سکولز کالجز کے طالب علموں کے ساتھ زیادتی کرنے اور برہنہ ویڈیو بنانے کے مرکزی ملزم کو عدالت نے عبرتناک سزا سنا دی

سکولز کالجز کے طالب علموں کے ساتھ زیادتی کرنے اور برہنہ ویڈیو بنانے کے مرکزی ...
سکولز کالجز کے طالب علموں کے ساتھ زیادتی کرنے اور برہنہ ویڈیو بنانے کے مرکزی ملزم کو عدالت نے عبرتناک سزا سنا دی

  

اسلام آباد (ویب ڈیسک) ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج اسلام آباد محمد عطاءربانی نے اسکولز کالجز کے طالب علموں کے ساتھ زیادتی کرنے اور برہنہ ویڈیو بنانے کے کیس کے مرکزی ملزم سابق پولیس کانسٹیبل شہزاد خالق کو 21 سال قید اور 10 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنا دی ہے جبکہ اس کیس میں گرفتار دوسرے ملزم کو بری کرنے کا حکم دیا ہے۔

تھانہ آبپارہ میں درج اس مقدمے میں شامل دفعہ 292_C میں چودہ سال، دفعہ 506 ضمن ٹو میں دو سال جبکہ 377AB میں پانچ سال کی سزا سنائی گئی۔واضح رہے کہ اس واقعہ کا مقدمہ گزشتہ سال 25 اگست 2019 ءکو تھانہ آبپارہ میں درج ہوا تھا اور مرکزی ملزم پولیس کانسٹیبل شہزاد خالق اور پندرہ سالہ ریحان موقع پر گرفتار گئے تھے۔

بعدازاں پولیس کی تفتیش کے دوران انکشاف ہوا کہ پولیس کانسٹیبل شہزاد خالق سکولز کالجز کے لڑکوں کو پسٹل دکھا کر خوف زدہ کرنے کے بعد انہیں پولیس لائنز ہیڈ کوارٹر اسلام آباد سمیت مختلف مکانوں میں لے جاتا تھا اور زیادتی کے دوران ویڈیوز بھی بنائی جاتی تھیں۔

مزید :

علاقائی -اسلام آباد -