میاں نواز شریف کی واپسی؟

میاں نواز شریف کی واپسی؟
میاں نواز شریف کی واپسی؟

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

میاں نواز شریف اور مریم نواز کی سزاؤں کے خلاف اپیل کی سماعت یکم ستمبر کو ہوئی جس میں نواز شریف کی ٹیم نے انکی حاضری سے استثناء کی درخواست کی اور اسکی سماعت ہوئی اور مریم نواز بقلم خود اپنے وکلاء کیساتھ پیش ہوئیں، مسلم لیگی کارکنوں نے حسب معمول مریم نواز شریف کا ساتھ دیا ،عدالت نے میاں نواز شریف کو واپسی کی تلقین کرتے ہوئے سماعت ستمبر کے دوسرے ہفتے تک ملتوی کردی، دس ستمبرویسے بھی قریب ہے اور میاں نواز شریف کی زندگی میں خصوصی اہمیت کا حامل ہے اور وہ اس دن 2007 میں پہلے بھی آنے کی کوشش کرچکے ہیں، سو یہ ٹرائل اور اسکے مضمرات انکے لئے کوئی نئی بات نہیں۔

سوال یہ ہے کہ کیا حالات اس نہج پر آچکے ہیں کہ میاں صاحب کو عدالتی ہدایت پر نہیں، سیاسی دعوت پر بلایا جائے ،کیا میاں نواز شریف طبی طور پر صحت مند ہیں کہ اگلی تاریخ پر آسکیں، سب سے پہلا سوال ہے کیا ڈاکٹر میاں نواز شریف کو اس قابل سمجھتے ہیں کہ وہ بنا علاج مکمل کئے،سفر کرسکیں انکے علاج کی کتنی ضرورت ہے، کیا بنا جائے کام بن سکتا ہے ؟کیا متبادل راستے استعمال کرکے کام چلایا جاسکتا ہے ؟اگر میڈیکل پرابلم اتنا مسئلہ نہیں تو جانے کا سوچا جاسکتا ہے اور آگے بڑھا جا سکتا ہے، وگرنہ کنسلٹنٹ کی رائے حتمی اور بہترین دفاع ہے کیونکہ اگر ڈاکٹر ہی اجازت نہ دے تو مریض کی جان سے نہیں کھیلا جاسکتا ۔میڈیکل رپورٹ میڈیکل رپورٹوں سے ہی ڈیل کی جاسکتی ہے،اسکے لئے بھی کمیشن بنانا پڑے گا،میاں نواز شریف کے آنے پر کیا امید کرنی چاہیے؟

مجھے ارشد ملک کی ویڈیو کے بعد اسلام آباد اپیل کورٹ یا سپریم کورٹ کی حد تک یہ امید ہے کہ میرٹ پر اپیل نہ بھی جیتی جائے تو معاملہ ری ٹرائل کے لئے ٹرائل کورٹ کو بھیجے جانے کے امکانات بہت زیادہ ہیں کیونکہ عدالتیں ایسے فیصلوں کو محفوظ نہیں سمجھتیں، جن میں بیرونی مداخلت، سیاسی اثر اور تعصب کا عنصر شامل ہو ، میرٹ پر اپیل جیتنے کے لئے مقتدر طاقتیں وکلا کی ٹاپ ٹیم، سیاسی صورت حال، عدالتوں کا موڈ،سیاسی جماعتیں اورسٹریٹ پاورمیاں نوازشریف کےساتھ ہونی چاہیے،ہمیں یہ یادرکھناچاہیےکہ پانامہ اورجےآئی ٹی کےذریعےنااہلی کس نے کروائی،ڈان لیکس کس نےکروایا؟ آرٹی ایس کس نےفیل کیااورڈبےکس نےاٹھائےاورنیب کےذریعےسزائیں کس نے دلوائیں؟ اگر ہماری اپنےحزب مخالف اورطاقتورحلقوں سےبات چیت بہتر ہےتوعمران خان مسئلہ نہیں ہے،اگران سےبات چیت نہیں ہے تو دیکھیں کتنی دیر تک جیل میں رہنا پڑے گا اور کیا طبی طور پر ایسا ممکن ہے؟اگرایساممکن ہےتب ہی اگلی باتیں سوچناچاہیے،اگرمیاں نوازشریف مزید قربانی کےلئے تیار ہیں تو اسکا سیاسی فائدہ آج نہیں تو کل مریم نواز شریف کو پہنچے گا ۔

