ناقص پلاننگ سے ہمیں  سیلاب کا سامنا کرنا پڑ ا، شاہ محمود 

ناقص پلاننگ سے ہمیں  سیلاب کا سامنا کرنا پڑ ا، شاہ محمود 

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


 ملتان(سٹی رپورٹر)درگاہ حضرت بہا الدین زکریا کے سجادہ نشین سابق وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ یہ سال آزمائش کا سال ہے۔ پوری قوم دیکھ رہی ہے پورا سندھ اس وقت ڈوبا ہوا ہے۔خیبر پختونخوا آفت زدہ قرار دیے دیا گیا۔ اندورن سندھ، کے پی (بقیہ نمبر1صفحہ6پر)
کے بلوچستان اورجنوبی پنجاب سیلاب میں ڈوبا ہوا ہے۔لوگوں کے گھر سیلاب میں بہہ گئے ہیں، فصلیں تباہ ہوگئی ہیں۔راستے بند ہیں، ریل کے ٹریک سیلابی ریلوں میں بہہ چکے ہیں۔سندھ کا بلوچستان سے اور پنجاب سے سیلاب کے باعث رابطہ منقطع ہوچکا ہے۔  پانی میں سب کچھ ڈوب چکا ہے۔سیلاب کے باعث جگہ جگہ سڑکیں ٹوٹی ہوئی ہے۔ لوگ کھلے آسمان تلے بیٹھے ہیں، بچے تڑپ رہے ہیں۔ اس سال عرس میں شرکت کا سفر آسان نہیں تھا۔میں جب ٹی وی پر سیلاب کے مناظر دیکھ کر سوچ رہا تھا شاید لوگ اس تعداد میں عرس میں شرکت نہ کرسکے۔ اتنی بڑی تعداد میں آپ کو دیکھ کر خوشی بھی اور حیرانی بھی ہوئی۔میں زائرین کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں وہ سینکڑوں میل پیدل چل کر عرس میں شرکت کے لیے آئے۔ میں عرس کی پہلی نشست میں آپ سب کو خوش آمدید کہتا ہوں۔ان خیالات کا اظہار انہو ں نے گزشتہ روز جنوبی ایشیا میں سلسلہ سہرودیہ کے عظیم روحانی پیشوا شیخ الاسلام حضرت غوث بہا الدین زکریا سہروردی ملتانی  کا 783ج واں سہ روزہ سالانہ عرس کے موقع پرقومی زکریا کانفرنس کی پہلی نشست سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر سابق رکن صوبائی اسمبلی مخدوم مرید حسین قریشی مخدومزادہ زین حسین قریشی خواجہ معین الدین کوریجہ صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر اختر ملکسابق وفاقی وزیر سید حامد سعید کاظمی علامہ سید محمد رمضان شاہ فیضی علامہ محمد فاروق خان سعیدی مولانا محمد عثمان پسروری ڈاکٹر صدیق خان قادریدربار حضرت سخی نواب کے سجادہ نشین مخدوم ذوہیب گیلانی مخدومزادہ سجادحسین قریشی  بریگیڈیئر (ر) مقصود احمد قریشی میاں سیف احمد قریشی رضا قریشی حاجی جاوید اختر انصاری پیرزاد طلحہ حسین رضوی میاں غلام جیلانی آفتاب چودھری خالد جاوید وڑائچ ملک وقار عابد تھہیم ملک ظہور محمود مہے ڈاکٹر آصف قریشی رانا عبدالجبارشیخ اعجاز علی قادری سہروردی ثاقب محمود  زونل ایڈمنسٹریٹر اوقاف ضیا مصطفی۔منیجر اوقاف سید ایاز الحسن گیلانی۔ارشد صدیقی۔سمیت دیگر نے بھی شرکت کی۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سجادہ نشین مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہایہ قومی آفت ہے۔ سیلاب قومی غفلت کا نتیجہ ہے، ناقص حکمت عملی کے باعث ہمیں سیلاب کا سامنا کرنا پڑا۔اگر ہم نے ماضی میں سیلاب سے نمٹنے کی مناسب حکمت عملی بنائی ہوتی اگرملک میں پانی سٹور کرنے کیلئے ڈیم بنائے ہوتے توہم پانی کو سٹور کر لیتے تو پن بجلی پیدا ہوسکتی تھی ہماری فصلوں کیلئے پانی دستیاب ہو سکتا تھا۔ اگر ہم حکمت بنا لیتے تو اب بین الاقوامی برادری کے پاس کشکول لے کر نہیں پھر رہے ہوتے اورآج ہمیں ایسے حالات کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔ انہوں نے کہا  سندھ بلوچستان کے پی کے جنوبی پنجاب کابیشتر حصہ پانی میں ڈوبا ہوا ہے۔ لوگوں کی سال بھر کی گندم بہہ چکی ہے، پینے کا پانی نہیں، ادویات نہیں ہے۔سیلاب زدہ علاقوں میں بچت پیٹ کی بیماریوں میں مبتلا ہورہے ہیں۔لوگ حکومتی امداد کے منتظر ہیں۔لوگ منتظر ہیں کہ سندھ حکومت، بلوچستان حکومت ان کی مدد کو آئیگی۔میں بلاول زرداری سے درخواست کروں گا جب 2010 میں سیلاب آیا تھا ہم نے اقوام متحدہ میں ڈونرز کا اجلاس بلایا تھا۔ بلاول بھی عالمی سطح پر ڈونرز کا اجلاس بلائیں۔ اور عالمی برادری کی توجہ پاکستان میں سیلا ب سے ہونے والی تباہی کی طرف مبذول کروائیں۔ انہوں نے کہا میں حکومت پاکستان سے اپیل کرتا ہوں کہ اگروہ اسلام آباد میں مصروفِ ہے سندھ نہیں جاسکتے تو اپنے کسی نمائندہ کو بھیج دیں جو زمینی حقائق کا جائزہ لیں اور سیلاب متاثرین کی حالات زار دیکھیں۔سندھ کے افسران  زمینی حقائق نہیں بتا رہے۔ انہوں نے کہا ہماری حکومت نے سیلاب کی تباہ کاریوں سے بچنے اور پانی کے ذخیرہ کے لئے  10 ڈیم شروع کیے جو کچھ وقت تک مکمل ہو جائیں گے۔ انہوں نے کہا سیلاب سے متاثرین کی امداد کیلئے بلا امتیاز و بلا تشویش تقسیم عمل میں لائی جائے۔جو امداد مل رہی ہے وہ لوگوں کی جیبوں میں منتقل نہ ہو جائے اسے شفاف بنایا جائے۔ میں درخواست کروں گا جیسے کورونا میں ہم نے لوگوں کی شفاف انداز میں مدد کی اسی طرح لوگوں کی مدد کی جائے۔ انہوں نے کہا سیلاب کے دوران مافیا اجڑے ہوئے لوگوں کا فائدہ اٹھا رہا ہے۔جو خیمہ 4500 کا تھا اب وہی خیمہ 45000 ہزار کا مل رہا ہے۔وفاقی و صوبائی حکومتوں کو منافع خوروں کے خلاف ایکشن لینا چاہیے۔ قبل ازیں سجادہ نشین مخدوم شاہ محمود قریشی نے مخدوم مرید حسین قریشی مخدومزادہ زین حسین قریشی مخدومزادہ سجاد حسین قریشی خواجہ معین الدین کوریجہ ڈپٹی کمشنر ملتان طاہر وٹو پیر رضا قریشی سیف قریشی کے ہمراہ مزار کو غسل دیکر 783ویں سالانہ عرس مبارک کی 3روزہ تقریبات کا آغاز کیا۔ انہوں نے مزا ر پر پھولو ں کی چادر چڑھائی۔ ملکی سلامتی اور ترقی کیلئے خصوصی دعا کروائی۔ قومی زکریا کانفرنس کی پہلی نشست میں سٹیج سیکرٹری کے فرائض پاکستان زکریا اکیڈمی کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر صدیق خان قادری نے سرانجام دیئے۔تلاوت کلام پاک قاری محمد سعید نقشبندی نے جبکہ ہدیہ عقیدت حمید نواز عاصم اور احمد نواز عصیمی نے پیش کیا#٭٭٭ملتان(سٹی رپورٹر) حضرت بہا الدین زکریا  کے 783ویں سالانہ عرس مبارک کے دوسرے روز قومی زکریا کانفرنس کی دوسری نشست کل (ہفتہ) صبح دس بجے دربار شریف کے احاطہ میں منعقد ہوگی۔دربار حضرت بہا الدین زکریا کے سجادہ نشین مخدوم شاہ محمود قریشی صدارت کریں گے۔ مخدومزادہ زین حسین قریشی ممتاز علما و مشائخ تقریب میں شریک ہونگے۔ جبکہجماعت اہلسنت پاکستان کے مرکزی ناظم اعلی پیر خالد سلطان قادری چادر والی سرکار کے سجادہ نشین پیر سید علی حسین شاہ خانقاہ حامدیہ کے سجادہ نشین صاحبزادہ قاری ناصر میاں مہمان خصوصی ہونگیحضرت غوث بہاؤ الدین زکریا ملتانی کے سالانہ عرس کے پہلے روز زائرین کی کمی رہی بتا یا جاتا ہے کہ صوبہ سندھ اور جنوبی پنجاب کے مختلف اضلاع میں آنے والے سیلاب کی وجہ سے ہزاروں کی تعداد میں افراد بے گھر ہو چکے ہیں جو کہ اس وقت بھی خیمہ بستیوں میں آباد ہیں۔سیلاب کی تباہ کاریوں کہ وجہ ہزاروں زائرین شدید مشکلات کا شکار ہیں جس کی وجہ سے وہ عرس کی تقریب میں شریک نہ ہو سکے ہیں جس کی وجہ سے  گذشتہ روز عرس کی تقریب میں زائرین کی تعداد خاصی کم رہی۔