چھینک اور بھیک

 چھینک اور بھیک
 چھینک اور بھیک

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


 فرمایا ہے کہ وزیراعظم اسلامیہ جمہوریہ پاکستان شہباز شریف نے کہ اب تو چھینک بھی آئی ایم ایف سے پوچھ کر مارنی پڑتی ہے۔ کیا سچی بات کی ہے ایسے موسم میں کہ جب عمران خان مسلسل یہ کہہ رہے ہیں کہ موجودہ امپورٹڈ حکومت امریکہ اور آئی ایم ایف کی غلام ہے،شہباز شریف نے کھل کر کہہ دیا ہے کہ چھینک مارنے کے لئے بھی پہلے آئی ایم ایف کے ہیڈ کوارٹر فون کرنا پڑتا  ہے۔حقیقت تو تسلیم کر لینا ہی اچھی بات ہوتی ہے کیونکہ اس کے بعد ہی کوئی  بچنے کی راہ نکل سکتی ہے،ایک طرف ہم بھیگ مانگیں اور دوسری طرف آنکھیں دکھائیں تو یہ کام ایک وقت میں نہیں ہو سکتے،اس بار آئی ایم ایف نے جو ہمارے کس بل نکالے ہیں،اُس سے اندازہ ہو گیا ہے کہ ہماری بساط اور اوقات کیا ہے بس ناک سے لکیریں نہیں نکلوائیں باقی سب کچھ کیا ہے، اب اگر کوئی کہے کہ یہ اس حکومت کا کیا دھرا ہے،اسے آئی ایم ایف کے سامنے ڈٹ جانا چاہیے تھا تو یہ مولا جٹ کی بڑھک تو ہو سکتی ہے،اس کا زمینی حقائق سے کوئی تعلق نہیں، آئی ایم ایف کے پاس جانا ہماری مجبوری ہے کیونکہ ہمارا حال ’پلے نئیں دھیلہ تے کر دی میلہ میلہ‘ جیسا ہے۔ہمارے الللے تللے اور عیاشیاں ختم نہیں ہوتیں، ٹیکس ہم دیتے نہیں،حکومت جس پر ٹیکس لگاتی ہے وہ سڑکوں پر آ جاتا ہے،گھوم پھر کر جی ایس ٹی ہی ایک ایسا ٹیکس ہے جو بلواسطہ طور پر سب ادا کرتے ہیں،غریب بھی اتنا ہی جتنا کہ امیر کیونکہ یہ اشیاء کے ذریعے وصول کیا جاتا ہے۔ جب ہم نے بحیثیت قوم یہ فیصلہ کر لیا ہے کہ پلے سے دینا کچھ نہیں مگر ہر سہولت بھی لینی ہے تو پھر خزانہ کیسے بھر سکتا ہے،خزانہ نہیں بھرے گا تو ملک کیسے چلے گا،ملک چلانے کے لئے زرمبادلہ کی ضرورت ہوتی ہے وہ ہمیشہ ہماری طلب کے مقابلے میں کم رہتا ہے،اس لئے بیرونی امداد کی ضرورت پڑتی ہے، یہ امداد آئی ایم ایف جیسے ادارے دیتے ہیں، پہلے تو دِل کھل کر دے دیتے تھے، اب انہوں نے بنئے جیسی عادت اپنا لی ہے، پہلے اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ قرض واپس بھی ملے گا یا نہیں،اُس کے بعد مٹھی کھولتے ہیں۔


اس بار تو واقعی سب نے سُکھ کا سانس لیا ہے کہ آئی ایم ایف نے اپنا پروگرام جاری کرنے کی منظوری دے دی ہے جو لوگ اس پر یہ کہ رہے ہیں کہ قرض ملنے پر خوشیاں کیوں منائی جا رہی ہیں  وہ یہ بھی بتا دیں کہ اس کے متبادل ہمارے پاس کیا راستہ تھا،ایک آئی ایم ایف کے انکار نے ساری دنیا کو ہماری جانب سے رخ موڑنے پر مجبور کر دیا تھا،کوئی بھی قرض دینے کو تیار نہیں تھا،ہم وہ قوم ہیں جو درآمدات کے بغیر نہیں رہ سکتی۔ہمیں بیرون ملک سے آئی ہوئی اشیاء بھاتی ہیں،کسی نے یہ نہیں کہا کہ ایک سال کے لئے ہر قسم کی درآمدات روک دی جائیں،حالت یہ ہے کہ لگژری آئٹمز کی درآمد پر پابندی لگائی تو دوماہ میں ہی حکومت پر اتنا دباؤ بڑھا کہ پابندی ہٹانا پڑی،ویسے تو یہ بڑا پرکشش نعرہ ہے آئی ایم ایف کی غلامی قبول نہیں مگر اس کے لئے جو جذبہئ ایثار قربانی چاہیے وہ کہیں نظر نہیں آتا، عمران خان نے جاتے جاتے آئی ایم ایف سے جو روگردانی کی وہ شاید انہیں کچھ فائدہ پہنچا گئی ہو لیکن ملک کا اس نے کباڑہ کر دیا۔دنیا میں تیل مہنگا ہورہا تھا،پاکستان میں سستا بیچتے رہے، صرف اس لئے کہ نظر آ رہا تھا اب حکومت ختم ہو رہی ہے۔ارے بابا ملک کے بارے میں سوچتے ہیں اپنے مفاد کے بارے میں نہیں،اب کیا ہو رہا ہے،حکومت اسی خسارے کو پورا کرنے کے لیے ہاتھ پاؤں مار رہی ہے،خسارہ ہے کہ پورا ہونے کا نام نہیں لے رہا،ہمارے سیاست دانوں کو چاہیے کہ کچھ حقیقتوں کو تسلیم کر لیں،ملک کی سب سے بڑی حقیقت یہ ہے کہ ہماری معیشت قرضوں پر کھڑی ہے۔2018ء میں جب تحریک انصاف برسر اقتدار آئی تھی تو سب سے بڑی غلطی یہی ہوئی تھی کہ اُس نے بلا سوچے سمجھے خود انحصاری کا نعرہ لگا دیا تھا۔یہ نعرہ اچھا ہے اور پُرکشش بھی لیکن زمینی حالات موافق نہ ہوں تو یہی نعرہ گلے پڑ جاتا ہے جیسا کہ تحریک انصاف کے گلے پڑا اور وہ اگلے ساڑھے تین سال تک آئی ایم ایف کے پاس نہ جانے کے اُس فیصلے کا نتیجہ بھگتتی رہی جو اُس نے بلاسوچے سمجھے اور بغیر کسی منصوبہ بندی کے کیا۔اُس وقت آئی ایم ایف نے اس  انکار کا پاکستان کو مزا چکھایا تھا اور اب بھی معاہدہ توڑنے پر چکھایا ہے۔


