جعلی خبروں کا پھیلاؤ افسوسناک، عوام کو درست معلومات دینا ہوں گی: پروفیسر نیاز

جعلی خبروں کا پھیلاؤ افسوسناک، عوام کو درست معلومات دینا ہوں گی: پروفیسر ...

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


       لاہور(لیڈی رپورٹر)پنجاب یونیورسٹی ڈیپارٹمنٹ آف ڈیجیٹل میڈیا اور نیشنل پریس ٹرسٹ کے مابین ڈیجیٹل میڈیا لٹریسی کو فروغ دینے اور صحافت کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے مشترکہ طور پر تربیتی و تعلیمی ترقیاتی پروگرام منعقد کرانے کیلئے معاہدہ طے پا گیا۔ اس سلسلے میں مفاہمتی یاداشت پر دستخط کی تقریب وائس چانسلر آفس کے کمیٹی روم میں  ہوئی۔ اس موقع پر وائس چانسلر پنجاب یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر نیاز احمداختر، چیئرمین نیشنل پریس ٹرسٹ منیر احمد خان، چیئرپرسن شعبہ ڈیجیٹل میڈیا پروفیسر ڈاکٹر سویرا شامی، فیکلٹی ممبران ڈاکٹر عائشہ اشفاق، ڈاکٹر شازیہ اسماعیل طور، مدیحہ مقصود و دیگر نے شرکت کی۔اپنے خطاب میں پروفیسر ڈاکٹر نیاز احمد نے کہا کہ سوشل میڈیا کے موجودہ دور میں میڈیا کو جن مسائل کا سامنا ہے ان میں جعلی خبروں کا پھیلاؤ سب سے اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ صحافت کے اعلیٰ معیار کو برقرار رکھنے کے لیے عوام کو درست معلومات کی فراہمی ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ بڑھتی ہوئی میڈیا انڈسٹری کی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے یونیورسٹی نے سکول آف کمیونیکیشن سٹڈیز کو اپ گریڈ کیا ہے اور مارکیٹ کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے چھ نئے شعبہ جات قائم کیے ہیں انہوں نے معاہدے کیلئے پروفیسر ڈاکٹر سویرا شامی اور منیر احمد خان کی کاوشوں کو سراہا۔ منیر خان نے کہا کہ پنجاب یونیورسٹی ڈیجیٹل میڈیا کے ساتھ مل کر جعلی خبروں کو روکنے کے لیے لا ئحہ عمل تیار کرنے کی کوشش کریں گے۔ پروفیسر ڈاکٹر سویرا شامی نے کہا کہ فریقین میڈیا کی تعلیم کو فروغ دینے اور جعلی خبروں کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے بھرپور اقدامات کریں گے۔  انہوں نے کہا کہ ڈی ڈی ایم اور این پی ٹی مشترکہ طور پر مختلف تحقیقی اور ترقیاتی پرو گرا مو ں پر بھی کام کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ڈی ڈی ایم ڈیجیٹل میڈیا خواندگی کے بارے میں بیداری پیدا کرنے کے لیے تعلیم کی متعلقہ سطحوں پر متعلقہ نصاب متعارف کرانے کی کوشش کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ معاہدے کے تحت فیکلٹی اور طلباء اس مقصد کے لیے کم از کم پندرہ ڈیجیٹل میڈیا آئٹمز زاورمواد ہر ماہ تیار کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس پروجیکٹ کے تحت ڈی ڈی ایم کے طلباء کو انٹرن شپ اور ملازمت کے مواقع بھی فراہم کیے جائیں گے۔