سیلاب متاثرین کی امداد کیلئے یونین کونسل کی سطح پر کمیٹیاں قائم 

سیلاب متاثرین کی امداد کیلئے یونین کونسل کی سطح پر کمیٹیاں قائم 

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


        لاہور(جنرل رپورٹر)صوبائی وزیر بلدیات میاں محمود الرشید نے کہا ہے کہ حالیہ سیلاب اور بارشوں سے جنوبی پنجاب کے اضلاع میں 8لاکھ 99ہزار 350ایکڑ رقبہ متاثر ہوا ہے جبکہ 40 افرادسیلابی ریلے سے اور37افراد مکان گرنے سے جاں بحق ہوئے۔ 141افراد شدید زخمی اور 2009افراد معمولی زخمی ہوئے۔جنوبی پنجاب میں سیلاب سے 390بڑے جانور اور 1136چھوٹے جانور سیلاب کی نظر ہو گئے۔صوبائی وزیر بلدیات میاں محمودالرشید نے  ڈی جی پی آر آفس میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ  وزیر اعلیٰ پنجاب کے امدادی پیکیج کے تحت سیلاب سے فوت ہونے والے ہر فرد کے اہل خانہ کو 10لاکھ جبکہ زخمی فرد کے اہل خانہ کو3لاکھ روپے دیئے جارہے ہیں۔ سیلاب سے متاثرہ رقبے کا سروے کیا جارہا ہے اور سروے مکمل ہونے پر  متاثرین میں امدادی رقم کی تقسیم شروع کر دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ بلدیات کے 235ڈی واٹر نگ سیٹ، 122ٹریکٹر ٹرالیاں،13سکر مشینیں، 41جنریٹرز اور52عارضی ڈسپوزل سٹیشن امدادی سرگرمیوں میں مصروف عمل ہیں۔صوبائی وزیر بلدیات نے کہا کہ پنجاب حکومت نے یونین کونسل کی سطح پر امدادی سرگرمیوں کے لئے کمیٹیاں بنا دی ہیں ان کمیٹیوں میں سیکرٹری یونین کونسل، امام مسجد اور عوامی نمائندے کو شامل کیا گیا ہے۔ امدادی رقم کی ایک ایک پائی شفاف طریقے سے حقداروں تک پہنچائی جائے گی۔سیلابی پانی اترنے کے بعد بحالی کا مرحلہ شروع ہوگا۔پہلے سیلاب سے متاثرہ سڑکوں، پلوں، گزرگاہوں اور انفراسٹرکچر کو بحال کیا جائے گا اورمتعلقہ محکمے مل کر سیلاب متاثرین کو ریلیف کی فراہمی اور بحالی کا عمل مکمل کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ میں آج دوبارہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کرکے صورتحال کا جائزہ لوں گا۔آج امدادی سامان کے 10 ٹرک سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں بھجوائے جارہے ہیں جبکہ ایک ہزار گیس کے چولہے سیلاب متاثرین میں تقسیم کیے جائیں گے اسی طرح سلے ہوئے کپڑوں کے سیٹ بھی متاثرہ علاقوں میں بھجوائے جارہے ہیں۔میاں محمود الرشید نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے 3گھنٹے میں ٹیلی تھون کے ذریعے سیلاب زدگان کی مدد کے لئے 5 ارب روپے اکٹھے کیے ہیں۔جو عوام کا ان قیادت پر بھر پور اعتماد کا مظہر ہے۔انہوں نے کہا کہ پہلے سیلاب زدگان کی بحالی کا عمل مکمل ہوگا پھر سیاست ہوگی۔ پنجاب میں بلدیاتی انتخابات اْس ایکٹ کے تحت ہوں گے جس پر حکومتی ارکان اور اپوزیشن متفق تھے۔

 اورراتوں رات پاس ہونے والے ایکٹ کے تحت کسی صورت بلدیاتی انتخابات نہیں ہوں گے۔صوبائی وزیر نے کہا کہ رجیم چینج آپریشن کی سزا پوری قوم بھگت رہی ہے۔ اسی لیے شفاف اور فوری انتخابات پوری قوم کا مطالبہ ہے۔ ابتدائی طور پر وفاقی حکومت پنجاب کے سیلاب زدہ علاقوں میں کہیں نظر نہیں آئی، اب فوٹو سیشن ہورہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مشکل میں گھرے سیلاب زدگان کی مدد ہر ایک کی ذمہ داری ہے۔ سیلاب متاثرہ افراد کو مشکلات سے نکالنے کے لئے ہم سب کو ملکرکام کرنا ہے۔