پاکستان میں آئی ایم ایف سے معاہدوں پر سیاست کی جاتی ہے حالانکہ سبھی حکومتوں نے آئی ایم ایف سے معاہدے کیے ہیں۔تحریک انصاف نے جب آئی ایم ایف سے بعداز خرابیئ بسیار سخت شرائط پر معاہدہ کیا تو اُس پر اُس وقت کی اپوزیشن جماعتوں نے جو اقتدار میں ہیں، سخت تنقید کی حالانکہ سب کو معلوم تھا کہ آئی ایم ایف سے معاہدہ ہوتا ہی کڑی شرائط پر ہے۔اُس وقت عمران خان کی حکومت سخت معاشی دباؤ میں تھی،مختلف ممالک سے قرضہ لے کر ملک کو چلایا جا رہا تھا بہرحال وہ پروگرام مل گیا اور تین سال کا معاہدہ ہو گیا جس میں چھ ارب ڈالر ملنے تھے۔ اب معاہدے کا مطلب تو یہی ہوتا ہے کہ ہر چیز پر عملدرآمد کیا جائے ایسا تو نہیں ہو سکتا کہ آپ ملک میں سیاسی حالات کی وجہ سے معاہدہ ہی توڑ دیں یا اُس کی شقوں پر عمل نہ کریں۔عمران خان مشکل میں آئے تو انہوں نے معاہدے کے مطابق تیل کی قیمتوں میں اضافے کی بجائے انہیں ایک جگہ منجمد کر دیا،مقصد یہی تھا کہ ایک طرف عوام کو ریلیف دے کر اپنے حق میں کیا جائے اور دوسری طرف اگر حکومت جاتی ہے تو آنے والوں کے لئے مشکلات کھڑی کی جائیں۔یہ ایک نامناسب سوچ تھی، ملک کے لئے اس طرح نہیں سوچا جا سکتا کیونکہ جب عالمی معاہدے ہوتے ہیں تو وہ حکومت کے ساتھ نہیں ریاست کے ساتھ ہوتے ہیں اور اُن پر عمل کرنا ضروری ہوتا ہے۔عمران خان آج بھی جلسوں میں کہتے ہیں کہ ہم نے آئی ایم ایف کا دباؤ قبول نہیں کیا اور عوام کو سستا پٹرول دیا،

حالانکہ اگر انہیں معلوم ہوتا کہ اُن کی حکومت کہیں نہیں جا رہی تو وہ ایسا ہر گز نہ کرتے کیونکہ پھر انہیں آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے پر عملدرآمد کر کے اگلی قسط حاصل کرنی تھی۔ اگر کوئی حکومت ماضی یا حال میں یہ دعویٰ کرتی ہے کہ اُس نے آئی ایم ایف سے معاہدہ اچھی شرائط پر کیا ہے تو وہ جھوٹ بولتی ہے، آئی ایم ایف کی اپنی شرائط ہوتی ہیں اور وہ اُن پر عمل کراتا ہے، مانگنے والوں کے پاس فیصلہ کرنے کی گنجائش نہیں ہوتی۔اس بار آئی ایم ایف نے جس طر ہمیں گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا یہ ہمارے لئے بحیثیت قوم شرم کی بات ہے مگر اس کے سوا ہمارے پاس راستہ ہی کیا ہے؟ ہمارے حکمرانوں،سیاست دانوں، اسٹیبلشمنٹ غرض کسی نے بھی کبھی خود انحصاری کے بارے میں نہیں سوچا،سب نے وقت گزارا ہے اور قرض کی مے پی کر مدہوشی کے عالم میں سب اچھا ہے کی گردان ہی کی ہے۔شہباز شریف نے ایک دعا بھی مانگی ہے کہ کاش یہ آئی ایم ایف کا پروگرام آخری ہو مگر صاحبو! یہ آخری کیسے ہو سکتا ہے،قوم نے فیصلہ کیا ہے کہ یہ آخری پروگرام ہو، اس ملک کے اربوں کھربوں لوگوں نے یہ طے کیا ہے کہ اب ملک کو آئی ایم ایف کے پاس نہیں جانے دینا۔بدلے گا تو کچھ بھی نہیں پھر یہ ملک خوشحال کیسے ہو جائے گا،اتنا خوش حال کہ اسے کاسہ لے کر آئی ایم ایف کے پاس نہ جانا پڑے اور بھیک نہ مانگنی پڑے۔

مزید :

رائے -کالم -