اپنے رب کی رضا میں راضی

اپنے رب کی رضا میں راضی
 اپنے رب کی رضا میں راضی

  

تحریر: فریحہ مریم بنت محمد سلیم

فرزانہ نے   گندم سے اپنی مٹھی بھری اور بائیں ہاتھ سے چلاتی ہوئی چکی میں ڈال دی ۔ وہ فجر ادا کرنے کے بعد سے  مسلسل تین گھنٹوں سے یہی کام کر رہی تھی ۔جب اسکو احساس ہوا کہ اس دو کمروں پر مشتمل مٹی سے بنائے گئے اس گھر کے پاس سے  بڑی سی گاڑیاں گزر رہی ہیں تو اس نے سر کو زرا سا اونچا کر کے اور دونوں ہاتھوں سے کام کرتے ہوئے یہ جاننے کی کوشش کی کہ کہیں یہ چوہدری محمد امیر صاحب جو نہایت بگڑے ہوئے اور بڑی حویلی کے چھوٹے صاحب کہلاتے ہیں'  تو نہیں ۔ اسکا اندازہ درست نکلا ۔اور جلدی سے چکی میں ڈالی گئی گندم کو پیسنے لگی۔ اور اب اسے جلدی سے اپنے چھ سالہ بیٹے کے لیے ناشتہ بنا کر بڑی حویلی جانا تھا کیونکہ الیکشن قریب سے اور حویلی میں چونکہ وہ باورچن کا کام سر انجام دیتی تھی تو ان دنوں میں یہ کام حد سے زیادہ بڑھ جاتا تھا۔

ناشتہ بنا کر فرزانہ علی کو جگانے گئی اور کافی دیر وہ اسکا چہرہ ہی تکتی رہی ۔ اور اسے یاد آیا کہ اس کا باپ کس طرح پیسے کمانے کی غرض سے شہر گیا اور وہاں ایک بڑے ٹرک کے حادثے کا شکار ہوا ۔ اور ان دونوں کے پاس جو اس کا سہارا ومحبت کا ہونا ایک امیری تھی وہ بھی غربت کی نظر ہو گیا۔خیالات کو ذہن سے جھٹکتے ہوئے اس نے بڑے پیار سے علی کو جگایا اور اسے ناشتہ  کروا کر ساتھ والے گھر بھیج دیا تاکہ فرزانہ کے جانے کے بعد وہ اکیلا نہ رہے اور ساتھ والے گھر کے بچوں کے ساتھ کھیلے۔

اس دن اسکی توقع کے مطابق بڑی حویلی میں حد سے زیادہ رش تھا کیونکہ الیکشنز میں  صرف ایک ہی ہفتہ بچا تھا۔ اور آج پھر لوگوں کو اکٹھا کر کے ان کو خواب دکھائے جانے کا عمل ہر بار کی طرح دوہرایا جانا تھا۔فرزانہ حسب معمول اپنے کام میں مگن تھی اور ہر روز کی طرح وہ جتنی بھی پھرتی سے کام کر لیا کرتی بڑی بیگم کو کبھی کام پسند نہ آتا اور سب ہی ملازموں کو سب کے سامنے شرمسار کرنے سے ان کے غرور و اناء کو کوئی گہرا سکون پہنچتا تھا۔ اور اس عادت سے سب ہی ملازم اچھی طرح واقف تھے۔

فرزانہ سارا کام نپٹا کر ' تھکی ہاری  گھر پہنچی کہ جا کر ابھی اس نے علی کے کھانے کا بھی انتظام کرنا تھا ۔ ابھی وہ جا کر علی کو ساتھ والے گھر سے لائی ہی تھی کہ علی نے کھانے کی فرمائش کر ڈالی جس کی فرزانہ توقع بھی کر رہی تھی۔جلدی سے اس نے کھانا بنا یا اور دونوں  نے اکٹھے کھایا۔ ساتھ ساتھ علی کی روز دوہرائی جانے والی فرمائیشیں بھی جاری تھی کہ ایک تیز رفتار گاڑی کی زن سے گزرتے ہوئے آواز آئی مگر حیرانی کن بات یہ تھی کہ وہ گاڑی وہاں رک گئی تھی۔

فرزانہ جلدی سے برتن سمیٹنے لگی اور اسی اثناءمیں اس کے گھر کا دروازہ زور سے پیٹا گیا ۔ فرزانہ جا کر دروازہ کھولنے لگی اور سامنے بڑی حویلی کا ڈرائیور تھا۔

اس نے دروازہ کھولتے ہی فرزانہ سے کہا کہ 'چوہدری امیر صاحب گاڑی میں بلاتے ہیں تجھے ۔ان کی خدمت میں حاضر ہو جا کر۔' درشتی سے کہا گیا۔

فرزانہ دڑھکتے دل کے ساتھ آگے گئی اور سلام کیا۔ چوہدری امیر نے سلام کے جواب میں فرزانہ کی طرف ایک بھاری لفافہ اچھالا۔

