سیلاب اور امداد

 سیلاب اور امداد
 سیلاب اور امداد

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


 سیلاب سے پیدا ہونے والی صورت حال نے پورے ملک کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے اور ہر طرف  اسی کی بازگشت سنائی دے رہی ہے سیاسی قیادتیں قدرے تاخیر سے اس طرف متوجہ ہوئیں جب واقعی پانی محاورتاً نہیں بلکہ حقیقت میں لوگوں کے سروں سے گزر چکا تھا۔ہماری ایک عادت بن چکی ہے کہ ہم مسائل کے حوالے سے قبل از وقت حکمت عملی وضع کرنے کی بجائے مسائل میں مکمل دھنس جانے کے بعد ان کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔اب جبکہ تباہی نے  ہمیں چاروں طرف سے جکڑ لیا ہے تو ہم  پانی کے تند و تیز ریلوں کے تھم جانے کا انتظار کر رہے ہیں تا کہ زندگی کو معمول پر لانے کے لیے اقدامات شروع کیے جا سکیں۔ بحالی اور ریلیف کے کام  میں پیش پیش لوگوں کو بالترتیب دیکھیں تو سب سے پہلے انفرادی سطح پر لوگ ایک دوسرے کی مدد کے لیے آگے بڑھتے ہیں،اس کے بعد ملک کے طول و عرض میں قائم اپنی مدد آپ کے تحت قائم ہونے والی تنظیمیں اپنے اپنے انداز سے آگے بڑھتی ہیں جس میں دینی شناخت کی حامل تنظیمیں  اگلی صفوں میں دکھائی دیتی ہیں۔ یہ ملک کے اندر قائم ہونے والا وہ  خودساختہ نظام  ہے جو خیر کے جذبے کے تحت وجود میں آتا ہے اور  اسی جذبے کے سائبان میں خود رو پودے کی طرح پروان چڑھتا ہے۔ملک میں پیدا ہونے والی کسی بھی ہنگامی صورت حال میں یہ نظام ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے جو حکومتی مشینری سے بھی پہلے اور موثر ترین انداز  سے ریلیف کے کام کا آغاز کر دیتا ہے۔ پاک افواج بھی ایسے ہر موقع پر لوگوں کے قریب تر پہنچ کر ان کو مشکل سے نکالنے میں آگے دکھائی دیتی ہیں۔اس کے بعد حکومت بھی پہلے فضائی دوروں سے مشن میں داخل ہونے کا آغاز کرتے ہوئے  مالی امداد کے اعلان اور عوام سے مدد کی اپیل کے ساتھ میدان میں دکھائی دینے لگتی ہے۔ بیوروکریسی جو اس صورتحال کو سنبھالنے کی اصل ذمہ دار ہے وہ بھی ایسی مشکلات میں سیاسی قیادتوں کے دوروں کو ترتیب دینے اور ان کی آؤ بھگت میں ہی زیادہ وقت گزارتی ہے اور کبھی بھی اس طبقے کی طرف سے ایسی صورت حال میں کوئی نمایاں کردار سامنے نہیں آ سکاحالانکہ اگر صرف ہماری بیوروکریسی کے ذمہ داران اپنے فرائض کو خوش اسلوبی سے سر انجام دینے لگ جائیں تو نہ صرف ایسے مسائل سے قبل از وقت بہتر انداز سے نپٹا جاسکتا ہے بلکہ ریلیف کے بہت سے کام بھی زیادہ بہتر انداز سے آگے بڑھ سکتے ہیں۔

