جامعہ اشرفیہ میں ختم نبوت و استحکام پاکستان کانفرنس6ستمبرکو ہوگی

جامعہ اشرفیہ میں ختم نبوت و استحکام پاکستان کانفرنس6ستمبرکو ہوگی

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


لاہور (پ ر)7ستمبر 1974کو لاہوری وقادیانی مرزائیوں کو پارلیمنٹ کے فلور پر بھٹو مرحوم کے دور اقتدار میں غیر مسلم اقلیت قرار دیئے جانے کے تاریخی اور عظیم الشان فیصلے کی یاد میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ملک بھر میں عشرہ ختم نبوت جوش و خروش کے ساتھ منایا جایا جارہا ہے اور ملک بھر میں مختلف مقامات پر کانفرنسیں کی جارہی ہیں۔ اسی مناسبت سے 6ستمبر بروز منگل کو جامعہ اشرفیہ لاہور میں ایک عظیم الشان ختم نبوت واستحکام پاکستان کانفرنس کی جاری ہے۔ کانفرنس کی تیاری کے حوالے سے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی رہنما مولانا عزیز الرحمن ثانی، مولانا علیم الدین شاکر، قاری جمیل الرحمن اختر، مولانا عبدالنعیم، مولانا حافظ محمداشرف گجر، مولانا عبدالعزیز، مولانا سعید وقار ودیگر علماء نے جمعہ کے اجتماعات سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عقیدہ ختم نبوتؐ اسلامی تعلیمات کی اساس، امت میں اتحاد کی فضا قائم کرنے کے لیے مینارہ نور ہے۔ 

 کسی شخص کو انسانی حقوق اور مذہبی آزادی کی آڑ میں گستاخی رسول کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔قادیانیوں کو غیرمسلم اقلیت قرار دیا جاناپاکستان کی نیشنل اسمبلی کا جرأت مندانہ فیصلہ ہے۔مولانا مفتی محمود،مولانا غلام غوث ہزاروی،مولانا شاہ احمدنورانی،پروفیسرغفوراحمد،چوہدری ظہور الٰہی،بھٹومرحوم اورانکی پوری کابینہ نے قادیانیوں کے دونوں گروہوں غیرمسلم اقلیت قرار دے کر امت مسلمہ کی ترجمانی کا حق اداکردیا ہے۔قادیانیوں کے بارے میں فیصلہ پوری قوم کا فیصلہ ہے۔۷ ستمبر کا دن یوم تجدید عہدکا دن ہے۔ پوری دنیا میں مغربی ایجنڈا مسلط کرنے اور قادیانیت کے پھیلاؤ میں علمائے کرام سب سے بڑی رکاوٹ ہیں جس کی وجہ سے اسلام پسند تحریکوں کو پوری دنیا میں مطعون ومرعوب کیا جا رہا ہے۔ ناموس رسالت کا تحفظ کرنا قربت خداوندی اور نجات اخروی حاصل کرنے کے مترادف ہے،جب تک اس دھرتی پر ایک بھی قادیانی موجود ہے ہماری تحریک جاری رہے گی،قادیانیوں کی غیر مسلم اقلیت قرار دلوانا مجاہدین ختم نبوت اور اراکین پارلیمنٹ کا تاریخی کارنامہ ہے ملک عزیزکی جغرافیائی سرحدوں کے ساتھ ساتھ نظریاتی سرحدوں کی حفاظت بھی ضروری ہے۔ہم ۱۹۷۳ء کے آئین کی دفاع کی جنگ لڑ کر ملک کی نظریاتی سرحدوں کی حفاظت کر رہے ہیں مدارس ملک عزیز کی نظریاتی سرحدوں کے محافظ ہیں علماء اور طلبا ملک کی جغرافیائی اور نظریاتی سرحدوں کی طرف کسی دشمن کو میلی آنکھ سے نہیں دیکھنے دینگے، قوانین ختم نبوت اور ناموس رسالت پر کسی کو شب کون مارنے کی اجازت نہیں دینگے،انکی حفاظت ہمارے ایمان کا حصہ ہے خطبات جمعہ میں علماء عوام سے اس بات کا عہد لیا کہ وہ ختم نبوت واستحکام پاکستان کانفرنس جامعہ اشرفیہ میں بھرپور انداز میں شریک ہوں۔