300یونٹ پر فیول ایڈجسٹمنٹ سرچارج ختم

300یونٹ پر فیول ایڈجسٹمنٹ سرچارج ختم

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


وزیراعظم شہباز شریف نے300 یونٹ بجلی پر فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ سرچارج ختم کر دیا ہے، ساتھ ہی یہ اعلان بھی کیا کہ سستی بجلی پیدا کرنے کے لیے10ہزار میگاواٹ تک کے شمسی وپون بجلی کے منصوبے شروع کیے جائیں گے جن سے زراعت، صنعت اور گھریلو صارفین سمیت دیگر شعبوں کو سستی بجلی فراہم کرنا ممکن ہو جائے گا۔پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد میں مسلم لیگ(ن) کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نواز شریف اور مجھ سمیت کوئی نہیں چاہتا کہ غریبوں پر بوجھ ڈالا جائے،اس بار پٹرول کی قیمت میں اضافہ کرنے کا فیصلہ بہت مشکل تھا، ساری رات سوچ کر یہ اضافہ کرنا پڑا کیونکہ اب تو چھینک بھی مارنی ہو تو آئی ایم ایف سے پوچھنا پڑتا ہے۔ وزیراعظم نے اپنے طور پر300یونٹ پر ایف پی اے سرچارج ختم کر کے عوام کو ایک بڑا ریلیف دیا ہے اور کہا جا رہا ہے کہ بجلی کے75 فیصد صارفین کو اس سے فائدہ ہو گا مگر دوسری طرف حقیقت یہ ہے کہ ایف پی اے سرچارج کا نفاذ کسی بھی سطح پر صارفین کو ہضم نہیں ہو رہا، یہ ایک نیا کھیل  ہے جو صارفین کے ساتھ پچھلے کچھ عرصے سے کھیلا جا رہا ہے،پہلے بلوں میں اس نام کی کوئی چیز موجود نہیں تھی،صارف اپنی استعمال شدہ بجلی کا بل اور اُس پر معمول کے ٹیکسوں کی ادائیگی کرتا تھا، اب اس مد کی وجہ سے جتنا بل ہوتا ہے اُس سے زیادہ ایف پی اے سرچارج اور اُس پر ٹیکس لگ کر آتا ہے۔لاہور ہائی کورٹ کے راولپنڈی بنچ نے ایف پی اے سرچارج ختم کرنے کا حکم جاری کیا ہوا ہے، حکومت اُس حکم کی پیروی کرنے بجائے کبھی 200اور کبھی300 یونٹ پر سے یہ سرچارج ختم کر رہی ہے، اگر یہ سرچارج 300 یونٹ تک بجلی پر غلط ہے تو اُس سے زیادہ استعمال کرنے والوں پر جائز کیسے ہو سکتا ہے؟ایک طرف بجلی کے نرخ اتنے بڑھ گئے ہیں کہ صارفین کو ایک یونٹ پہلے ہی بہت مہنگا پڑتا ہے،اُس پر اس سرچارج کا نفاذ سیدھا سادہ ظلم ہے، بجلی کے یونٹ کی قیمت کم کرنے کے بجائے صرف ایف پی اے سرچارج میں رعایت دے کر بغلیں بجانے سے عام آدمی کو کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔پہلے یہ سرچارج کبھی کبھار اُس وقت لگایا جاتا تھا جب کبھی پٹرول یا ڈیزل کی قیمت بڑھتی تھی،اب ہر ماہ نیپرا اس مد میں فی یونٹ اضافے کی منظوری دے دیتا ہے، چند روز قبل ساڑھے چار روپے فی یونٹ کی منظوری دی گئی ہے،سونے پر سہاگہ یہ کہ وزیراعظم صاحب فرماتے ہیں کہ ساری رات سوچ کر انہیں مجبوراً پٹرول کی قیمت میں اضافہ کرنا پڑا لیکن یہ جو فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کی مد میں ہر ماہ عوام پر بجلی گرائی جا رہی ہے،اس کا مداوا کون کرے گا؟انہوں نے یہ بھی کہا ہے فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ سرچارج کی مد میں انہوں نے آئی ایم ایف سے پوچھ لیا ہے، حقیقت یہ ہے کہ آئی ایم ایف کا اس سے کوئی تعلق نہیں وہ صرف بجلی پر سبسڈی ختم کرنے کی شرط عائد کرتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ300 یونٹ تک اگر فیول پرائس سرچارج کا ریلیف مل سکتا ہے تو اُن صارفین کا کیا قصور ہے جو 301 یونٹ خرچ کریں گے اور ہزاروں روپے کا سرچارج اُن پر نافذ ہو جائے گا، اگر ایک صارف پر صرف ایک یونٹ زائد استعمال کرنے پر چار پانچ ہزار روپے کا اضافی بوجھ پڑ جائے  تو یہ کتنی بڑی ناانصافی ہو گی، اس طرح تو عوام نفسیاتی مریض بن جائیں گے کہ ہر وقت اپنے بجلی کے میٹر کو دیکھتے رہیں کہ وہ کہیں 300 یونٹ سے301 پر تو نہیں جا رہا۔