چیف کی مدت ملازمت میں توسیع اور اسٹیبلشمنٹ کے ڈرائیونگ سیٹ پر ہونے سے مقتدر حلقوں کے نیوٹرل رہنے کی امید بہت کم ہے کیونکہ اس وقت ہر چیز انکے کنٹرول میں ہے اور وہ ہر فیصلے سے فائدہ اٹھا رہے ہیں، صرف مسئلہ پی ٹی آئی حکومت کی نااہلی کا ہے جو کسی بھی فرنٹ پر اچھے نتائج نہیں دے رہی، گراؤنڈ پر پارلیمان میں اور ماحول میں گرمی پیدا ہو تو آنے سے حکومت کی تبدیلی فاسٹ ٹریک پر ڈالی جاسکتی ہے لیکن ایسا رسک میاں صاحب کی زندگی پر نہیں لیا جاسکتا ،میاں صاحب کے نہ آنے سے کیا ہوگا؟ طبی بنیادوں پر نہ آنے سے یہ ہوگا کہ یہ طے ہوجائیگا کہ میاں صاحب بیمار ہیں اور اگر نہیں آتے تو میڈیکل رپورٹ کی وجہ سے انکی طبی مجبوری، صحت کی ضرورت اور جینوئین وجہ کو ماننا ہوگا ۔ماننا پڑے گاانکے نہ آنے سےبحیثیت جماعت مسلم لیگ نواز پراثر نہیں پڑے گا کیونکہ ابھی تک میاں شہباز شریف نے معاملات کو سنبھالا دیا ہوا ہے اور پارٹی معاملات پر گراس روٹ لیول تک تبدیلیاں اور اصلاحات جاری ہیں، اگلے الیکشن اگر وقت سے پہلے بھی ہوں تو ان اقدامات کا پارٹی کو فائدہ ہوگا۔

مریم نواز گاہے بگاہے عدالتی پیشیوں پر ماحول کو گرما رہی ہیں اور سکوت میں ارتعاش پیدا کرتی ہیں، یہ اگلے چھ ماہ چلتے رہنا چاہیے، قانونی طور پر عدالتیں اگر انکا عذر نہ مانیں تو انکے نہ آنے کے اوپر انکے خلاف جاسکتی ہیں لیکن بے نظیر کے کیس میں بھی معاملات سپریم کورٹ میں انکی غیر موجودگی میں ہی حل ہوئے تھے، ریلیف دینا ہو تو ہزار بہانے، نہ دینا ہو تو ریلیف دینے کے لئے بھی عدالتیں لکیر کی فقیر بن جاتی ہیں اور ہر وہ قدم لیتی ہیں جس سے فیور دینے کا الزام نہ آسکے۔ میاں صاحب کے آنے اور نہ آنے کے سیاسی مضمرات کیا ہوں گے؟ پارٹی لیڈر کے اپنے مقدمات میں عدالت آنے کے قانونی اور سیاسی مضمرات ہمیشہ پارٹی کے حق میں جاتے ہیں، انکے ووٹر سپورٹر کو باہر آکر سیاسی صورت حال پر اظہار خیال کو موقع ملتا ہے، سیاسی حرکت ہمیشہ برکت کا باعث بنتی ہے، اس وقت ماحول سیاسی سکوت کا شکار ہے پاکستانی موسم بھی اب بہتر ہورہا ہے، اسلئے جیل یا ضمانت تک جیل جانا بھی بہتر موسم میں ہوگا۔

