کوشش کرنے والوں کی ہار نہیں ہوتی

کوشش کرنے والوں کی ہار نہیں ہوتی

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ کسی گاؤں میں غریب ماں باپ اور بیٹی رہتی تھی۔ وہ اتنے غریب تھے کہ ان کے پاس ایک دن میں دو وقت کا کھانا کھانے کے پیسے بھی نہیں تھے۔ ماں تو لوگوں کے گھروں میں کام کاج کر کے گھر کے خرچے پورے کرتی تھی اور باپ سرکاری ہسپتال میں گارڈ تھا۔ وہ دونوں مل کر اتنا ہی کما سکتے تھے کہ مشکل ہی سے گھر کا خرچ پورا ہوتا تھا۔ ان کا خواب تھاکہ ان کی بیٹی پڑھ لکھ کر ڈاکٹر بنے، مگر آمدنی اتنی نہیں تھی کہ وہ گڑیا کو ڈاکٹر بناسکیں۔ دن گزرتے گئے، ایک دن اس کی ماں کی طبیعت خراب ہو گئی تو وہ ان کو ہسپتال لے کر گئے۔ڈاکٹر نے چیک اَپ کرنے کے بعد کچھ ٹیسٹ کروانے کا کہا۔ ٹیسٹ کروانے کے بعد ڈاکٹر نے کہا کہ ان کو تو ٹی بی کی بیماری ہے اور اب زندگی کی سانسیں ان کے پاس بہت کم رہ گئی ہیں، یہ دس یا بیس دن تک بمشکل زندہ رہ سکیں گی۔ یہ سن کر گڑیا رونا شروع ہو جاتی ہے۔ ڈاکٹر انہیں حوصلہ دیتا ہے اورکہتا ہے کہ ٹی بی کا علاج ہو سکتا ہے مگر اس کے لئے ایک مخصوص رقم کی ضرورت ہے۔ غریب ہونے کی وجہ سے وہ اتنی رقم کا انتظام نہ کر پائے جس سے چند ہی دنوں میں گڑیا کی ماں اس دنیا سے رخصت ہو گئی۔
گڑیا کا باپ بہت پریشان ہوا کہ گھر کے خرچے اور گڑیا کی پرورش کون کرے گا۔ گڑیا اپنے باپ کو پریشان نہیں دیکھ سکتی تھی،اسی لیے اس نے فیصلہ کیا کہ وہ لوگوں کے گھر اپنی ماں کی جگہ کام کیا کرے گی۔یہ سوچتے سوچتے وہ سو گئی اور اگلی صبح انہوں نے ناشتہ کیا اور اپنی اپنی منزل کی طرف روانہ ہو گئے۔گڑیا نے کام کرنا شروع کر دیا۔ پھر کچھ دنوں بعد اس کی مالکن نے اس کے ساتھ برا سلوک کرنا شروع کر دیا۔مالکن کے دو بچے تھے، ایک لڑکا جس کا نام زید اور لڑکی جس کا نام مسکان تھا۔ مالکن جتنی سخت دل تھی اس کے برعکس مسکان اتنی ہی نرم دل تھی۔ مسکان گڑیا سے دوستی کرنا چاہتی تھی، مگر مسکان کی ماں اس سے کہتی تھی کہ غریب لوگوں سے دوستی نہیں کرتے، یہ بہت گندے ہوتے ہیں۔ یہ سن کر گڑیا مایوس ہو جاتی تھی۔ پھر وہ اپنی ماں کو یاد کیا کرتی تھی۔ ایک دن مسکان نے گڑیا سے دوستی کر ہی لی اور کہا کہ اس دوستی کے بارے میں میری ماما کو نہ بتانا۔ گڑیا کو پہلی بار دوست ملی تھی جس سے وہ بہت خوش ہوئی۔
جوں جوں دن گزرتے گئے گڑیا اور مسکان کی دوستی پکی ہوتی گئی۔ گڑیا نے مسکان سے کہا کہ مجھے پڑھنے لکھنے کا بہت شوق ہے۔ مسکان نے کہا کہ تم میری کتابیں لے کر پڑھنا اور لکھنا سیکھو،جو تمہیں سمجھ نہ آئے وہ تم مجھ سے پوچھ لینا۔ گڑیا سارا کام کاج جلدی جلدی ختم کر کے گھر جا کر کتابیں پڑھتی تھی۔کچھ عرصے تک وہ کافی حد تک پڑھنا اور لکھنا جان چکی تو اس نے مسکان سے کہا کہ میں اپنے والد کے بڑھاپے کا سہارا بننا چاہتی ہوں۔ مجھے اس میں تمہاری مدد کی ضرورت ہے، تم مجھے کچھ پیسے دے دو تاکہ میں اپنا داخلہ بھیج سکوں۔ مسکان نے اسے کچھ پیسے دے دئیے تو اس نے اپنا داخلہ بھیجا اور ایف اے کا امتحان دیا جس میں وہ اچھے نمبروں سے پاس ہو گئی تھی۔ گڑیا نے مسکان کا شکریہ ادا کیا کہ اس کی بدولت ہی وہ اس مقام پر پہنچی تھی۔ گڑیا نے اپنے گاؤں کے قریب ہی ایک سرکاری سکول میں ٹیچنگ شروع کر دی۔ اس کو اتنی تنخواہ ملتی تھی کہ اسے اب مسکان کے گھر کام کرنے کی ضرورت نہیں تھی نہ اس کے والد صاحب کو نوکری کی ضرورت تھی تو اس نے اپنے والد سے کہا کہ آپ نوکری چھوڑ دیں۔اس کے بعد اس نے مسکان کے پیسے بھی واپس کر دیئے، اب وہ ہنسی خوشی رہ رہی تھی۔ گڑیا ماں باپ کا ڈاکٹر بنانے کا خواب تو پورا نہ کر سکی مگر وہ اپنے بابا کے بڑھاپے کا سہارا ضرور بن گئی……اس سے ثابت ہوا کہ ”وقت ہمیشہ ایک جیسا نہیں رہتا“،  ”صبر کا پھل میٹھا ہوتا ہے“۔

مزید :

ایڈیشن 1 -