وزیراعظم عمران خان کے صحافی کے اٹھائے جانے کے بیان پر سینئر صحافی مطیع اللہ جان بھی میدان میں آ گئے ، نہایت سخت پیغام جاری کر دیا 

وزیراعظم عمران خان کے صحافی کے اٹھائے جانے کے بیان پر سینئر صحافی مطیع اللہ ...
وزیراعظم عمران خان کے صحافی کے اٹھائے جانے کے بیان پر سینئر صحافی مطیع اللہ جان بھی میدان میں آ گئے ، نہایت سخت پیغام جاری کر دیا 

  

لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن )وزیراعظم عمران خان نے کچھ دیر قبل عرب ٹی وی ” الجزیرہ “ کو خصوصی انٹرویو دیا جس میں انہوں نے پاکستان میں آزادی اظہار رائے اور میڈیا سے متعلق بھی گفتگو کی اور ایک صحافی کے اٹھائے جانے کا تذکرہ کیا ، عمران خان کی گفتگو پر اب سینئر صحافی مطیع اللہ جان خود میدان میں آ گئے ہیں اور انہوں نے سخت تنقید کے تیر برسا دیئے ہیں ۔

تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے الجزیر ہ کو انٹرویو کے دوران کہا کہ”پاکستان میں میڈیا پر کوئی قدغن نہیں ہے ، ہماری حکومت اظہار آزادی رائے پر یقین رکھتی ہے، بد قسمتی سے حکومت اور وزراءہیں جو خود کو غیر محفوظ محسوس کرتے ہیں نا کہ میڈیا،کچھ صحافی دعویٰ کرتے ہیں کہ ممکنہ طور پر ایک صحافی کو کچھ گھنٹوں کیلئے اٹھایا گیا تھا لیکن ہم نہیں جانتے کہ اس کی وجہ کیا ہے۔“

یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ ڈیڑھ ماہ قبل مطیع اللہ جان کی طرف سے دعویٰ کیا گیا تھا کہ انہیں اسلام آباد کے علاقے سیکٹر جی 6 میں ان کی اہلیہ کے سکول کے باہر سے چند مسلح افراد نے اغوا کیا تھا تاہم اغوا کے 12 گھنٹے بعد وہ اپنے گھر واپس پہنچ گئے تھے۔ اس معاملے پر سپریم کورٹ نے دوران سماعت ہی نوٹس بھی لیا تھا اور پولیس سے تفصیلی رپورٹ بھی طلب کی تھی۔

عمران خان کے بیان پر سینئر صحافی مطیع اللہ جان بھی میدان میں آ گئے ہیں اور انہوں نے ٹویٹر پر پیغام جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ ”اگر وزیراعظم پاکستان پولیس تحقیقات کے 42 روز کے بعد بھی الجزیرہ کو یہ بتاتے ہیں کہ ” کچھ صحافی دعویٰ کرتے ہیں کہ ان کو اٹھایا گیا، خدا جانے کیا وجہ تھی “،تو انہیں انٹیلی جنس ایجنسیز ، پولیس حکام اور اپنے اوپر شرم آنی چاہیے ، ان کی تحقیقات بھی متعصبانہ ہیں ، آپ کو شرم آنی چاہیے ۔“

مزید :

قومی -