 بجلی اور پٹرول دو ایسی مدات ہیں جن کی قیمتوں میں اضافے کا براہ راست اثر عوام پر پڑتا ہے، اِس وقت مہنگائی کی شرح تاریخ کی بلند ترین سطح پر ہے،47 سال کا ریکارڈ ٹوٹ چکا ہے، 27.3 فیصد مہنگائی نے عام آدمی کا جینا دوبھر کر دیا ہے،سیلاب کا عذاب الگ ہے جس نے سیلاب زدگان کو تو متاثر کیا ہی ہے لیکن اب پیداوار بہہ جانے اور اشیاء کی رسد میں شدید کمی کے باعث سبزیاں، پیاز، آلو، ٹماٹر نایاب ہو گئے ہیں،ضروریات زندگی کی دیگر اشیاء بھی عوام کی پہنچ سے دور ہو گئی ہیں۔ضرورت اِس امر کی ہے کہ عالمی منڈی میں تیل کی کم ہوتی قیمتوں کا فائدہ براہ راست عوام کو منتقل کیا جائے مگر اس کی بجائے آئی ایم ایف کو خوش کرنے کی خاطر اس بار بھی کمی کی بجائے اضافہ کیا گیا حالانکہ سیلاب کی تباہی کے مدنظر  یہ ریلیف دیا جانا ضروری تھا،بجلی کے بنیادی ٹیرف میں کمی لائے بغیر عوام کو بڑا ریلیف نہیں دیا جا سکتا۔ملک میں نہ بجلی چوری رک سکی اور  نہ ہی 17 فیصد کے قریب لائن لاسز کی شرح کو قابل قبول حد تک کم نہیں کیا جا سکا، 2021ء میں ٹرانسمیشن اور ڈسٹری بیوشن لاسز لگ بھگ 473 ارب روپے تھے جن میں سے 402 ارب روپے کا بوجھ صارفین پر ڈال دیا گیا جبکہ بقیہ 71 ارب روپے گردشی قرضے کی مد میں ٹھونس دیے گئے۔ بجلی کی کل پیداوار کا 50  سے60 فیصد انحصار تھرمل (تیل، گیس اور کوئلہ وغیرہ) بجلی پرہے جس کی وجہ سے ہر سال اربوں ڈالر درآمدی بل کی مد میں ادا کرنا پڑتے ہیں۔ پانی سے سستی  بجلی کا تناسب صرف 25 فیصد ہے جو سردیوں میں پانی جمنے کی وجہ سے مزید کم ہو جاتاہے۔ انڈس ریور سسٹم اتھارٹی کی ایک تحقیق کے مطابق پاکستان ہر سال 22 ارب ڈالر کا پانی استعمال کیے بغیر سمندر میں پھینک دیتا ہے۔ دوسری طرف مہنگی بجلی پیدا کرنے کے معاہدے اور ان معاہدوں کی ہر حال میں پاسداری کرنا بھی صارف کو کسی بھی قسم کے ریلیف دینے کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ ہے، گویا ہر طرف سے ہمارے ہاتھ پاؤں بندھے ہوئے ہیں اور اس پر مستزاد آئی ایم ایف کی سخت نگرانی ہے جس کے بارے میں وزیراعظم نے ایک بڑی حقیقت بیان کر دی ہے کہ اب تو چھینکنے کے لئے بھی آئی ایم ایف کی اجازت ضروری ہے، ان سب حقیقتوں کے باوجود ایک بنیادی حقیقت جسے کسی صورت نظر انداز نہیں کیا جا سکتا  وہ عوام ہیں جن پر اُن کی بساط سے زیادہ بوجھ ڈالا جائے تو اُس کے ہمیشہ خطرناک نتائج برآمد ہوتے ہیں، خود آئی ایم ایف نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ حالات ایسے ہی رہے تو عوام سڑکوں پرآ سکتی ہے۔ حکومت کو اِس بات کا بھی سنجیدگی سے جائزہ لینا چاہیے کہ پٹرول یا بجلی کی قیمت میں معمولی اضافے سے مارکیٹ میں مہنگائی کا طوفان کیوں آ جاتا ہے، قیمتیں اُس تناسب سے کیوں نہیں بڑھتیں جتنی پٹرول اور بجلی کی قیمت بڑھتی ہو اور مہنگائی کر کے فائدہ اٹھانے والے اتنے بے خوف کیوں ہو چکے ہیں کہ من مانے اضافے کر کے عوام کی زندگی اجیرن کیے رکھتے ہیں،آخر اس معاملے میں گڈ گورننس کیوں نظر نہیں آتی،کیوں عوام کو حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا جاتا ہے؟ حکومت دیکھ چکی ہے کہ ایف پی اے سرچارج کی مد میں عوام پر بوجھ ڈالا گیا وہ اُن کی برداشت سے باہر ہو گیا اور انہوں نے اپنے احتجاج سے حکومت کو مجبور کر دیا کہ وہ اس فیصلے کو واپس لے،گویا عوام اِس وقت مہنگائی کے ہاتھوں اس حد تک زچ ہو چکے ہیں کہ اب مزید ایک تنکے جتنا بوجھ بھی برداشت نہیں کر سکتے۔حکومت کی پہلی ترجیح یہ ہونی چاہئے کہ عوام کو اتنا ریلیف ضرور دے کہ وہ اپنے جسم و جاں کا رشتہ برقرار رکھ سکیں، اس کے لیے حکومت کی معاشی ٹیم کو  سر جوڑ کر بیٹھنا چاہیے اور شارٹ ٹرم، لانگ ٹرم ایسی پالیسیاں بنانا چاہئیں جو ہمیں معاشی گرداب سے نکال سکیں، شمسی توانائی کے ذریعے 10ہزار میگاواٹ حاصل کرنے کے منصوبے لانگ ٹرم منصوبہ بندی کے زمرے میں آتے ہیں، یہ کب، کہاں اور کیسے لگیں گے،کتنی مدت درکار ہوگی اور ان سوالات کے تو جوابات آنے میں ہی جانے کتنی دیر لگ جائے اس لیے حکومت کو اس بات پر غور و فکر کرنے اور دن رات کام کرنے کی ضرورت ہے کہ عوام کو فوری ریلیف کیسے فراہم کیا جا سکتا ہے۔

مزید :

رائے -اداریہ -