مجھے زہر دیکر یا کسی اور طریقے سے قتل کیا جا سکتا ہے، حلیم عادل

مجھے زہر دیکر یا کسی اور طریقے سے قتل کیا جا سکتا ہے، حلیم عادل

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


کراچی (این این آئی)قائد حزب اختلاف سندھ حلیم عادل شیخ کو بغیر کسی اطلاع اور قانونی ٹیم کو بتائے بغیر ملیر ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ میں ایڈیشنل جج نمبر کی عدالت میں پیش کیا گیا۔اینٹی انکروچمنٹ پولیس نے ریمانڈ کی استدعا مسترد ہونے کے بعد دوبارہ اپیل دائر کی تھی جس پر عدالت نے سماعت (آج)ہفتہ 12بجے تک ملتوی کر دی اس موقعہ پر حلیم عادل شیخ کی قانونی ٹیم سابق جسٹس نور الحق قریشی، ایڈووکیٹ اشرف سمون، ایڈووکیٹ رحمان ڈنو مہیسر، ایڈووکیٹ بھگوانداس بھیل، ایڈووکیٹ ملک الطاف و دیگر وکلا اور پارٹی کے کارکنان بھی ملیر کی عدالت میں پہنچے۔ عدالت میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے قائد حزب اختلاف سندھ حلیم عادل شیخ نے کہا 12 دن ہوگئے ہیں ،عدالت کے احکامات کے باوجود علاج نہیں کروایا جارہا ہے،میرے ساتھ غیر انسانی سلوک کیا جارہا ہے جیل میں مجھے دہشتگردوں کے وارڈ میں رکھا گیا ہے اینٹی انکروچمنٹ فورس چوروں کی فورس ہے جو مجھے جھوٹے کیس میں ڈالا ہے آج چوروں کی طرح مجھے عدالت لاکر ریمانڈ لینے کی کوشش کی گئی تاکہ میرا ریمانڈ لیکر مجھ پر مزید تشدد کیا جا سکے سندھ بھر میں سیلابی صورتحال ہے مجھے اس لئے قید کروایا گیا تاکہ میں عوام کی آواز نہ بنوں اور ان چوروں کو بے نقاب نہ کروں میں یہ بات ریکارڈ پر لانا چاہتا ہوں مجھے زہر دیکر یا کسی دوسری طریقے سے قتل کیا جا سکتا ہے  مجھے قتل کرانے سے ان کو فائدہ نہیں پہنچے گا کیونکہ میری پوری پارٹی اور فیملی حق اور سچ کی راہ پر ہے۔
حلیم عادل

مزید :

کامرس -