فرزانہ نے گبھراتے ہوئے لفافہ کھولا تو اس میں ایک زہر کی چھوٹی بوتل اور ساتھ میں نوٹوں سے بھرا اندر ایک اور لفافہ موجود تھا۔  

فرزانہ گھبرا گئی ۔ مگر مجال کے اس بگڑے امیر زادے کے سامنے اس کے منہ سے ایک لفظ بھی نکلا ہو۔ اور چپ چاپ چوہدری امیر صاحب کی ہدایات سنتی گئی جو کہ کچھ یوں تھی کہ ' کل دس بجے کے قریب بڑی حویلی میں ایک جلسہ ہے ۔ تم بڑی حویلی کی پرانی باورچن ہونے کے ساتھ ساتھ ایک بیوہ بھی ہو ۔ اور ہم تمھاری مدد کرتے رہیں گے اگر تم ہمارے کام آؤ۔ ورنہ انجام کی تم اچھے واقف ہو ۔ اگر تم اپنے شوہر کے بغیر رہ سکتی ہو تو اپنے اکلوتے بیٹے کے بغیر بھی رہ لوگی۔ بس کام اتنا ہے کہ بڑے بھیا جو کہ آج کل  الیکشن کی تیاری کر رہے ہیں ۔ان کا کام تمام  کرنا ہے   تاکہ اگلے الیکشن میں میرے مقابل کوئی نہ کھڑا ہو پائے۔ ان کی چائے یا کھانے میں یہ زہر ملا دینا ہے ۔ چونکہ دسترخوان تم نہیں لگاؤ گی تو جب کھانا بنانے والے پر الزام آئے گا کہ زہر تم نے ملایا ہے میں عینی شاہد بن جاؤں گا کہ میں نے  ملازم جو کہ دسترخوان لگاتا ہے ' کو کچھ ملاتے دیکھا تھا ۔ مگر یہ سوچ کر اس سے پوچھا نہیں کہ شاید کوئی مصالحہ  کم ہے وہ ملا رہا ہو۔'  

بہت ہی سفاکی و نفرت سے جملے ادا کیے گئے اور گاڑی فرزانہ پر دھول اڑاتی آگے بڑھ گئی۔

مگر وہ دھول فرزانہ کہ کپڑوں پر تھی اور  اس کے دل کی  گرد صاف ہو چکی تھی جو ان شکوؤں نے چڑھائی تھی جو کہ غریب ہونے پر اور اپنی خواہشات کا حصول نہ ہونے پر وہ اکثر کر دیا کرتی تھی۔

وہ مرے ہوئے قدموں کے ساتھ اندر گئی اور علی کو یہی ظاہر کرنے لگی کہ وہ ٹھیک ہے ۔ علی کے سو جانے کے بعد وہ کافی دیر غور وفکر کرتی رہی اور پھر اٹھ کر نماز عشاء ادا کی اور اپنے رب کے حضور گڑگڑا کر معافی کی پیشکش کرتی رہی۔ اس رات اسے اس نعمت کا اندازہ ہوا کہ وہ کیوں اس غریب گھرانے میں پیدا ہوئی اور کیوں  کبھی اسے اس دنیا کے امیروں جیسی زندگی ہزاروں کاوشوں اور منتوں کے بید بھی نہ میسر آسکی۔ اس رات اسے اس  رب کائنات کے رحیم و کریم ہونے کا اور اس پر ہر گھڑی مہربان ہونے کا بخوبی اندازہ ہوا تھا۔

حقیقتاً وہ اس رات سمجھ پائی تھی کہ اللّٰہ تعالٰی نے اسے اس دنیا میں غریب اس لیے رکھا کہ وہ اگلی دنیا میں  "امیر"  ہو سکے ۔ اور اس دنیا کی فانی و عارضی امیری اس لیے نہ دی کہ وہ اگلی دنیا میں کہیں غریب نہ ہو جائے۔

اور اس رات وہ اپنی اگلی زندگی کا فیصلہ کر چکی تھی۔ اس نے رات کو ہی سارا چھوٹا موٹا سامان باندھا اور سحری پانچ بجے کے قریب ایک قریبی ریلوے سٹیشن سے دو ٹکٹیں خریدیں اور وہ لفافہ جاتے ہوئے ندی میں بہا کر ' ایک نئی زندگی کی تلاش میں ' ایک نئے سفر پر روانہ ہوئی اور اب اسے امیر نہیں بننا تھا ۔ وہ اب اس غریبی کے لبادے میں ہی خوش و مطمئن رہنا چاہتی تھی۔ ہاں! یہ سفر کٹھن تھا مگر وہ اب اپنے رب کی رضا میں راضی رہنا چاہتی تھی۔

۔

 نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

.

اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیساتھ بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’zubair@dailypakistan.com.pk‘ یا واٹس ایپ "03009194327" پر بھیج دیں.

مزید :

بلاگ -