں تھانے میں درج کروایا گیاہے جس میں 22 افراد کو نامز د کیا گیاہے جبکہ نامعلوم افراد کو بھی مقدمے میں شامل کیا گیاہے ۔مقدمہ سی بی سی کے ملازم منور حسین کی مدعیت میں درج کیا گیاہے ۔

مقدے میں سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے ، سرکاری کام میں رکاوٹ ڈالنے اور دھمکیاں دینے کی دفعات شامل کی گئیں ہیں ۔مقدمہ درج کرنے کے بعد پولیس نے تحقیقات شروع کر دی ہیں اور مظاہرین کی ویڈیوز جمع کرنا شروع کر دی ہیں جبکہ سی بی سی دفتر کے قریب میں لگے کیمروں کی ویڈیوز بھی منگوا لی ہیں ۔ مقدمے کے متن میں کہا گیاہے کہ مظاہرہ کرنے والوں میں شر پسند عناصر بھی شامل تھے ۔

اس معاملے کے پیش نظر معروف سماجی کارکن جبران ناصر نے بھی ویڈیو پیغام جاری کیا جس میں انہوں نے ٹیکس کے نام پر ’ بھتہ ‘ دینے سے انکار کرتے ہوئے چیف جسٹس سپریم کورٹ سے از خود نوٹس لینے کی درخواست کر دی ہے ۔

سماجی کارکن جبران ناصر کی جانب سے مقدمے کی کاپی شیئر کی گئی ہے جس پر ایک علی رضوی نامی صارف نے پیغام جاری کرتے ہوئے بتایا کہ ان کے انکل کو بھی اس ایف آئی آر میں نامز د کیا گیا ہے ،جو کہ دو بزرگ خواتین کے سرپرست ہیں ، دونوں بزرگ خواتین کی عمریں 90 سال سے زئد ہیں جنہیں طبی سہولتوں کی ضرورت ہے ، ان میں سے ایک مفلوج ہے، ان کے علاقے میں 48 گھنٹوں سے لائٹ نہیں تھی، گلیاں گٹروں کے پانی سے بھری ہوئی تھیں۔

مزید :

قومی -