میجر ضیاء الدین عباسی (شہید) 

میجر ضیاء الدین عباسی (شہید) 
میجر ضیاء الدین عباسی (شہید) 

  

میجر ضیاء الدین عباسی (شہید)  ایک  خوبرو جوان، ہوشیار، طاقت ور، خوبصورت، موثر، بہادر اور پیشہ ور فوجی تھے 

میجر ضیاء الدین عباسی  شہید  کی ولولہ انگیزی  ’ ہمت اور عزم کی باتیں اب بھی میرے کانوں میں گونج رہی ہیں 

میجر ضیاء الدین عباسی (شہید)  کی جنگ  1965 ء   شروع ہونے سے صرف 7 دن قبل ہی  شادی ہوئی تھی 

                                                                                 ریٹا یئرڈ کیپٹن  مختار حسین 

          ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

چونڈہ  ’سیالکوٹ  کی  معروف  ٹینکوں  کی لڑائی  کے  ہیرو    میجر ضیاء الدین عباسی   (شہید)  کے بی اسکواڈرن میں شامل سوار  مختار حسین  سے (ریٹایئرڈکیپٹین ۔حالیہ مقیم امریکا) رابطہ ہوا  اور ان سے  چونڈہ معرکہ  کے آنکھوں دیکھے حال پر بات چیت  ہوئی جو میں نے قلمبند کیا ہے اور قارئین کے نذر ہے  ’ وہ کہتے ہیں کہ  ہم معمول کی جنگی مشقوں  میں مصروف تھے، کہ  اچانک ہمیں خطرے کی گھنٹی  موصول  ہوئی۔ ہم دوڑ کر میدان میں جمع ہوگئے۔ ہمارے آفیسر کمانڈر میجر ضیاء الدین عباسی نے مختصر طور پر بتایا کہ ہمارے  دشمن نے تینوں اطراف سے ہمارے پیارے ملک پر حملہ کیا ہے۔ بنیادی طور پر، سیالکوٹ، لاہور اور قصور سے  دشمن  ہمارے بڑے شہروں پر قبضہ کرنا چاہتا تھا ۔ کمانڈر نے کہا کہ ہم  اس کے حملے کو پسپا کرنے کے لئے تیار رہیں۔  ہم گوجرانوالہ کے قریب نندی پور کے آس پاس کے علاقوں میں ڈیرے ڈالے ہوے تھے۔ دریں اثنا، صدر ایوب خان نے پْرجوش تقریر کی، "دشمن کو سبق سکھائیں تاکہ وہ جان لیں کہ انہوں نے کس کے ساتھ جارحیت کی ہے۔ اللہ آپ کی مدد کرے اور مدد کرے۔ آمین  "

ہر سپاہی انتہائی پرجوش تھا اور اگلے آرڈر کا بے چینی سے انتظار کر رہا تھا۔ وہ دشمن پر حملہ کرنے اور اپنی مادر وطن کی خاطر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے کے لئے تیار تھا۔ ہمارا بی سکواڈرن انتہائی غیر معمولی ریجنمنٹ " "The Guides Cavalry FF"," پر مشتمل تھا، جس میں 14 پیٹرن ٹینک شامل تھے۔ آخر کار، میجر عباسی نے ہمیں Chawinda سیکٹر جانے کا حکم دیا۔ جب بھی ہم  اپنے  قافلہ کے ہمراہ  کسی بھی گاؤں یا قصبے کو عبور کرتے ،  سڑک کے دونوں  ا طراف کھڑے لوگ ": نعرے تکبیر" کے ساتھ ہمارا استقبال کرتے تھے۔ " انہوں نے ہمارے ٹینکوں پر پھول نچھاور کیے اور کامیابی کے لیئے  بہت سی  دعائوں کے ساتھ ہمیں کھانا  بھی  پیش  کرتے۔ وہ کتنے پْرجوش مناظر تھے! الحمدللہ، ہر سپاہی بے چینی سے دشمن سے مقابلہ کرنے کے منتظر تھا۔ اس منظر نامے اور لوگوں کے جذبات نے ہمیں اتنا جرأت مندانہ بنا دیا کہ ہم سب اپنی مادر وطن کے دفاع کے لئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے کے لئے بے حد بے چین تھے۔

