”اے، میری طرف دیکھو، میں کچھ ہوں!“۔۔۔۔نرم مزاج، خاموش اور معاون

 ”اے، میری طرف دیکھو، میں کچھ ہوں!“۔۔۔۔نرم مزاج، خاموش اور معاون
 ”اے، میری طرف دیکھو، میں کچھ ہوں!“۔۔۔۔نرم مزاج، خاموش اور معاون

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

مترجم:علی عباس
قسط: 65
میں نے جب”بیٹ اِٹ“لکھا تھا تو میرے ذہن میں گلی کے جرائم پیشہ گروہوں کا خیال تھا چنانچہ ہم نے لاس اینجلس کے تند خو گروہوںکو یکجا کیا اور انہیں اپنی ویڈیو میں کام کرنے کےلئے شامل کیا۔یہ ایک بہتر خیال میں تبدیل ہو گیا تھا اور میرے لئے شاندار تجربہ تھا۔ سیٹ پر ہمارے پاس کچھ اُجڈ اورتند خُو بچے تھے۔ پول روم کے اولین منظر میں جلوہ گر ہونے والے بچے سنجیدہ ہیں: وہ اداکار نہیں تھے، وہ اصل میں ایسے ہی تھے۔
میں تند خو لوگوں کے اس قدر قریب نہیں رہا تھا۔ اور وہ لوگ پہلی نظر میں کچھ زیادہ خراب دکھائی دے رہے تھے لیکن ہمارے اردگرد سکیورٹی تھی اور وہ کسی بھی امکانی صورت حال سے نمٹنے کےلئے تیار تھی۔ ظاہر ہے کہ ہمیں جلد ادراک ہوگیا کہ ہمیں اُن میں سے کسی کی ضرورت نہیں تھی کیونکہ گینگ کے زیادہ تر اراکین ہمارے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے منکسرالمزاج، محبت کرنے والے اور بہتر تھے۔ ہم انہیں وقفوں کے دوران کھانا دیتے اور وہ سب کھانا کھاتے اور برتن پرے کر دیتے۔ مجھے ادراک ہوا کہ اُن کے بُرا اور تند خو ہونے کی بڑی وجہ یہ تھی کہ وہ یہ شناخت کے لئے کیا کرتے تھے۔ وہ لوگ چاہتے تھے کہ اُن کی شناخت اور عزت ہو اور اب ہم انہیں ٹی وی پر پیش کرنے جا رہے تھے۔ انہیں یہ پسند تھا۔ ”اے، میری طرف دیکھو، میں کچھ ہوں!“ اور میں نے سوچا کہ اسی وجہ سے بہت سارے گینگ اپنی سرگرمیوں کو جاری رکھتے ہیں۔ وہ باغی ہیں، لیکن باغی جو توجہ اور عزت چاہتے ہیں وہ صرف یہ کہ ہم سب کی طرح نظر آنا چاہتے ہیں اور میں نے انہیں یہ موقع فراہم کیا تھا۔ چند دنوں کے لئے ہی سہی،وہ فلمی دنیا کے ستارے تھے۔
وہ میرے لئے بہت زیادہ حیران کُن تھے۔۔۔ نرم مزاج، خاموش اور معاون۔ انہوں نے رقص کے مناظر کے بعد میرے کام کو سراہا تھا اور میں بتا سکتا تھا کہ دراصل اس کا کیا مطلب تھا۔ وہ بہت سارے آٹو گراف لینا چاہتے اور اکثر میرے کمرے کے باہر کھڑے ہوتے۔ وہ جو کچھ چاہتے، میں انہیں دیتا: تصاویر، آٹو گراف، وکٹری ٹور کے ٹکٹ، کچھ بھی۔ وہ اچھے لوگوں کا جتھا تھا۔
اس تجربے کی سچائی سکرین پر نظر آئی۔ ’بیٹ اِٹ‘ کی ویڈیو ڈراﺅنی تھی اور آپ ان لوگوں کے جذبات کو محسوس کر سکتے تھے۔ آپ گلیوں کے تجربے اور اُن کی زندگیوں سے متعارف ہوتے ہیں۔ آپ’ ’ بیٹ اِٹ“ کو دیکھتے ہیں اور جان جاتے ہیں کہ وہ بچے تند خُو ہیں۔ وہ اپنی پہچان آپ تھے اور یہ نظر آتا ہے۔ یہ اداکاروں کی اداکاری کی طرح نہیں تھا: وہ اُس سے ممکنہ حد تک دور تھے۔ وہ اپنی پہچان آپ تھے : آپ اس ویڈیو سے جو احساس حاصل کرتے ہیں، وہ اُن کا جذبہ ہے۔
میں ہمیشہ حیران ہوتا ہوںکہ انہوں نے گیت سے وہی پیغام حاصل کیا جو میں دینا چاہتا تھا۔
جب ” تھرلر‘ ‘پہلی بار منظرِ عام پر آئی، ریکارڈ کمپنی نے سوچا کہ اس کی ایک دو ملین کیسٹس فروخت ہوں گی۔ عام طور پر ریکارڈ کمپنیاں اس اَمر پر یقین نہیں رکھتی ہیں کہ نئی البم نمایاں طور پر آپ کی گزشتہ البم سے بہتر فروخت ہو سکتی ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ آپ پچھلی بار خوش قسمت تھے یا گزشتہ البم کے فروخت ہونے والے کیسٹس آپ کے شائقین کی تعداد کو ظاہر کرتے ہیں۔ وہ عام طور پر سٹورز پر 2ملین کیسٹ فروخت کے لئے بھیجتے ہیں، ممکن ہے کہ آپ دوبارہ خوش قسمت ثابت ہو جائیں۔
عموماً اس طرح کام ہوتا تھا لیکن میں اُن کے رویے کو ” تھرلر‘ ‘کے ذریعے تبدیل کرنا چاہتا تھا۔ 
فرانک ڈیلیو اُن لوگوں میں سے ایک تھا جنہوں نے ” تھرلر“ میں میری مدد کی۔ جب میری اُس سے ران ویسنر اور فریڈ ڈیمان کے ہمراہ ملاقات ہوئی تھی تو وہ ایپک کے شعبہ تشہیر کا نائب صدر تھا۔ ”تھرلر“ کے حوالے سے میرے خواب کو حقیقت کا روپ دینے کا ذمہ دار فرانک ہے۔فرانک نے پہلی بار” تھرلر“ کے حصے ویسٹ لیک سٹوڈیو ہالی وڈ میں سُنے تھے جہاں البم کا بڑا حصہ ریکارڈ کیا گیا تھا۔ وہ وہاں میرے مینجرز میں سے ایک فریڈی ڈیمان کے ہمراہ بیٹھا تھا اور کوئنسی اور میں نے اُن کےلئے ”بیٹ اِٹ“ اور’ ’تھرلر“ کا کچھ حصہ پیش کیا تھا جس پر ہم تاحال کام کر رہے تھے۔ وہ بہت زیادہ متاثر ہوئے تھے اور ہم نے سنجیدگی کے ساتھ تبادلہ خیا ل شروع کیا تھا کہ اس البم کو بڑے پیمانے پر کیسے پیش کیا جا سکتا ہے۔( جاری ہے ) 
نوٹ : یہ کتاب ” بُک ہوم“ نے شائع کی ہے ۔ ادارے کا مصنف کی آراءسے متفق ہونا ضروری نہیں ۔(جملہ حقوق محفوظ ہیں )۔

مزید :

ادب وثقافت -