دیکھنا یہ ہوگا کہ کیا اگلی گرمی تک حکومت تبدیل ہوچکی ہوگی یا ہوسکتی ہے؟ اس بات کا بیک ڈور ڈپلومیسی کے بغیر جواب نہیں دیاجاسکتا،اگر اے پی سی ہو اور اس میں حکومت ہٹانے کی بات ہو اور سیاسی جماعتیں میاں صاحب کے آنے کی حمایت کریں اور در پردہ مقتدر حلقے اپنے فرمائشی پروگرام پر کمپرومائز کرنے پر تیار ہوں تو حکومت کی تبدیلی پر بات چیت کے ذریعے اور اسکے نتیجے میں آنا سود مند ہوسکتا ہے، بناکسی ڈائیلاگ کے کسی ریلیف کی امید رکھنا رسکی ہوسکتا ہے۔ اگر میاں صاحب آجائیں اور حکومت تبدیل نہ ہو اور مجبوراً پارٹی کو سٹریٹ پاور پر آمادہ کیا جائے تو وہ وقت کا ضیاع ہوسکتا ہے کیونکہ بلدیاتی انتخاب یا جنرل انتخاب کے وقت ہی عوامی پہیہ مکمل گھمانا سود مند ہوسکتا ہے۔ وہ وقت ہوگا جب لوگ اپنی رائے کا کھل کر اظہار کرنے کے موڈ میں ہوں گے۔

لانگ مارچ میاں صاحب کے بغیر نہ ہوگا لیکن کیا وہ مارچ ہونے دیں گے ہی ملین ڈالر کا سوال ہے، اگر میاں صاحب کو لگتا ہے کہ انکے آنے سے سیاسی ماحول میں تبدیلی آنے کے امکانات زیادہ ہیں تو انکو جیل سے باہر رکھنے اور عدالتوں سے ریلیف لینے کے لئے جدوجہد کرنا پڑے گی ،میاں صاحب کے آنے اور نہ آنے کے قانونی مضمرات کیا ہوں گے؟ عموماً اپیل کے لئے اپیل کنندہ کو عدالت میں پیش ہونا پڑتا ہے،غیر موجودگی میں اپیلیں کم ہی چلتی ہیں ری ٹرائل آرڈر ہوجاتے ہیں، اگر قانونی نکات ساؤنڈ ہوں، نہ آنے سے کوئی خاص قانونی مسئلہ نہیں پڑتا کیونکہ طبی وجہ بہت ساؤنڈ ہے۔

برطانیہ اور پاکستان میں تحویل ملزمان کا معاہدہ نہ ہونے کی وجہ سے زبردستی واپسی میں کم از کم دو سال لگ سکتے ہیں،قانونی طور پر مکمل ریلیف کے امکانات پچاس فیصد سے کم ہیں،سپریم کورٹ بھی ابھی پرو ایکٹو موڈ میں نہیں اور وہ مقتدر طاقتوں کے خلاف جانے سے گریز کرے گی مین سٹریم اینکرز زیادہ تر یوٹیوب پر ہیں،ایسے میں لیگل لڑائی کے لئے عوامی پارلیمانی اور بار کی سپورٹ نہ ہونے کے برابر ہے، آخرکار میاں صاحب کو کیا فیصلہ کرنا چاہئے؟میرے خیال میں میاں صاحب کو چائے کی پیالی میں طوفان کو قانونی طبی ایڈوائس اور سیاسی پیش بینی سے ڈیل کرنا چاہیے ،میاں صاحب کا پاکستان واپس جانا پہلے طبی کلیئرنس سے مشروط ہونا چاہیے اور دوسرا واپسی پر قانونی ریلیف سے زیادہ سیاسی ریلیف سے مشروط ہو ، اگر تبدیلی چھ ماہ میں نہیں آرہی تو انتظار کرنا بہتر ہے۔

اگر سیاسی تبدیلی آجاتی ہے تو اپیل آسانی سے ری ٹرائل کی طرف جاسکتی ہے اور نیب اصلاحات کے نتیجے میں، یہ ریفرنسز ختم ہوسکتے ہیں پاؤنڈ آج 220 روپے کا ہے جس طرح حالات جارہے ہیں ایسی تبدیلی کو دھکا بھی لگایا جاسکتا ہے یا انتظار کیا جاسکتا ہے کہ وہ تبدیلی کی ضرورت ملکی سلامتی کی ضرورت بن جائے ایک بات طے ہے کہ یہ انتظام عارضی ہے یہ سٹیٹس کو زیادہ دیر تک چل نہیں سکتا عوامی حمایت یافتہ سیاسی انتظام کو واپس لانا پڑے گا اور اسٹیبلشمنٹ کو ایک دفعہ پھر 2009 کی طرح پردے کے پیچھے جانا پڑے گا۔


 نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

مزید :

بلاگ -