میں  یہاں  اپنے  سکواڈرن کمانڈر میجر ضیاالدین عباسی کا  تعارف کرواتا چلوں۔ وہ  ایک  جوان، ہوشیار، طاقتور، خوبصورت، موثر، بہادر اور پیشہ ور فوجی تھے   ’ جنگ شروع ہونے سے صرف 7 دن قبل ہی  ان کی شادی ہوئی تھی   ’اس کے باوجود  انہوں نے ایمرجنسی کی آواز کا جواب دیا اور فوری طور پر یونٹ میں شامل ہوگئے۔وہ جنگ میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کے خواہشمند تھے  وہ جنگ میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کے خواہشمند تھے۔

ہمارا سکواڈرن ایک جگہ سے دوسری جگہ جا رہا تھا، لیکن دشمن پر حملہ کرنے کے لئے ہائی کمان کی جانب سے ابھی تک  کوئی  حکم نہیں ملا۔ میجر عباسی کہہ رہے تھے "جنگ ختم ہو جائے گی۔ ہم اپنے دوستوں کو کیا بتائیں گے کہ ہم نے جنگ میں کس طرح حصہ لیا۔" بہرحال، ہم سب اس تاریخی لمحے کا بے تابی سے انتظار کر رہے تھے۔

یہ 11 ستمبر 1965 ء  کی صبح کا تاریخی دن تھا، یہ ناقابل فراموش لمحہ تھا جب ہمیں چونڈہ سیکٹر کے بائیں جانب سے حملہ کرنے کا حکم ملا۔ میجر عباسی نے تمام فوجیوں کو  جمع  ہونے کی ہدایت کی  ’ میجر عباسی  شہید  کی ولولہ انگیزی  ’ ہمت اور عزم کی باتیں اب بھی میرے کانوں میں گونج رہی ہیں۔  وہ کہ رہے تھے  کہ "میرے پیارے فوجی، اللہ نے ہمیں دشمن کو کچلنے کا موقع فراہم کیا ہے۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا، ہم تعداد میں کم ہیں۔ لیکن ہم ایمان سے زیادہ طاقتور ہیں کیونکہ اللہ ہمارے ساتھ ہے۔ اللہ نے ماضی میں کئی بار فتح کو اعزازسے نوازا ہے۔، ہمیں اللہ کی طرف   غازی یا شہید کا کوئی ایک تمغہ بھی دیا جائے گا۔ انھوں  نے نعرہ تکبیر بلند کیا ، اس کے جواب میں تمام سکواڈرن  نے  اللہ اللہ اکبر  بلند کیا۔وہ دشمن  کا سامنا کرنے  میں بہت ہے  پر جوش  نظر آرہے تھے۔ہمارے سامنے سینٹوریئن ٹینکوں ( centurian tanks) والی  انڈین 17 پونا ہارس رجمنٹ  تھی۔ وہ چوونڈا کو دائیں طرف سے کاٹنے کا ارادہ کررہے تھے  ’ ہمیں اچانک دھچکے سے ان پر حملہ کرنا تھا  اور ان کو پسپا کرنا  تھا  ’میجر نے کہا تھاکہ  ہم ایک" فارم لائن "بنائیں گے۔ جس کے  ذریعہ ٹینکوں  کا اس انداز سے حملہ کرینگے کہ دشمن یہ غور کرنے پر مجبور ہوجایئے کہ یہ پاکستان کی طرف سے کویئی  بھرپورٹینکں رجمنٹ حملہ ہے۔ "   ٹینکوں پر سوار ہو جاؤ اور اللہ کے نام پر مارچ کرو۔ اللہ آپ کے ساتھ رہے، اللہ اکبر۔ "یہ اسکاونڈرن سے ان کی آخری  ہدایت تھی ۔اس  محاذ کے تمام ٹینکوں نے، آگے بڑھنا شروع کیا  اورمیجر کی حیرت  انگیز پلاننگ کے باعث  ہم نے دشمن  پرگرفت حاصل کرلی تھی۔ ہمارے اچانک حملے کی وجہ سے ہمارے دستے کے سامنے  دشمن بوکھلا گیا  یعنی  کہ میجر کی  حملہ پلاننگ رنگ لے آیئی اور وہ خواس باختہ  ہوگیئے  تھے۔ میں نے دیکھا کہ تین ہندوستانی ٹینک جل رہے تھے، چار دیگر ٹینکیں رک گئے۔ جنگ کا پانسہ پلٹتے دیکھ کر ان کے عملے  کے  8 فوجیوں پر مشتمل، اپنے ٹینکوں کو بھی چھوڑدیا  اور امن کی علامت سفید جھنڈے لہرانے لگے۔ ہم نے ان کو حکم دیا، "کہ آگے بڑھو، ہم آپ کو قتل نہیں کریں گے۔" ہم نے ان کو چار سینٹوریئن ٹینکوں کے ہمراہ پکڑ لیا اور انہیں اپنے  انفنٹری بٹالین کے حوالے کردیا۔ جلنے والے مزید  ٹینکوں سے دھواں بھی ہمارے سامنے کے دائیں اور بائیں حصے پر نظر آرہا تھا۔بعد میں ہمیں معلوم ہوا کہ بھاری جانی نقصانات کے علاوہ، 17 پونا ہارس یونٹ کا ہندوستانی کمانڈنگ آفیسر بھی مارا گیا  ’ دشمن پسپا ہوچکا  تھا۔ اس کے بعد، اس کی ہمت نہیں ہوئی کہ وہ دوبارہ چونڈہ پر حملہ کریں۔ لیکن  ہمیں دکھ  ہوا کہ اس  جوانمردی  اور گھمبیر معرکہ  میں  پاکستان نے  بہا درمیجر ضیاء الدین عباسی   اور  دیگر 9 بہادر سپاہیوں  سمیت  کو بھی کھو دیاتھا ۔ اس معرکہ میں میجر نے  خود آگے بڑھ کر لیڈکرنے کو ترجیح دی تھی    اور میجر کی اسی بہادری نے جنگ کا پانسہ پلٹ کر  معرکہ یادگار بنادیا ہے  ’ اور آخر کار شہادت قبول کرلی۔  مثالی جر ات  کے ان  پاکستانی فوجی ہیرو کو قوم نے  ستارہ جرأت  (ایک بہادر ایوارڈ)سے نوازا۔ اپنے بہادر  کے اعمال کو زندہ رکھنے اور اپنے شہید کی یاد دلانے کے لئے، کراچی میں  "میجر ضیاء الدین عباسی شہید ہسپتال" کے نام سے ایک ہسپتال قائم کیا گیا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ملاحظہ  ٭  چونڈہ پاکستان کے ضلع سیالکوٹ کا ایک ایسا قصبہ ہے جہاں  1965ء  کی پاک بھارت جنگ کی سب سے بڑی ٹینکوں کی لڑائی ہوئی۔جنگوں کی تاریخ  میں دوسری جنگ عظیم کے بعد یہ ٹینکوں کی سب سے بڑی لڑائی تھی۔یہ جنگ دونوں ملکوں کے درمیان میں راوی اور پنجاب کے درمیانی علاقہ میں لڑی گئی۔8 ستمبر کو صبح چھ بجے بھارتی فوج نے کنڑول لائن عبور کرتے ہوئے تین کالم بناتے ہوئے پاکستانی سر زمین پر حملہ کر دیا۔باجرہ گڑھی نخنال اور چاروہ کے مقامات سے بھارتی فوج نے ایک آرمڈ اور تین انفنٹری ڈویزن کی مدد سے حملہ شروع کیا اور 12 کلو میٹر تک بغیر کسی مزاحمت کا سامنا کیے آگے بڑھتی رہی۔اس درمیان میں پاکستانی فضائیہ نے ایک حملہ  بھی کیا لیکن کوئی خاص نقصان نہ کر سکی۔ پاکستان کی فوج نے گڈگور کے پاس بھارتی فوج کا راستہ روکا اور 25 کیلوری کے 15 ٹینک پورے بھارتی ڈویژن کا راستہ روک کر کھڑے ہو گئے۔پہلی ہی مڈ بھیڑ میں بھارتی اپنے 3 ٹینک تباہ کرا کے دفاعی پوزیشن پر چلی گئی۔ چونڈہ کنٹرول لایئن سے 30 کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ آٹھ دن کی شدید جنگ کے باوجود چونڈہ فتح نہ کر سکی اور جنگ بندی تک اپنے 150 ٹینک تباہ کرا کے واپس لوٹ گئی۔یاد رہے کہ اس  جنگ میں  ہندوستان نے   450 ٹینک استعمال کئے تھے۔

مزید :

بلاگ -دفاع وطن -