سندھ میں سیلاب سے صورتحال خراب، تمام ہلاکتیں رپورٹ نہیں ہورہی، فیصل ایدھی 

سندھ میں سیلاب سے صورتحال خراب، تمام ہلاکتیں رپورٹ نہیں ہورہی، فیصل ایدھی 

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

کراچی (این این آئی)ایدھی فاؤنڈیشن کے سربراہ فیصل ایدھی نے کہا ہے کہ سندھ میں سیلاب  سے  صورتحال بہت خراب ہے، سیلاب اور بارش سے ہونے والی ہلاکتیں رپورٹ نہیں ہورہی ہیں، اصل حقائق کہیں زیادہ خطرناک ہیں،اگر سیلاب سے لوگ بچ بھی گئے تو بھوک اور بیماریوں سے مر جائیں گے،حکومتی سطح پر کام کرنے والوں کا سیلاب زدہ علاقوں میں رویہ بہت خراب ہے،حکومت کو اعلان کرنا چاہیے کہ قرضوں کی رقم سیلاب متاثرین پر خرچ کریں گے،ہم نے جو کشتی لی ہے اس کی قیمت 2لاکھ روپے ہے مگر ہم نے اس پر 4لاکھ روپے ٹیکس دیا ہے،وفاقی حکومت کو شرم نہیں آرہی، فلاحی تنظیموں سے ٹیکس لے رہے ہیں،ہم عالمی اداروں اور اپنے لوگوں سے امداد کی اپیل کرتے ہیں،امداد نہ ملنے کے باعث مزید کئی مشکلات کھڑی ہوسکتی ہیں،پاک فوج اور حکومت نے بھی متاثرہ علاقوں میں بہت کام کیا ہے مشکل وقت میں کراچی کے شہری ہمارا ساتھ دیں کراچی پریس کلب میں ذوالفقارعلی بھٹو جونیئر،کرامت علی،خضر قاضی،ناصر منصور،زہرا خان،رشید اے رضوی،ڈاکٹرقیصر بنگالی،ڈاکٹرعلی اظہر،ڈاکٹر ٹیپو سلطان،واحد بلوچ اور دیگر کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کررہے تھے۔فیصل ایدھی نے کہا کہ سندھ میں جو کچے مکانات تھے وہ گر چکے ہیں ہم ابھی تک صرف 10فیصد لوگوں تک پہنچ سکے ہیں  حکومت کو پچیس ہزار روپے کی امداد کو بڑھانا چاہیے ایک عالمی این جی او پر عائد پابندی ہٹانے کی حکومت سے درخواست کرتا ہوں ذوالفقار علی بھٹو جونیئر نے کہا کہ ہم کافی عرصے سے ایدھی فاؤنڈیشن کے ساتھ کام کررہے ہیں،سیلاب زدگان کی بحالی کے لیے فاؤنڈیشن کے ساتھ ہیں معاشی ماہر ڈاکٹرقیصر بنگالی نے کہا کہ فیصل ایدھی سندھ میں اچھا کام کر رہے ہیں پی ایم اکے ڈاکٹرمرزا علی رضا نے کہا کہ فلاحی تنظیمیں کام کررہی ہیں لیکن حکومت کوئی کام نہیں کررہی ہے قاضی رضا نے کہا کہ سیلاب متاثرین میں مرنے والوں میں عورتوں کی تعداد زیادہ ہے،امداد کی بنیاد پر جنسی ہراساں کیا جارہا ہے۔ مزدور رہنما ناصر منصور نے کہا کہ امدادی سرگرمیوں پر فیصل ایدھی اور دیگر کے شکر گزار ہیں۔ وف ماہر قانون رشید اے رضوی نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کے پاس جلسوں کے لیے لوگ ہیں لیکن سیلاب زدگان کی مدد کے لیے رضاکار نہیں ہیں پائلر کے کرامت علی نے کہا کہ بہت بڑی تباہی سے نمٹنے کے لیے بہت کم وسائل کے ساتھ کام کیا جارہا ہے ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے قاضی نذر نے کہا کہ سندھ میں چار سو سے زائد اموات ہوچکی ہیں خواتین اور بچوں پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
فیصل ایدھی

مزید :

صفحہ آخر -