خواتین کا لباس اور ریپ

خواتین کا لباس اور ریپ
خواتین کا لباس اور ریپ
سورس: File

  

معاشرے میں بدامنی،بے چینی، قتل و غارت گری ،دہشت گردی، ڈاکے ،رہزنی،نسل کشی،زنا،شراب نوشی،اور قمار بازی کا بازار گرم ہے، کیا اس کی وجہ خواتین کا لباس ہے؟ اگر  ہاں  تو اس کا ذمہ دار کو ن ہے؟ نہیں تو  خواتین کے لباس پر اعتراض کیوں ۔۔۔؟  ملک کا وزیر اعظم ہو  یا  عام  آدمی  وہ یہ کیوں سوچ رہا ہے کہ خواتین  کے ساتھ جنسی  زیادتی  ، تشدد    میں اضافہ  لباس کی  وجہ سے ہی  ہے اگر ایسا ہے تو اس کا دوش کس کو دیں  گے ؟یہ ایک  ایسا  سوال  ہے جس کا جواب تو کسی  کے پاس   نہیں بس ہےتو صرف الزام  جو خواتین  پر  ہی لگایا  جاتا ہے  ۔۔

ریپ کیسز میں اضافہ کو دیکھتے ہو ئے بہاول وکٹوریہ ہسپتال  کے  میڈیکل سپریٹنڈنٹ  نے خواتین کیلئے ڈریس کوڈ متعارف کرادیا جس  میں یہ طے کردیا گیا ہے کہ خواتین  میڈیکل  آفیسرز  اور پیر  ا میڈیکس  ہسپتال  میں کیا پہن کر آئیں  گی اور انہیں  کس لباس کی اجازت ہو گی  ۔ ہسپتال کے نئے تعینات میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر محمد یونس وڑائچ نے ہسپتال میں جینز پر پابندی لگا تے ہوئے  دوپٹہ یا اسکارف لازمی قرار دیا ہے۔ڈاکٹر یونس وڑائچ نے ایک نوٹی فیکشن  جاری کیا  جس کا  عنوان تھا  کہ ’’ ڈریس کوڈ رولز ان  بی وی   ہسپتال پریمیس‘‘ ان رولز  کے مطابق  خواتین  میڈیکل آفیسر ز اور پیرامیڈیکس کو   ہسپتال میں  ٹائٹس جینز  پہننے کی  اجازت نہیں ہو گی ۔ اونچی   ٹراؤزر،ٹخنوں کے اوپر کیپری ، تنگ فٹ کپڑے جس کو دیکھنے  سے دل میں برائی جنم لے نہیں پہننے ہوں گے ۔خواتین   میڈیکل آفیسرز بھاری چکنی چوڑیاں یا انگوٹھی ، بغیر آستین کے یا آدھے آستین والے کپڑے  نہیں پہن سکیں گے۔ اس کے ساتھ  بھاری میک اپ کا استعمال بھی ممنوع قرار دیا گیا ہے۔خاص طور پر سیاہ لپ اسٹک، کھلے لمبے بال ، اونچی ایڑیاں بھی ہسپتال میں نہیں پہنی جاسکیں گی۔  خواتین سٹاف چپل اور پازیب سے بھی    اجتناب کریں  گی۔

میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر محمد یونس وڑائچ نے نو ٹیفکیشن  میں لکھا کہ خواتین   میڈیکل  آفیسرز  اور پیرامیڈیکس  صرف  "شلوار قمیض یا لمبی قمیض کے ساتھ پتلون ، دوپٹہ ،سکارف ، کم سے کم زیورات جیسے اسٹڈ، ٹاپس ، سادہ انگوٹھی ، یا لاکٹ کے ساتھ زنجیر ، کہنی کے نیچے آستین ، لیب کوٹ کا استعمال کر سکیں  گی  ۔فی میل  ڈاکٹر  زچگی گاؤن لازمی  استعمال کر یں  گی  ۔۔۔ ۔میڈیا رپورٹس  کے مطابق  مسٹر وڑائچ نے تصدیق کی کہ آپریشن کے دوران لیب کوٹ اور زچگی کے گاؤن ہسپتال کے احاطے میں دوپٹہ، اسکارف کے ساتھ خواتین میڈیکل افسران کے کم از کم زیورات کے ساتھ لازمی قرار دیے گئے ہیں۔ اس اقدام کی وضاحت کرتے ہوئے  انہوں نے کہا کہ یہ قدم اسلام کی تبلیغ ، مذہبی اقدار کو فروغ دینے اور معاشرے کی اصلاح کے لیے اٹھایا گیا ہے۔

ریپ توبہت محتاط خواتین کے بھی ہوتے ہیں۔ برقعے اورحجاب پہنے عورتوں کے بھی ہوتے ہیں۔ کفن میں لپٹی، قبر میں لیٹی عورت کا ریپ  کر دیا جاتا ہے کیا  وہ  بھی لباس  کی  وجہ سے ہو تا ہے؟  ریپ کے واقعات پر قابو پانا ایک بڑا چیلنج ہے۔ انہیں کنٹرول کرنے کے لئے اصلاحات کا ایک جامع فریم ورک درکار ہے۔  سب سے پہلے تو متاثرین کو تحفظ کا اتنا احساس دلایا جائے کہ وہ جنسی زیادتی کے کیسز رپورٹ کرسکیں۔ دوسرا مرحلہ ہے تحقیقات کا۔ پولیس کی ناقص کارکردگی کے باعث بہت سے مجرم آزادانہ گھومتے رہتے ہیں اور بے گناہ شہری جرائم میں پھنسا دیے جاتے ہیں۔ پھر پولیس شواہد اکٹھے کرنے کے معاملے میں ضروری مہارتوں سے لیس نہیں ہوتی۔ اہم شواہد کو چھپا لیا جاتا ہے ۔ میڈیکل رپورٹس میں رد و بدل کر دیا جاتا ہے جس کی وجہ سے متاثرین کو انصاف نہیں مل پاتا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ریپ کے حوالے سے قوانین پر عملدرآمد یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ پولیس کو ضروری تربیت بھی فراہم کی جائے تاکہ اہم شواہد ضائع ہونے سے بچیں اور مجرم کیفر کردار تک پہنچ سکیں۔

نوٹ: یہ بلاگر کا  ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں

مزید :

بلاگ -