حکومت سودی نظام ختم کرنیکاروڈ میپ دے، لیاقت بلوچ

حکومت سودی نظام ختم کرنیکاروڈ میپ دے، لیاقت بلوچ

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


 ملتان(سٹی رپورٹر)قائمقام امیر جماعت اسلامی پاکستان لیاقت بلوچ کی مدرسہ جامع العلوم کے زیر اہتمام منعقدہ ایک روزہ تربیتی نشست سے خطاب میں کہا ہے کہ(بقیہ نمبر30صفحہ7پر)
 پاکستان کا نوجوان باہمت نوجوان ہے آج تک اس نوجوان کو مواقع فراہم نہیں کئے گئے دینی مدارس کے طلبا پاکستان کا فخر ہیں۔یہی مدارس اسلام کے قلعہ ہیں ان کے ذریعے آج پاکستان کی نظریاتی اساس کا تحفظ ممکن ہے۔جماعت اسلامی پاکستان کو اسلامی اور خوشحال پاکستان بنانا چاہتی ہے۔لیاقت بلوچ نے علما اور مدارس کے طلبہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مکمل اسلامی نظامِ معیشت اور نظامِ زکوا و عشر کا نفاذ ضروری ہے۔ وفاقی شرعی عدالت کے فیصلہ کو نظرانداز کرکے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ناراض اور امریکہ، یورپ، عالمی استعماری اداروں کو خوش کیا جارہا ہے۔ یہ بہت ہی خطرناک سودا ہے۔ مشارکہ، مضاربہ ایکویٹی نظام ہی کمرشل بنکوں کا نظام بنایا جائے۔ سود نے پہلے ہی تباہی مچائی ہے۔ حکومت سود کے تحفظ کے اقدامات کی بجائے وفاقی شرعی عدالت کے فیصلے کی تعمیل میں 5 سالوں میں سودی نظام کے خاتمہ کا روڈ میپ دے۔ غریب اور ہنرمند افراد کے لیے باعزت روزگار کا منظم، پائیدار اور مستقل نظام بنایا جائے۔ علما کرام منبر و محراب سے اسلامی معاشی نظام، نظامِ زکوا کے نفاذ اور سود کے خاتمہ کے لیے مثر آواز بنیں۔لیاقت بلوچ نے ملکی حالات پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی، اتحادی حکومت اور پی پی پی کے بیانیے، نعرے اور دعوے سب بے نقاب ہوگئے ہیں۔ یہ سب اقتدار کے حریص اور ایک ہی تھیلے کے چٹے بٹے ہیں۔ جعلی دلیر بڑھکیں مارتے ہیں اور اِن کا سارا انقلابی بیانیہ مزاحمت کی بجائے زمین بوس ہوجاتا ہے۔ اسٹیبلشمنٹ کی قومی سیاست، انتخابی عمل اور حکومت سازی کی انجینئرنگ سے بیدخلی کے لیے کوئی ایک لیڈر، کوئی ایک جماعت نہیں۔ سیاسی محاذ پر قومی ڈائیلاگ اور قومی ترجیحات پر سیاسی قیادت کا ایک پیج پر آنا ضروری ہے۔ اختلاف ہر لیڈر اور جماعت کا بنیادی حق ہے لیکن اِس حق کے اندھے استعمال سے اسٹیبلشمنٹ کے لیے ریڈکارپٹ نہ بچھایا جائے۔نائب امیر جماعتِ اسلامی، مجلسِ قائمہ سیاسی امور کے صدر لیاقت ببلوچ نے بجلی کی بدترین لوڈشیڈنگ اور بلوں میں صارفین پر بے تحاشا بوجھ پر مذمت اور احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ مہنگی بجلی، بجلی کی قلت اور بجلی کی پیداوار اور تقسیم میں بدانتظامی نے شہریوں اور معاشی پہیہ کو بے حال کردیا ہے۔ پیداوری لاگت میں ہوشربا اضافہ سے کوئی کاروبار بھی نہیں چل رہا۔ صرف سیاست میں جھوٹ اور دغابازی کا کاروبار عروج پر ہے۔ عوام کے لیے زندگی گذارنا ناممکن بنادیا گیا ہے۔ جماعتِ اسلامی پورے ملک میں عوام کے احتجاج اور جذبات کی ترجمان ہے۔ پورے ملک میں واپڈا اور کراچی میں کے الیکٹرک عوام کے لیے بجلی کے بل نہیں بلکہ موت، خودکشی اور تباہی کے بل بانٹ رہے ہیں۔