کام والی 

کام والی 

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


 یہ تم نے کیسی صفائی کی ہے۔ایسا لگ رہا ہے کہ صفائی کی ہی نہیں۔تنخواہ لینے کا پتہ ہے بس کام کرتی نہیں ڈھنگ سے۔بیگم شازیہ ادریس احمد ملازمہ پر برس رہی تھیں اور یہ کوئی نئی بات نہیں تھی۔
    ان کی یہ روز کی عادت تھی۔جتنی دیر ملازمہ کام کرتی وہ اس کو مسلسل کچھ نہ کچھ کہتی رہتی۔ کبھی انہیں کسی ملازمہ کی صفائی پسند نہیں آئی تھی۔وہ ایک انتہائی دولت مند خاتون تھیں اور وہ غریبوں کو نیچ اور ذلیل خیال کرتی تھیں۔ارے یہ تو نے کیا کیا؟چارپائی ناپاک کر دی میری اْٹھا اپنے بچے کو۔
    ثائمہ ایک دم لرز کر رہ گئی۔اس کی آنکھوں میں اپنی کم مائیگی کا احساس آنسو بن کر چمکنے لگا۔دراصل ثائمہ نے اپنی گود میں موجود دو سالہ بچے کو راہ داری میں بچھی ایک چارپائی پر لٹا دیا تھا۔
    امی جان کیا ہوا؟لیٹا رہنے دیں نا بچے کو،کچھ نہیں ہوتا۔ان کی شادی شدہ بیٹی کو ایک دم ترس آ گیا۔جاؤ تم لے جاؤ اپنے گھر۔۔۔وہاں لٹا دو اپنی چارپائی پر۔۔۔مجھ سے نہیں ہوتا یہ سب برداشت۔ بیگم صاحبہ نے بیٹی کو بھی کھری کھری سنا دیں۔ثائمہ نے آنسو پونچھ کر بچے کو اْٹھا لیا۔
    او کام والی!آج کیاریوں کی صفائی کر دینا اچھے طریقے سے۔بیگم صاحبہ ثائمہ کو حکم دے کر کمرے میں چلی گئیں۔ثائمہ لفظ کام والی سن کر تڑپ کر رہ گئی تھی۔جانے کیوں اسے اس لفظ سے چڑ سی ہو گئی تھی۔اس کی وجہ یہ بھی تھی کہ حالات کے ہاتھوں مجبور ہو کر وہ زندگی میں پہلی بار کسی کے ہاں ملازمت کر رہی تھی۔اپنا نام صرف کام والی سن کر وہ تڑپ جاتی تھی۔ایک بار اس نے بیگم صاحبہ کا اچھا موڈ دیکھ کر ان سے درخواست کی کہ وہ کام والی کہنے کے بجائے اس کا نام لے لیا کریں۔ہائے ہائے۔۔۔بڑے پر پْرزے نکل آئے ہیں تم ملازموں کے۔کام والی نہ کہوں تو میڈم کہوں؟وہ ایک دم برس پڑیں اور ثائمہ نے خاموش رہنے میں ہی عافیت جانی۔
    ثائمہ کو اسی دوران کسی اور جگہ ملازمت مل ہی گئی۔اب اسے قدرے سکون محسوس ہوا۔یہاں اسے کام والی کہہ کر نہیں پکارا جاتا تھا۔بیگم صاحبہ اسے نام لے کر پکارتیں اور ان کے بچے اسے خالہ جی کہا کرتے۔بیگم صاحبہ اس سے یا اس کے بچوں سے گھن نہیں کیا کرتی تھیں بلکہ اس کی دل جوئی کرتیں اور وقتاً فوقتاً اس کی مدد بھی کرتی رہتی تھیں۔
    آج اسے یہاں کام کرتے ہوئے 12 سال ہونے کو آئے تھے۔ثائمہ کام سے فارغ ہو کر گھر جانے کی تیاری کر رہی تھی کہ ایک برقع پوش خاتون اس گھر میں داخل ہوئی اور بیگم صاحبہ سے ملازمت کے لئے کچھ بات چیت کرنے لگی۔بیگم صاحبہ کو چونکہ اس وقت کسی ملازمہ کی ضرورت نہیں تھی اس لئے انہوں نے انکار کر دیا مگر اس کی کچھ مدد ضرور کر دی۔
    برقع والی خاتون نے بہت انکار کیا مگر بیگم صاحبہ نے کچھ رقم زبردستی اس کے ہاتھ میں تھما دی جس پر اس خاتون کی آنکھوں سے آنسو نکل پڑے۔آخر وہ خاتون اْٹھی اور واپس جانے کے لئے برقع کی چادر درست کرنے لگی۔اب ثائمہ کی نظر اس کے چہرے پر پڑی تو وہ دم بخود رہ گئی۔اسے اپنی آنکھوں پر یقین ہی نہیں آ رہا تھا۔یہ وہی عورت تھی وسیع و عریض کوٹھی کی مالکن۔غریبوں سے نفرت اور گھن کرنے والی۔ملازموں کو نیچ خیال کرنے والی۔ثائمہ اللہ تعالیٰ کی قدرت پر حیران تھی۔آخر وہ اس عورت کے ساتھ ہی باہر نکلی۔
    سنیں!ثائمہ نے اسے پکارا۔وہ چونک کر مڑی۔ثائمہ چونکہ نقاب میں تھی اس لئے وہ اسے نہ پہچان سکی۔آپ کو ملازمت کی ضرورت ہے،میں آپ کو ایک گھر میں ملازمت دلوا دیتی ہوں۔ثائمہ نے ہمدردانہ لہجے میں کہا۔وہ خوشی سے اس کے ساتھ چل دی۔ثائمہ اسے لے کر ایک بڑے سے گھر تک آئی اور دروازہ کھٹکھٹایا۔کچھ دن پہلے ثائمہ کو اس گھر سے ملازمت کی پیشکش کی گئی تھی مگر ثائمہ اتنی اچھی جگہ سے ملازمت چھوڑ کر کہیں اور نہیں جانا چاہتی تھی اس لئے انکار کر دیا تھا۔اب وہ بارہ سال پہلے والی اپنی بیگم صاحبہ کو یہاں ملازمت دلوانے آئی تھی۔
    آخر کچھ بات چیت کے بعد معقول تنخواہ پر اسے ملازمت مل گئی۔اسے آج ہی سے کام شروع کرنا تھا۔سو ثائمہ اسے چھوڑ کر خود واپسی کے لئے اْٹھ گئی۔کام والی۔وہ سامنے والے کمرے میں جاؤ۔ثائمہ ابھی دروازے تک ہی نہیں پہنچی تھی کہ اسے اپنے پیچھے گھر کی مالکن کی یہ آواز سنائی دی تو دو آنسو چپکے سے اس کی آنکھوں سے نکل کر نقاب میں جذب ہو گئے تھے۔جانے یہ آنسو بارہ سال پہلے کا واقعہ یاد کرکے نکلے تھے یا بیگم صاحبہ کے ساتھ ہونے والے مکافات عمل پر۔

مزید :

ایڈیشن 1 -