خواتین سے امدادی رقوم ہتھیانے والے 140 ملزمان گرفتار

    خواتین سے امدادی رقوم ہتھیانے والے 140 ملزمان گرفتار

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


کراچی(اسٹاف رپورٹر)سندھ کے 22 اضلاع اور 111 تحصیلوں میں بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (BISP) کے ذریعے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کی خواتین کے لیے خصوصی گرانٹس تقسیم کا آغاز ہوچکا ہے۔اس تناظر میں آئی جی پی سندھ نے ہدایت کی ہے کہ سندھ کے تمام اضلاع میں قائم بی آئی ایس پی مراکز پر سیکیورٹی کے غیر معمولی اقدامات کیئے جائیں تاکہ امدادی رقوم کی وصولی کے لیئے آنیوالی مستحق اور سادہ لوح خواتین کو جرائم پیشہ/ایجنٹ مافیا سے محفوظ رکھا جاسکے۔انہوں نے مذید کہا کہ اس مقصد کے لیئے خواتین پولیس اہلکاروں کو بھی خصوصی ذمہ داریاں تفویض کی جائیں اورجن اضلاع میں خواتین پولیس اہلکار افرادی قوت میں کم ہیں ان اضلاع میں ضلعی انتظامیہ کے تعاون سے لیڈی ہیلتھ ورکرز کو تعینات کیا جائے۔انہوں نے پولیس کو ہدایات جاری کی ہیں کہ امدادی رقوم کے حصول میں مستحق خواتین سے کمیشن وصول کرنیوالوں یا جعلسازی/دھوکہ دہی سے رقم ہتھیانے والوں کے خلاف سخت قانونی کاروائی کو یقینی بنایا جائے اور انھیں باقاعدہ گرفتار کرکے انکے خلاف ایف آئی آرز درج کی جائیں۔آئی جی سندھ کے واضح احکامات پر عمل درآمد کرتے ہوئے پولیس نے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں بینظیرانکم سپورٹ پروگرام کے تحت  امدادی رقوم حاصل کرنیوالی خواتین  سے رقوم ہتھیانے اور کمیشن وصولی میں ملوث 202 نامزد ملزمان میں سے 140 ملزمان کو پولیس نے گرفتار کرکے باقاعدہ 93 کیسز درج کرلیئے ہیں۔تفصیلات کے مطابق حیدرآباد پولیس نے 22 ایف آئی آرز کے تحت نامزد 64 میں سے 29 ملزمان، میرپورخاص پولیس نے 19 ایف آئی آرز کے تحت نامزد 33 ملزمان،شہیدبینظیر آباد پولیس نے 19 کیسز میں نامزد 30 میں سے 24ملزمان، سکھر پولیس نے 24 کیسز کے تحت 54 نامزد ملازمان میں سے 40 ملزمان جبکہ لاڑکانہ پولیس نے 09 ایف آئی آرز کے تحت 21 نامزد ملزمان میں سے 14 ملزمان کو گرفتار کرکے تفتیش کا آغازکردیا ہے۔