آرمی چیف کی طرف سے دریاؤں کے منہ پر غیر قانونی تعمیرات کی  اجازت دینے والے افسران کے تعین کی بات بہت  اہمیت کی حامل ہے۔حکومت کا پورا زور لوگوں سے  مدد کی اپیل اور بین الاقوامی برادری کی طرف صرف ہوتا ہے کہ اب ہماری مدد کی جائے۔آفرین ہے مغربی و دوست ممالک پر جو ہر سال انسانی ہمدردی کی بنیاد پہ ہماری  آواز کی طرف متوجہ ہو جاتے ہیں۔ حالانکہ وہ بھی جانتے ہیں کہ یہ آفت نہیں بلکہ حالات سے نپٹنے کی صلاحیت سے محرومی اور نااہلی کی علامت ہے کہ آج سے تیس سال پہلے بھی جو علاقے سیلاب میں ڈوبتے تھے آج بھی ڈوب رہے ہیں۔ دنیا کو پتا چل جائے کہ2005ء کے ہیبت ناک زلزلے اور 2010ء میں آنے والے سیلاب کے بعد دنیا بھر سے آنے والے اعلیٰ معیارکے سامان کا زیادہ تر حصہ  بڑے بڑے لوگوں  کے گوداموں میں محفوظ ہو کر بکتا رہا  تو شائد یہ لوگ سامان بھیجنے کی بجائے خود لوگوں کی مدد کرنے آ جائیں۔قومی سطح پر قائم تنظیمیں وقتی ریلیف کا کام بہت احسن طریقے سے سرانجام دیتی ہیں جن میں ایسے لوگوں کو ریسکیو کرکے محفوظ مقام تک پہنچانا، ان کے کھانے، کپڑوں، خیموں، علاج معالجہ اور ضروریات زندگی کی دیگر چیزوں کا انتظام کرنا شامل ہوتا ہے۔ حقیقت کی آنکھ سے دیکھا جائے تو جتنی امداد ہم اس مد میں صرف باہر کی دنیا سے لے چکے ہیں اس سے نہ صرف سیلاب زدہ دیہاتی گاؤں ترقی یافتہ شہروں میں تبدیل ہو سکتے تھے بلکہ اس سیلابی پانی کو محفوظ کرنے کے لیے ان علاقوں میں ڈیموں کا جال بھی بچھایا جا سکتا تھا۔اندرون ملک جمع ہونے والے عطیات کا اندازہ لگائیں

تو صرف تحریک انصاف کی اپیل پر جمع ہونے والے 500 کروڑ کو ہی لے لیا جائے تو سیلاب سے متاثر ہونے والوں کی تعداد کم و بیش تین کروڑ ہے اور صرف اسی پیسے کو متاثرین میں تقسیم کر دیا  جائے تو فی کس سوا کروڑ روپے بنتے ہیں، جبکہ دیگر قومی سطح پر آنے والے لاکھوں ڈالرز اور قیمتی ساز وسامان الگ سے ہے لیکن تاریخ گواہ ہے زلزلہ زدگان اور سابقہ سیلاب سے متاثرہ لوگوں کی وقتی ریلیف کے بعد زندگی بہت مشکلات کا شکار ہوئی اور وہ لوگ آج تک نہ تو خود اپنے پاؤں پر صحیح طرح سے کھڑے  ہو سکے اور نہ ہی ان کے مکان۔ قومی منظر نامے پر موجود ڈھیروں  سیاسی خاندانو ں اور شخصیات کی ذاتی جیب سے کوئی خاطر خواہ اعلان نہ ہونا بھی لمحہ فکریہ ہے۔ ایسے موقع پر خیر خواہی کا جذبہ رکھنے والوں کے ساتھ ساتھ مفاد پرستوں کے ٹولے بھی حرکت میں آ چکے ہیں جو سیلاب کا بہانہ بنا کر پیاز ٹماٹر کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ کر رہے ہیں جس کے سبب ہنگامی طور پر انڈیا سے اس کی درآمد کی اجازت دے دی گئی ہے۔اس ساری صورت حال میں سلام ہے ان خدائی خدمت گاروں کو  جو  ایسے مواقع پر   میدان عمل میں فقط رضائے خداوندی کے لیے مخلوق خدا کی خدمت کا جذبہ لے کر مصیبت زدہ لوگوں تک پہنچ رہے  ہیں، سلام ہے ان  دوست ممالک پر جو ہمارا ٹریک ریکارڈ جانتے ہوئے بھی ہر بار ہماری مدد کے لیے اپنے خزانوں کے منہ کھول دیتے ہیں  اور سلام ہے ان سیاسی قیادتوں پر جو ان علاقوں کافضائی اور زمینی دورہ کرتے ہوئے اپنے پروفیشنل فوٹو گرافر کو ساتھ لیجانا ہر گز نہیں بھولتے۔ 

مزید :

رائے -کالم -